Friday, 16 July 2021

یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں

 یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں

بس اپنے آپ کو منظور ہو جاؤں

نصیحت کر رہی ہے عقل کب سے

کہ میں دیوانگی سے دور ہو جاؤں

نہ بولوں سچ تو کیسا آئینہ میں

جو بولوں سچ تو چکنا چور ہو جاؤں

ہے میرے ہاتھ میں جب ہاتھ تیرا

عجب کیا ہے جو میں مغرور ہو جاؤں

بہانہ کوئی تو اے زندگی دے

کہ جینے کے لیے مجبور ہو جاؤں

سرابوں سے مجھے سیراب کر دے

نشے میں تشنگی کے چور ہو جاؤں

مِرے اندر سے گر دنیا نکل جائے

میں اپنے آپ میں بھرپور ہو جاؤں​


راجیش ریڈی

No comments:

Post a Comment