Showing posts with label نوبہار صابر. Show all posts
Showing posts with label نوبہار صابر. Show all posts

Friday, 28 August 2026

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

 دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا

مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح

میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا

آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس

آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا

Thursday, 12 March 2026

میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے

 میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے

مقتل میں رسم پاس وفا لے گئی مجھے

اندر سے کھوکھلا جو تھا بیلون کی طرح

چاہا جدھر ہوا نے اڑا لے گئی مجھے

اک حرف تھا جو تم نے سنا ان سنا کیا

اب ڈھونڈتے پھرو کہ صدا لے گئی مجھے

Saturday, 24 August 2024

بادل امبر پہ نہ دھرتی پہ شجر ہے بابا

 بادل امبر پہ نہ دھرتی پہ شجر ہے بابا

زندگی دھوپ میں صحرا کا سفر ہے بابا

تم کہاں آ گئے شیشوں کی تمنّا لے کر

یہ تو اک سنگ فروشوں کا نگر ہے بابا

ہم ہیں قید در و دیوار سے آزاد ہمیں

جس جگہ رات گزاری وہی گھر ہے بابا

Sunday, 11 August 2024

کانٹے کو پھول سنگ کو گوہر کہا گیا

 کانٹے کو پھول سنگ کو گوہر کہا گیا

اس شہر میں گدا کو سکندر کہا گیا

بے چہرہ لوگ حسن کا معیار بن گئے

پرچھائیوں کو نور کا پیکر کہا گیا

جلاد کو مسیحا نفس کی سند ملی

انسان دشمنوں کو پیمبر کہا گیا

Saturday, 10 August 2024

ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا

 ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا

کہ میرے لب پہ وہی تھا جو میرے من میں تھا

کسک اٹھی تھی کچھ ایسی کہ چیخ چیخ پڑوں

رہا میں چپ ہی کہ بہروں کی انجمن میں تھا

الجھ کے رہ گئی جامے کی دلکشی میں نظر

اسے کسی نے نہ دیکھا جو پیرہن میں تھا