دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا
اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا
مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح
میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا
آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس
آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا
دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا
اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا
مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح
میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا
آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس
آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا
میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے
مقتل میں رسم پاس وفا لے گئی مجھے
اندر سے کھوکھلا جو تھا بیلون کی طرح
چاہا جدھر ہوا نے اڑا لے گئی مجھے
اک حرف تھا جو تم نے سنا ان سنا کیا
اب ڈھونڈتے پھرو کہ صدا لے گئی مجھے
بادل امبر پہ نہ دھرتی پہ شجر ہے بابا
زندگی دھوپ میں صحرا کا سفر ہے بابا
تم کہاں آ گئے شیشوں کی تمنّا لے کر
یہ تو اک سنگ فروشوں کا نگر ہے بابا
ہم ہیں قید در و دیوار سے آزاد ہمیں
جس جگہ رات گزاری وہی گھر ہے بابا
کانٹے کو پھول سنگ کو گوہر کہا گیا
اس شہر میں گدا کو سکندر کہا گیا
بے چہرہ لوگ حسن کا معیار بن گئے
پرچھائیوں کو نور کا پیکر کہا گیا
جلاد کو مسیحا نفس کی سند ملی
انسان دشمنوں کو پیمبر کہا گیا
ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا
کہ میرے لب پہ وہی تھا جو میرے من میں تھا
کسک اٹھی تھی کچھ ایسی کہ چیخ چیخ پڑوں
رہا میں چپ ہی کہ بہروں کی انجمن میں تھا
الجھ کے رہ گئی جامے کی دلکشی میں نظر
اسے کسی نے نہ دیکھا جو پیرہن میں تھا