عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلبِ مضطر کو ملے چین اے شاہِ کونین
ہو کرم صدقۂ سبطین اے شاہِ کونینﷺ
میرا ہر دن بھی گزرتا ہے تری یادوں میں
ہجر میں روتی ہے ہر رین اے شاہِ کونین
مانگتے رہتے ہیں نظارہ طیبہ ہر دم
میرے یہ ترسے ہوئے نین اے شاہِ کونین
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلبِ مضطر کو ملے چین اے شاہِ کونین
ہو کرم صدقۂ سبطین اے شاہِ کونینﷺ
میرا ہر دن بھی گزرتا ہے تری یادوں میں
ہجر میں روتی ہے ہر رین اے شاہِ کونین
مانگتے رہتے ہیں نظارہ طیبہ ہر دم
میرے یہ ترسے ہوئے نین اے شاہِ کونین
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینے کو جا کر جو ہم دیکھتے ہیں
برستا خدا کا کرم دیکھتے ہیں
یہ ہے فیض اُن کی نگاہِ کرم کا
صحابہؓ کو ہم محترم دیکھتے ہیں
مدینے کو دیکھا جو حسنِ نظر سے
لگا جیسے جنّت کو ہم دیکھتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سر پر ہمارے سایۂ ذی شانِ نعت ہے
حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے
رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر
مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے
جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گئی
نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فن اگر تائب سا اور تاثیر مظہر سی مِلے
نعت کے لفظوں سے کیوں خوشبو نہ عنبر سی ملے
چُوم لیتا ہوں تصور میں ہر ایسی آنکھ کو
جو کہ دیدارِ مدینہ کے لیے ترسی ملے
سامنے ہر پل رہے چوکھٹ رسول اللہؐ کی
غیر ممکن ہے، کہیں خیرات اس در سی ملے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مٹا دئیے برے رسم و رواج حضرتؐ نے
بدل کے رکھ دیا سارا سماج حضرت نے
مطیع ہو گیا، جس پر نگاہ لطف پڑی
کیا ہے سلطنتِ دل پہ راج حضرت نے
کمی نہ آئے گی خوشبو میں صبحِ محشر تک
کھلائے ایسے گلوں کے مزاج حضرت نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر تصور نے مجھ پہ یہ احساں کیا
پھر وہ جالی، وہ مینار یاد آ گئے
دیکھنا سبز گنبد کو بھر کے نظر
سارے منظر وہ یکبار یاد آ گئے
پھر حضوری کو یہ دل مچلنے لگا
طواف کعبہ کے انوار یاد آ گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھلا کس دن نہ تھا، کس شب نہیں تھا
کرم میرے نبیﷺ کا کب نہیں تھا
گواہی دے رہے تھے سنگریزے
جوازِ کُفرِ بُو جہل اب نہیں تھا
سواری کو برّاق آیا جِناں سے
وہ کوئی عام سا مرکب نہیں تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیؐ کے شہر کی ٹھنڈی ہوائیں یاد آتی ہیں
وہ منظر یاد آتا ہے، فضائیں یاد آتی ہیں
حضوری کی وہ لذت اور وہ پڑھنا درود انؐ پر
جو بِن مانگے ہوئی تھیں وہ عطائیں یاد آتی ہیں
نظر گُنبد کی جانب تھی، تو دل نادم گناہوں پر
جو مانگیں آنسوؤں نے سب دعائیں یاد آتی ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ٹلیں گی پل میں سبھی مشکلیں درود پڑھیں
سحر دعاؤں میں گزرے شبیں درود پڑھیں
درودِ پاکﷺ کے صدقے خدا مدینے کی
دکھائے آپ کو بھی رونقیں درود پڑھیں
اے میرے قلبِ پریشاں ادھر ادھر نہ بھٹک
مزہ تو جب ہے تِری دھڑکنیں درود پڑھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زائرِ کوئے جناں آہستہ چل
دیکھ آیا ہے کہاں آہستہ چل
جیسے جی چاہے جہاں میں گھوم پھر
یہ مدینہ ہے یہاں آہستہ چل
بارگاہِ ناز میں آہستہ بول
ہو نہ سب کچھ رائیگاں آہستہ چل
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں مدینے سے جب آیا واپس
بس مِرا سایہ ہی لوٹا واپس
اپنے آقاﷺ پہ جاں لُٹائے بغیر
کیسے آ سکتا ہے بندہ واپس
انؐ کی مسجد میں مراقب جو ہوا
آ گیا انﷺ کا زمانہ واپس