حسن کو حسن کی تزئین کہوں
عشق بیچارے کو مسکین کہوں
سرخروئی ہو محبت کو عطا
تم دعا مانگو، میں آمین کہوں
مفتئِ دل کی اجازت ہو اگر
مسلکِ عشق کو بھی دین کہوں
تجھ سے ان بن ہی سہی راحتِ جاں
کیوں تِری بزم کو غمگین کہوں
زخم دے کر ہی اگر خوش ہیں آپ
اس عنایت کو بھی تسکین کہوں
تھک کے سو جائیں اگر ان میں خواب
جاگتی آنکھوں کی توہین کہوں
گو کہ سادہ ہے بہت حُسن تِرا
دل کی منشا ہے کہ رنگین کہوں
تیرے ہر وار پہ اے دشمنِ جاں
داد دوں، لائقِ تحسین کہوں
متحد ہو کے اگر ٹوٹ پڑیں
فاختاؤں کو بھی شاہین کہوں
جاوید اکرم
No comments:
Post a Comment