اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے
میں بہہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے
میں اور میری طرح تُو بھی اک حقیقت ہے
پھر اس کے بعد جو بچتا ہے وہ کہانی ہے
نواحِ جاں میں بھٹکتی ہیں خوشبوئیں جس کی
وہ ایک پُھول ⁕ کہ لگتا ہے رات رانی ہے
تِرے وجود میں کچھ ہے جو اس زمیں کا نہیں
تِرے خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے
ذرا بھی دخل نہیں اس میں ان ہواؤں کا
ہمیں تو مصلحتاً اپنی خاک اُڑانی ہے
ابھیشیک شکلا
No comments:
Post a Comment