پیچھے مُڑ
پریڈ میں پیچھے مڑ بولتے ہیں
پہلا آدمی، آخری
اور
آخری آدمی پہلے
نمبر پر آ جاتا ہے
جیون میں کبھی
پیچھے مُڑ
پریڈ میں پیچھے مڑ بولتے ہیں
پہلا آدمی، آخری
اور
آخری آدمی پہلے
نمبر پر آ جاتا ہے
جیون میں کبھی
نظیر پیش کرو،۔ اور گواہ لے آؤ
کریں گے پھر کبھی فرصت میں فیصلہ باقی
کوئی دلیل تو لاؤ، کوئی وکیل کرو
نکال بھی دو جو ہے جیب میں رہا باقی
یہ ضمنیاں یہ سمن، روبکار اور وارنٹ
نہ جانے اس کی پٹاری میں اور کیا باقی
فصل گل چھوڑ کے ہم لوگ کہاں آ نکلے
دشت وحشت میں کہیں کوئی تو ہم سا نکلے
سارا منظر ہی ابھی پردہ اوہام میں ہے
اک ذرا دھند چھٹے دیکھیۓ کیا کیا نکلے
دشت و صحرا میں پھراتی رہی آشفتہ سری
ہم کہاں کے لیے نکلے تھے کہاں جا نکلے
چشم حیراں میں جو حیرانی بسا رکھی ہے
ایک تصویر ہے دنیا سے چھپا رکھی ہے
وصل کی شب میں چراغوں کا تکلف کیسا
آج مہماں تیرے آنچل کی ہوا رکھی ہے
اک شبِ ہجر جو کاٹے نہیں کٹتی ہم سے
اک شبِ وصل جو وعدے پہ اٹھا رکھی ہے
پاس اب کوئی ہم نشیں بھی نہیں
کوئی بھی تو نہیں، کہیں بھی نہیں
آپ سا کوئی نازنیں بھی نہیں
اور جھکانے کو وہ جبیں بھی نہیں
کس سے اب گھر کا راستا پوچھیں
اب تیرے نقشِ پا کہیں بھی نہیں