Showing posts with label طاہر زیدی. Show all posts
Showing posts with label طاہر زیدی. Show all posts

Saturday, 1 October 2022

پریڈ میں پیچھے مڑ بولتے ہیں

پیچھے مُڑ


پریڈ میں پیچھے مڑ بولتے ہیں

پہلا آدمی، آخری

اور

آخری آدمی پہلے

نمبر پر آ جاتا ہے

جیون میں کبھی

Tuesday, 8 March 2022

کریں گے پھر کبھی فرصت میں فیصلہ باقی

 نظیر پیش کرو،۔ اور گواہ لے آؤ 

کریں گے پھر کبھی فرصت میں فیصلہ باقی 

کوئی دلیل تو لاؤ، کوئی وکیل کرو 

نکال بھی دو جو ہے جیب میں رہا باقی 

یہ ضمنیاں یہ سمن، روبکار اور وارنٹ

نہ جانے اس کی  پٹاری میں اور کیا باقی 

Saturday, 5 March 2022

فصل گل چھوڑ کے ہم لوگ کہاں آ نکلے

فصل گل چھوڑ کے ہم لوگ کہاں آ نکلے

دشت وحشت میں کہیں کوئی تو ہم سا نکلے 

سارا منظر ہی ابھی پردہ اوہام میں ہے 

اک ذرا دھند چھٹے دیکھیۓ کیا کیا نکلے 

دشت و صحرا میں پھراتی رہی آشفتہ سری 

ہم کہاں کے لیے نکلے تھے کہاں جا نکلے

Thursday, 3 March 2022

چشم حیراں میں جو حیرانی بسا رکھی ہے

 چشم حیراں میں جو حیرانی بسا رکھی ہے 

ایک تصویر ہے دنیا سے چھپا رکھی ہے 

وصل کی شب میں چراغوں کا تکلف کیسا

آج مہماں تیرے آنچل کی ہوا رکھی ہے 

اک شبِ ہجر جو کاٹے نہیں کٹتی ہم سے 

اک شبِ وصل جو وعدے پہ اٹھا رکھی ہے 

Friday, 25 June 2021

پاس اب کوئی ہمنشیں بھی نہیں

 پاس اب کوئی ہم نشیں بھی نہیں

کوئی بھی تو نہیں، کہیں بھی نہیں

آپ سا کوئی نازنیں بھی نہیں

اور جھکانے کو وہ جبیں بھی نہیں

کس سے اب گھر کا راستا پوچھیں

اب تیرے نقشِ پا کہیں بھی نہیں