Friday, 16 July 2021

حسن کو حسن کی تزئین کہوں

حسن کو حسن کی تزئین کہوں

عشق بیچارے کو مسکین کہوں

سرخروئی ہو محبت کو عطا

تم دعا مانگو، میں آمین کہوں

مفتئِ دل کی اجازت ہو اگر

مسلکِ عشق کو بھی دین کہوں

تجھ سے ان بن ہی سہی راحتِ جاں

کیوں تِری بزم کو غمگین کہوں

زخم دے کر ہی اگر خوش ہیں آپ

اس عنایت کو بھی تسکین کہوں

تھک کے سو جائیں اگر ان میں خواب

جاگتی آنکھوں کی توہین کہوں

گو کہ سادہ ہے بہت حُسن تِرا

دل کی منشا ہے کہ رنگین کہوں

تیرے ہر وار پہ اے دشمنِ جاں

داد دوں، لائقِ تحسین کہوں

متحد ہو کے اگر ٹوٹ پڑیں

فاختاؤں کو بھی شاہین کہوں


جاوید اکرم

No comments:

Post a Comment