Monday, 31 August 2026

دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

 دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے

ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا

سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے

اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم

بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

 یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب

زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا

اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب

جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ

آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب

کیا کہیں ملت و دیں کفر ہے ایماں اپنا

 کیا کہیں ملت و دیں کفر ہے ایماں اپنا

پیش بُت سجدہ ہے اور دَیر ہے ایواں اپنا

جُھکتے تُربت پہ نہیں جُھکتے کسی اور سے ہیں

ماسوا اس کا کہاں راز ہے پنہاں اپنا

دیکھ تو چشمِ بصیرت سے انہیں اے مُنکر

ان بُتوں میں ہی تو ہے رنگ نمایاں اپنا

Sunday, 30 August 2026

ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں

ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں

ہوں مگر مجبور جینے کو اندھیرے شہر میں

کھیتیاں سُوکھی پڑی تھیں چار سُو دیہات میں

جم کے برسے اس طرف بادل گھنیرے شہر میں

سب مکیں سہمے ہوئے، خاموش ہیں دیوار و در

گُھومتے ہیں ہر طرف قاتل، لُٹیرے شہر میں

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

 لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

جن میں ہو کیفِ زندگی بہرِ خدا وہ کام کر

طورِ حیات سے اُڑا جذبۂ زیستن کی آگ

جب کہیں جا کے نیّتِ زندگی دوام کر

پہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے

بعد کو دل میں خواہشِ دانۂ زیرِ دام کر

وقت کی قید نہیں زلف کے سلجھانے میں

 وقت کی قید نہیں زُلف کے سُلجھانے میں 

رنگ بھرتی ہے چلی جاتی ہوں افسانے میں 

میں وہ مے کش ہوں سرشام ہی میخانے میں 

غموں کو گھول کے پی جاتی ہوں پیمانے میں 

آزمانا ہے تو  پھر شمع کو جلا کے دیکھو

موت کا خوف نہیں ہوتا ہے پروانے میں 

سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

 سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

بات کرتے ہیں مگر بات کا اظہار نہیں

میں نے پالا ہے خیالوں کو مروّت کے بغیر

میرے دل میں کسی ہمسایہ کی دیوار نہیں

ہم تو اِس دور کو کہتے نہیں اُس دور کے لوگ

ہم تو بازار سے گُزرے ہیں خریدار نہیں

پانی سے کب پیاس بجھائی جا سکتی ہے

 پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے

دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے

اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں

پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے

پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا

خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے

Saturday, 29 August 2026

کبھی صرصر ہے کبھی باد صبا ہے ساقی

 کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی

زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی

نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی

میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی

اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح

میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی

ناصح کو بڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

 ناصح کو بُڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

کہتے ہیں وہ بیوی کو مِری جان! ابھی تک

کھولے ہوئے بیٹھے ہیں وہ دوکان ابھی تک

پھیکا ہے مگر شیخ کا پکوان ابھی تک

سر ہلتا ہے تھوتن میں کوئی دانت نہیں ہیں

بن پایا نہ ٹُوٹا ہوا دالان ابھی تک

اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑے

 اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے

کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے

میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی

میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے

نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا

دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے

Friday, 28 August 2026

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

 دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا

مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح

میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا

آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس

آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا

خواب شیریں ہی کل اثاثہ ہے

 خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے

اور حقیقت فقط تماشہ ہے

کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا

اک بھرم جو نیا تراشہ ہے

ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر

اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے

Thursday, 27 August 2026

نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

 نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا

مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں

مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا

بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری

مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا

گفتگو کھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بیچ

 گُفتگو کُھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بِیچ

مسئلے وہ حل کریں گے چار دیواروں کے بیچ

شہر کی اُونچی فصیلوں میں مِرے گھر کا وجود

ایک ننھا سا دِیا ہو جیسے کُہساروں کے بیچ

گُم ہوئی کتنی صدائیں، جل بُجھے ہونٹوں کے بول

کتنی آوازوں نے دم توڑا ہے نقّاروں کے بیچ

شب کے کالے گنبد میں اک نوری در تخلیق ہو

 شب کے کالے گُنبد میں اک نُوری در تخلیق ہو

قُدرت کے ہاتھوں سے کیا عُمدہ منظر تخلیق ہوا

پہلے آہن زاد چھُری سے نازک گردن کٹتی تھی

پھر دل پر برسانے کو لفظی خنجر تخلیق ہوا

قطرہ قطرہ جُثہ پگھلا ہاتھوں پر چھالے چمکے

ایک گھروندا رہنے قابل تب جا کر تخلیق ہوا

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

 نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں

مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں

یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں

مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں

مجھ پر بھی بے اثر تھا اجالا کبھی کبھی

 مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی

مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی

بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا

وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی

سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا

ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی

Wednesday, 26 August 2026

جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

 جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے

پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے

پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے

گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا

اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے

زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے

 ایک ہی جست پر کھڑی ہے

زندگی میرے اندر کہیں گڑی ہے

ایک پھانس کی طرح جیسے

سینے کے فریم میں جڑی ہے

میرے حق میں آستین چڑھا کر

زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے

تم نے آواز مجھ کو دی شاید

 تم نے آواز مجھ کو دی شاید

دل کی دنیا بدل گئی شاید

مل گئے تم تو یوں ہوا محسوس

مل گئی مجھ کو زندگی شاید

ہر تمنا ہے خوشگوار مگر

غم کی تمہید ہے یہی شاید

Tuesday, 25 August 2026

میرا اس کا ساتھ نہیں ہے

 میرا اس کا ساتھ نہیں ہے

میں کیا جانوں

کون ہے وہ کیا نام ہے اس کا

کس کے گھر میں آیا تھا وہ

اور کس کے گھر سے نکلا ہے

میں کیا جانوں

پہلے مری حدود کو منفی کیا گیا

 پہلے مِری حدُود کو منفی کیا گیا

پھر یوں ہُوا وجُود کو منفی کیا گیا

بے مایہ میرے جسم میں رو دوڑنے لگی

یوں میرے ہر جمُود کو منفی کیا گیا

دریائے بے کنار میں ڈُوبا ہوا ہوں میں

جب سے مِرے شہُود کو منفی کیا گیا

کب تک اے یاد ستائے گی مجھے

 کب تک اے یاد ستائے گی مجھے

کب تک اے موت بھلائے گی مجھے

غیرتِ عشق چُھپائے گی مجھے

نظرِ غیر نہ پائے گی مجھے

کب تک اے شمع سرِ شامِ حیات

روئے گی اور رُلائے گی مجھے

رات میری اک سہیلی

  رات


رات میری اک سہیلی

میری طرح وہ اک پہیلی

ہم دونوں جُگنوؤں کے تعاقب میں دیوانہ وار دوڑتیں

پھر تهک کر شبنم زدہ گهاس پر گر پڑتیں

آسمان کے ستارے گِنتیں

چاند سے آنکھ مچولی کهیلتیں

جب دو عالم کو اک نظر دیکھا

 جب دو عالم کو اک نظر دیکھا

تُو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

مِل گئی جس کو کچھ نظر تیری

اس کو دُنیا سے بے خبر دیکھا

شامِ وعدہ نہ آپ آئے، مگر

راستہ ہم نے رات بھر دیکھا

Monday, 24 August 2026

م جھم سی برسات یادوں کی بارات

 رِم جِھم یادیں


رم جھم سی برسات، یادوں کی بارات

بند اکھین بھِیگت جاؤں ان یادوں کے ساتھ


اب کام کاج میں جیا نہ لاگے

نہ پڑھائی میں مورا دھیان

میں باوریا، پرِیت میں تُمری

ہوئی احمق، پاگل اور نادان

زمانے میں رفاقت کی جو یہ ریت و روایت ہے

 زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و روایت ہے

محبت ہے نہ الفت ہے، فقط یہ اک تجارت ہے

تعلّق اب ضرورت کے ترازو میں ہی تُلتے ہیں

وفا کے نام پر ہر سو مفادوں کی حکومت ہے

جبیں پر زہد کے تیور، دلوں میں حرص کا ڈیرہ

لباسِ پارسائی میں، یہاں پلتی خباثت ہے

بن کے آیا جو ترے گھر کا بھکاری، میں تھا

 بن کے آیا جو تِرے گھر کا بھکاری، میں تھا

جس نے جھولی ترے آگے ہے پساری، میں تھا

تیرے ہونٹوں کے تبسم میں چھپا تھا میں ہی

اشک بن کر تِری آنکھوں سے بھی جاری، میں تھا

جو تصور سے بھی بیزار تھی میرے تُو تھی

جس نے تصویر تِری دل میں اُتاری میں تھا

آیا ہے کون کیوں یہ ہوا مشکبار ہے

آیا ہے کون کیوں یہ ہوا مُشکبار ہے

موسم کا بھی مزاج بہت خوشگوار ہے

شبنم نے فرطِ شوق میں موتی لُٹائے ہیں

لبریز گُل کے ہاتھ میں جامِ بہار ہے

میٹھا سا ایک گیت ہے موجوں کے شور میں

دریا کے پار کس کو مِرا انتظار ہے

Thursday, 20 August 2026

تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے

 تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے

ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے

ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی

ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے

ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا

بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے

Wednesday, 19 August 2026

مسلکوں کے نصاب پڑھ ڈالے

 مسلکوں کے نصاب پڑھ ڈالے

نفرتوں کے جواب پڑھ ڈالے

اُن کے چہروں پہ جو تعصب تھا

اُس کے سب پیچ و تاب پڑھ ڈالے

آج کچلے تھے اس نے مقتل میں

جس قدر بھی گلاب پڑھ ڈالے

ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی

 تاجر کی موت


ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی

کوئی اب چال چل عقل و ہنر کی

بسر کی زندگی عیش و طرب میں

خبر کب تھی اجل کے نامہ بر کی

مآلِ زندگی سوچا نہ تاجر

عجب ماحول میں تُو نے بسر کی

واجب الاحترام ہوتے ہیں

 واجب الاحترام ہوتے ہیں

چند ایسے بھی نام ہوتے ہیں

دوستوں کی زبان چلتی ہے

دشمنوں سے کلام ہوتے ہیں

اک ریاست کا نام لو جس میں

چور، عالی مقام ہوتے ہیں

آج کی رات انمول سوغات ہو گئی

 آج کی رات انمول سوغات ہو گئی

میرے بِچھڑے بابا سے 

میری خواب میں ہی ملاقات ہو گئی

ان کو دیکھا، انہیں چھُوا

میرے بابا کی شفقت کی برسات ہو گئی

ہائے بچھڑنے والوں سے اک دن مُلاقات ہونی ہی چاہیے

سلجھی زلفوں الجھی سوچوں والی لڑکی

 انتظار


سُلجھی زُلفوں

اُلجھی سوچوں والی لڑکی

دھڑکتے دل کی بے تابی سے

ہر آہٹ پہ چونک ہے جائے


گھڑی کی ٹِک ٹِک سُنتی جائے

نرم گداز سے صوفوں پر

خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

 خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے

عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو

کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے

نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی

وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے

یعنی مجھ سے ترک تعلق کر لو

 اس غزل کا کریڈٹ یوٹیوب چینل سخنور کو جاتا ہے


ایک روز اس محبوبہ (عنیزہ) نے ٹیلے کی پشت پر آڑ میں کھڑے ہو کر

بڑی سختی اور ناگواری کے ساتھ مجھ سے ترک تعلق کی بات کی

اور مجھے چھوڑ کر چلے جانے کی قطعی قسم کھائی

ایسی قسم جس کو توڑا نہیں جا سکتا

میں نے اس سے کہا کہ اے فاطمہ (عنیزہ کا دوسرا نام) 

اسی سے حق کا ظہور آپ کے زمانے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اُسی سے حق کا ظہور آپؐ کے زمانے میں

حِرا میں اُترا جو نُور آپؐ کے زمانے میں

اُسی پہ قافلۂ ارتقاء روانہ ہوا

کھلی جو راہِ شعور آپؐ کے زمانے میں

کسی کے آگے کسی کی جبیں نہ جھکتی تھی

غریب بھی تھے غیور آپؐ کے زمانے میں

زمین دل پہ محبت کی حمد جاری تھی

 بہت ملال تھا لہجے میں سوگواری تھی

زمینِ دل پہ محبت کی حمد جاری تھی

بدل گیا تھا معانی وہ رنجشوں کے سبھی

بلا کا ضبط تھا اس میں اور اِنکساری تھی

خدائے عالی و برتر سے مانگ رکھی تھی

وہ حاجتیں کہ زمانے سے رازداری تھی

کہیں یہ پھول سی باتیں دیکھو بھول نہ جانا

 اس کو یقین دہانی


کہیں یہ پُھول سی باتیں

دیکھو بھُول نہ جانا

وہ پُورے چاند کی راتیں

دیکھو بھُول نہ جانا

اکٹھے مِل کے رونا بھی

اِکٹھے مِل کے ہنس دینا

محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

 محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے

تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت

تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے

پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا

یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں

 نیلا آسمان


میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟

میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا

یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟

کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز

دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں

 دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں

لطف جینے کا اٹھانے کے لیے زندہ ہیں

فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لیے جیتے ہو

اور ہم سارے زمانے کے لیے زندہ ہیں

ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک

ہم نئی زندگی پانے کے لیے زندہ ہیں

سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے

 کٹارِ عشق


سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے

بڑی تیز اس کی دھار ہے

یہ کلیجہ کاٹے جا رہی ہے

زیست کو دور لیے جا رہی ہے

ان نینوں میں اب ہر وقت برسات ہے

چاروں طرف اماوس کی سیاه رات ہے

Tuesday, 18 August 2026

پیاری لڑکی بقول تمہارے بے شک تم اور میں

 پیاری لڑکی

بقول تمہارے

بے شک تم اور میں

آنے والے چند ماہ و برس میں

عمر کی اس منزل پر ہوں گے

جس پر پہنچ کے ہر راہی

جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے

جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے

یہ زندگی تو کوئی حادثہ لگے ہے مجھے

کسی کی زلفِ پریشاں سے چاک داماں تک

غرض جنوں کا وہی سلسلہ لگے ہے مجھے

وہ شخص جس نے ہزاروں ستم کیے ایجاد

کہیں سے وہ بھی ستایا ہوا لگے ہے مجھے

نیا سفر ہے کوئی کارواں ہے کہ نہیں

 نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟

راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟

چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے

اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟

تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے

تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟

گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں

 گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں 

عشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواں 

ہائے وہ چند ساعتیں گزریں جو تیرے قُرب میں 

رشک سے دیکھتی رہی جن کو حیات جاوداں 

اف ری منازل بلند تیرے حریم ناز کی 

پائے طلب کو کتنے طے کرنے پڑے ہیں آسماں 

ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

 ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

نمو پذیر ہوں لیکن تِرے حصار میں ہوں

کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں

کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں

تِرے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں

میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں

ساتھی میرے میرا ساتھ نبھانے کا وعدہ کر کے

 بِچهوڑا


ساتھی میرے

میرا ساتھ نِبھانے کا وعدہ کر کے

یہ آج تُو کس اور چل پڑا ہے

میں تنہا سی، سہمی سی

پُوچھ رہی ہوں سب سے

میرے جینے کی وجہ کہاں ہے؟

ہنر ہے تو دل میں اتر جائیے

 سرِ دارِ اُلفت ٹھہر جائیے

حدُودِ خِرد سے گُزر جائیے

نہ کیجے گدائی درِ یار کی 

ہُنر ہے تو دل میں اُتر جائیے

وفاؤں کی قیمت نہیں جس جگہ

اُدھر مُسکرا کر مُکر جائیے

محبت سے کنارہ کر رہے ہیں

 محبت سے کِنارہ کر رہے ہیں

وہ خُود اپنا خسارہ کر رہے ہیں

ہمارا حوصلہ کیا پوچھتے ہو؟

بغیر اس کے گُزارا کر رہے ہیں

جُھکائیں سر کہ آپ اہلِ زمیں ہیں

فلک کا کیا نظارہ کر رہے ہیں

Monday, 17 August 2026

یوں تو کہنے کے لیے غم ہیں بہت

 سورج کے آس پاس


آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت

ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت

اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن

جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت

چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے

منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت

دکھ درد در و دیوار سبھی ایک ہوئے

 دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے

غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے

ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا

جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے

کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت

تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے

روز اول سے یہی کرتا رہا ہے آدمی

 روزِ اوّل سے یہی کرتا رہا ہے آدمی

سوچتا کم، اور زیادہ بولتا ہے آدمی

ہے یہ قاصر اپنے چہرے کو بدلنے سے مگر

آئینہ ہر زاویے سے دیکھتا ہے آدمی

کون سی منزل ہے اس کی اور جانا ہے کہاں

نِت نئے رستوں پہ چلتا جا رہا ہے آدمی

اے دنیا میں پیغام حق لانے والے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے دنیا میں پیغامِ حق لانے والے

اے فخرِ دوعالم کہے جانے والے

مدد کو غلاموں کے آ جانے والے

وہ یاسین و طہ لقب پانے والے

جبل دشت و صحرا کو چمکانے والے

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں

 گھروندہ 


چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں

کچھ نئے خواب آنکھوں میں سجانے کو

گود میں اس وسِیع سمندر کی

آؤ سُورج اُترتا دیکھتے ہیں

کُچھ لالی لے کر شفق سے

لب و رُخسار تیرے سجاتے ہیں

ہمارے ہاتھ جو آتے نہیں ہیں

 ہمارے ہاتھ جو آتے نہیں ہیں

اگر آ جائیں تو جاتے نہیں ہیں

جنہیں ہم دیکھتے رہتے ہیں گھنٹوں

انہیں اک آنکھ بھی بھاتے نہیں ہیں

کسی دن دل میاں دو لخت ہوں گے

اگر آپ ان کو سمجھاتے نہیں ہیں

میں اپنے ہی تلاطم کا اسیر بے زباں بن کر

 اسیرِ بے زباں


میں اپنے ہی تلاطم کا

اسیرِ بے زباں بن کر

کسی ایسے کنارے کی

مسلسل جستجو میں ہوں

جہاں دل کی جراحت پر

کوئی تہمت نہ دھرتا ہو

دل کو شاداب کیے رکھتا ہے نم آنکھوں کا

 دل کو شاداب کیے رکھتا ہے نم آنکھوں کا

رکھ لیا ایک ہی بھرم آنکھوں کا آنکھوں کا

خشک آنکھوں میں بھی خوابوں کے سمندر جاگے

بھول سکتا ہوں کہاں خود پہ کرم آنکھوں کا

حسرتِ دید میں شب بھر یہ کھلی رہتی ہیں

کر دیا شوخ نے کیا ناک میں دم آنکھوں کا

یہ بھی کیا کم ہے کہ نفرت میں کمی کرتا ہوں

 قریۂ سنگ میں آئینہ گری کرتا ہوں

جو مرے دل میں سما جائے وہی کرتا ہوں

ایک عادت سی ہے مشکل میں پڑے رہنے کی

راہِ ہموار میں دیوار کھڑی کرتا ہوں

کتنے لمحے مرے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں

میں جو اک لمحہ پکڑنے کی سعی کرتا ہوں

Sunday, 16 August 2026

فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے

 اردو کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نِکلے


فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے 

نہ مسیحا کی ضرورت ہے نہ غمّاز کی ہے 

پر کترنے پہ نہ خُوش ہو میرے صیّاد بہت 

بازوئے فِکر میں، طاقت ابھی پرواز کی ہے 

نسسِ باریکئ نُدرت کی حلاوت کی قسم 

میری غزلوں میں جھلک اک نئے انداز کی ہے

جوگی اترا پہاڑوں سے

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


جوگی اترا پہاڑوں سے

پتہ پوچھوں ساجن کا

کونجوں کی ڈاروں سے


سیما پیروز

خاک کی چادر پہ سونا چاہیے

 خاک کی چادر پہ سونا چاہیے

بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے

خون مکھن بن کے نکلے جسم سے

قوم کو اتنا بلونا چاہیے

ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں

اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے

قصۂ غم دراز ہونا تھا

 قصۂ غم دراز ہونا تھا

درد کو چارہ ساز ہونا تھا

تیری مستِ شباب آنکھوں کو

نرگسِ نیم باز ہونا تھا

فصلِ گُل کا شباب ہے ساقی

بابِ مے خانہ باز ہونا تھا

سنانے آج آیا ہوں میں نوحہ ایک دھرتی کا

 نوحہ ایک دھرتی کا 


سنانے آج آیا ہوں

میں نوحہ ایک دھرتی کا

کہانی ایک مقتل کی

جہاں مقتول کے لب پر

صدا " اللہ اکبر" کی

جہاں قاتل کے لب پر بھی

یہی تو اک خرابی ہے تمہاری

 یہی تو اک خرابی ہے تمہاری

سبھی کو دستیابی ہے تمہاری

وہاں تک کا نظارہ پہلے کر لوں

جہاں تک بے حِجابی ہے تمہاری

گُلابوں سے نہیں رشتہ تمہارا؟

تو کیوں رنگت گُلابی ہے تمہاری

محبت میں جفا ہوتی رہی ہے

 محبت میں جفا ہوتی رہی ہے

نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے

کسے معلوم میرے دل کی حالت

تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے

متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی

تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے

Saturday, 15 August 2026

نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا

 نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا

پھر اس کے بعد وفا کا مطالبہ کرنا

لگام دوں اسے کیسے زبان ان پڑھ ہے

اسے تو آتا ہے سچ بات برملا کرنا

نئے زمانے کے بچوں کی شوخیاں دیکھو

شرارتوں میں بڑوں کا مقابلہ کرنا

ہر قدم پر کر رہا ہوں ورد نام مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے

ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریلؑ سے

اور تو زادِ رہِ شہرِ نبیﷺ کچھ بھی نہ تھا

میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے

اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبرﷺ ہوا

اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے

آگ گھی سے بجھانا مناسب نہیں

 آگ گھی سے بُجھانا مُناسب نہیں

دل جلوں کو جلانا مناسب نہیں

مجھ پہ سارا زمانہ ہنسے تو ہنسے

پر تیرا مُسکرانا مناسب نہیں

جاں لُٹانا مناسب ہے پر عشق میں

آبرُو کو گنوانا مناسب نہیں

خون کی ندی بھی ہم نے پار کی

 خون کی ندی بھی ہم نے پار کی

ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی

ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ

کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی

اک غریبِ شہر کو حق مل گیا

یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی

مرے دل کے بیاباں سے گزر آہستہ آہستہ

 اثر دِکھلائے گا خُوابِ سحر آہستہ آہستہ

دِلوں سے جائے گا راتوں کا ڈر آہستہ آہستہ

نہیں بربادیوں کے واسطے یہ شرط دُنیا میں

مگر آباد ہوتے ہیں نگر آہستہ آہستہ

کہاں پھیلی ہے خُوشبو دفعتاً افکارِ عالی کی

کِیا شاداب سوچوں نے سفر آہستہ آہستہ

گنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

 گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے

گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں

ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے

اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا

شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے

تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

 تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

دُنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے

میں آنکھ سے گِرا تو زمیں کے صدف میں تھا

بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے

سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے عِلم

مُصحف میں اِک ہی نام بتایا گیا مجھے

بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا

 بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا

بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا

نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو

صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا

کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے

ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا

دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی

 دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی

خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی

کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو

اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی

مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے

عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی

Friday, 14 August 2026

اپنی جاگیر اٹھا جود و سخا بھی لے جا

 اپنی جاگیر اُٹھا جُود و سخا بھی لے جا

ٹُوٹ جائے نہ کہیں اپنی وفا بھی لے جا

میرا ہمدرد ہے تُو، تُجھ سے شکایت کیسی

زخم دیتا ہے تو پھر میری دُعا بھی لے جا

ہم سے دِیوانے بھی مِلتے ہیں بڑی مُشکل سے

اپنے بارے میں بتا، میرا پتہ بھی لے جا

نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گے

 نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گے

اوس کے اوپر چنگاری کا لہجہ دیکھیں گے

شیشے کے بازار سے لے آئیں گے کچھ چہرے

وہی پہن کر ہم گھر کا بھی شیشہ دیکھیں گے

کتنی دور تلک جائے گی ضبط کی یہ کشتی

کتنا گہرا ہے اس درد کا دریا دیکھیں گے

کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے

 کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے

خدا کسی کو نہ اب آشنائے راز کرے

کہاں تک آدمی حِیل خِرد سے ساز کرے

فضائے دہر کو اللہ جنوں نواز کرے

نہ پُوچھ مرتبہ اس کے مقامِ عالی کا

جسے وہ فِکر دو عالم سے بے نیاز کرے

تختۂ مشق بنوں جاں بہ سپر ہو جاؤں

 تختۂ مشق بنوں، جاں بہ سِپر ہو جاؤں

تو بتا؟ کون سا چہرہ لوں، کِدھر ہو جاؤں

بے زبانوں کی رفاقت بھی میسّر کر لی

بولیے! آپ کا منظورِ نظر ہو جاؤں؟

یونہی بے سمت سفر کتنا رہا ہے باقی

اُس طرف جاؤں مری جاں، یا اِدھر ہو جاؤں

زندگی اپنی یہاں اپنے لئے تعزیر ہے

 زندگی اپنی یہاں اپنے لیے تعزیر ہے

شوق دل میں رقص کا اور پاؤں میں زنجیر ہے

تیشۂ جمہوریت ہے اہلِ زر کے ہاتھ میں

جُوئے خُوں کو وہ بتاتے ہیں کہ جُوئے شِیر ہے

گردشِ ایّام کو اب گردشِ انساں کہیں

کرتے رہنا ہجرتیں انسان کی تقدیر ہے

نعت؛ مصطفیٰ کے دیوانے ہر خوشی لٹاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مُصطفیٰﷺ کے دیوانے ہر خُوشی لُٹاتے ہیں

مُفلسی میں رہ کر بھی سب کے کام آتے ہیں

ہم غریب جیتے ہیں مُصطفیٰﷺ کی اُلفت میں

سختیاں اُٹھاتے ہیں، پھر بھی مُسکراتے ہیں

آپﷺ سے محبت ہے، آپؐ سے عقیدت ہے

آپﷺ کی اطاعت میں زندگی لگاتے ہیں

ہجر دیوار کرنے لگ گیا تھا

 آب پر وار کرنے لگ گیا تھا

ہِجر دِیوار کرنے لگ گیا تھا

کس طرح قتل کرتا میں اس کو

وه مجھے پیار کرنے لگ گیا تھا

دُشمنی میں بھی کوئی کرتا نہیں

جو مِرا یار کرنے لگ گیا تھا

سفر لگتا ہے سارا رائیگاں ہے

سفر لگتا ہے سارا رائیگاں ہے


 ہوائیں بھی مخالف تھیں ہماری

شکستہ تھے ہمارے بادباں بھی

مگر اک عزم تھا جوشِ جنوں تھا

سو ہم طُوفاں سے لڑ کر پار اُترے

سبھی کچھ ہار کر بھی شاد تھے ہم

یقیں تھا ہم کو، منزل مِل گئی ہے

مسرت چیز کیا ہے رنج کیا ہے

 مسرّت چیز کیا ہے رنج کیا ہے

یہ سارا کھیل اک احساس کا ہے

بہار زندگی کہتے ہیں جس کو

کسی کے اک تبسّم کی ضیا ہے

خطائے بے وفائی اور ہم سے

یقیناً آپ کو دھوکا ہوا ہے

Thursday, 13 August 2026

وصل کا پیغام لے مجھ تک اجل آنے کو ہے

 وصل کا پیغام لے مجھ تک اجل آنے کو ہے

جان اِستقبالِ جاناں کے لیے جانے کو ہے

اس بُتِ کُرسی نشیں کا دیکھ جلوہ بام پر

حاملِ عرشِ بریں غش کھا کے گِر جانے کو ہے

ساجد و مسجود میں کیا فرق ہے پایا نہیں

شیخ طاعت آب کی خلقت کے دِکھلانے کو ہے

لگا کر دل کسی سے چھوڑ کر جایا نہیں کرتے

 لگا کر دل کسی سے چھوڑ کر جایا نہیں کرتے

محبت کرنے والوں کو تو تڑپایا نہیں کرتے

یہی تاریخ کہتی ہے، یہی کردار ہے اپنا

ہم اپنے دشمنوں پر بھی سِتم ڈھایا نہیں کرتے

شریعت بھی یہ کہتی ہے، یہی تہذیب ہے اپنی

بِنا دستک کسی کے گھر میں ہم جایا نہیں کرتے

خود اپنا آشیاں اپنا ہی دام ہو جائے

 وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائے

میں چاہتا ہوں کہ ظُلمت تمام ہو جائے

جنُون عزم نہیں ختم چند ناموں پر

مگر جو وقت کا اپنے امام ہو جائے

لگا کے آگ نشیمن کو دیکھنے والو

سکون دل نہ تمہارا حرام ہو جائے

جہان ابد وحشت دل فقط ایک لمحہ ٹھہر

  جہانِ ابد


وحشتِ دل! فقط ایک لمحہ ٹھہر

میں ٹٹولوں ذرا دل کی زنبیل کو

اس میں رکھے تھے میں نے گئے دن کہیں

قُرب کے، سرخُوشی، شادمانی کے دن

وہ جوانی کے دن

کچھ تمنّائیں، کچھ حسرتیں، خواب بھی

ہر تار نفس شعلہ بدل شعلہ بجاں ہے

 ہر تار نفس شعلہ بدل، شعلہ بجاں ہے

اب دل کے دھڑکنے کا وہ انداز کہاں ہے

جلتے ہوئے صحرا میں ہیں کس کس کو صدا دیں

آواز کی شبنم ہے، نہ چشمِ نگراں ہے

یاں طنز کے پتھر ہیں فقط دستِ ہوس میں

اور حُسنِ سخن کارگہِ شیشہ گراں ہے

ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی

 ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی

چہروں پہ جو ہوتی ہے بشاشت نہ ملے گی

انصاف جہاں ہو وہ عدالت نہ ملے گی

اس شہر میں کوئی بھی شہادت نہ ملے گی

مانگے کا اُجالا تمہیں مِل جائے گا لوگو

آنکھوں کو مگر اس سے بصارت نہ ملے گی

Wednesday, 12 August 2026

دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

 دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

کوئی شعلوں کو ہوا دیتا ہے

جب حسیں خواب میسر آئے

کوئی زنجیر ہِلا دیتا ہے

کوئی پلکوں سے اُٹھاتا ہے مجھے

کوئی نظروں سے گِرا دیتا ہے

تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے

 تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے

لگتا اب تُو بھی خُوش اچھا خاصا ہے

تُو ہے جفا کا اور وفا کا میں قائل

تیرا اپنا، میرا اپنا رستہ ہے

لوگ اس کو پتھر مارنے لگتے ہیں

پھل سے جب بھی کوئی شجر بھر جاتا ہے

فصل بہار ہو چکی پھول کوئی کھلا نہیں

 فصلِ بہار ہو چکی، پھُول کوئی کِھلا نہیں

میں ہی خِزاں نصیب تھا، تجھ سے کوئی گِلہ نہیں

کچھ تو بہ پاسِ دوستی، ضبطِ خُوشی کی جہد کر

بار پہ میری ہنس مگر، ایسے تو کِھلکھلا نہیں

ہم نے یہ سوچ کر کِیا فرضِ نیاز سے گریز

ترک پر کیوں عتاب ہو، کرنے پہ جب صِلہ نہیں

ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

 ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

ہمارے گھر کے در و بام مہک جاتے ہیں

میں سُوکھی ڈال ہوں لیکن تمہاری یادوں کے

پرندے آ کے سرِ شام بیٹھ جاتے ہیں

ہماری آنکھوں میں یوں انتظار روشن ہے

ندی میں جیسے کئی دِیپ جِھلملاتے ہیں

کیا کبھی بھی یہاں نہ ہو گی سحر

 درد بے درماں


اپنے خوابوں کی راکھ پر بیٹھے

عمر ہی رائیگاں گُزرنے پر

اک تہی دست ہجومِ دل زدگاں

سوچتا ہے مآل رنجِ سفر


مالکِ دو جہاں! شہِ شاہاں

کب تلک تیرگی رہے گی یہاں؟

Tuesday, 11 August 2026

عشق جائی کہاں سے آئی ہے

 عشق جائی کہاں سے آئی ہے

یہ جُدائی کہاں سے آئی ہے

جب گئی تھی جوان لڑکی تھی

بوڑھی مائی کہاں سے آئی ہے

میں نکمّا ہوں مانتا بھی ہوں

کامیابی کہاں سے آئی ہے

صدائے آفریں اٹھی تھی جست ایسی تھی

 صدائے آفریں اُٹھی تھی جست ایسی تھی

خبر نہ تھی کہ مقدر شکست ایسی تھی

نظر ہٹا نہ سکا رائے کس طرح لیتا

وہ سب کو دیکھ رہا تھا نشست ایسی تھی

اسے خیال یہ گُزرا کہ گر گئی دِیوار

دلِ حزیں کی صدائے شکست ایسی تھی

اسیری بے مزا لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے

 اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے

قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے

مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے

کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے

اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ

ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے

یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا

 یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا

پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا

وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار

گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا

کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے

با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا

سمجھتے خود کو جو فاضل ہیں آپ کیا جانیں

 مِری نگاہ میں جاہل ہیں آپ کیا جانیں

سمجھتے خود کو جو فاضل ہیں آپ کیا جانیں

یہ وار کرتے ہیں لیکن دلوں پہ کرتے ہیں

یہ حُسن والے بھی قاتل ہیں آپ کیا جانیں

کِھلا رہے ہیں جو کھانا یہاں فقیروں کو

وہ لوگ پیار کے قابل ہیں آپ کیا جانیں

میرا بسیرا نگری کے پھاٹکوں سے باہر ہے

 نگری


میرا بسیرا نگری کے پھاٹکوں سے باہر ہے

بے سُود ہے میرا نگری میں سُرنگ لگانا

اس پر پرواز کرنا

اس کا محاصرہ کرنا

اس میں گُھسنا

سب سے اونچے مینار پر چڑھنا

خواب کے اے نگر ہم کہاں آ گئے

ہم کہاں آ گئے


جبر کے مستقل سلسلے، اور ہم

آندھیوں کے مقابل دِیے، اور ہم

اک سفر خواب کے اک نگر کی طرف

اور بڑھتے ہوئے فاصلے، اور ہم


اے دلِ بے خبر، ہم کہاں آ گئے؟

اے مِرے ہمسفر، ہم کہاں آ گئے؟

واپسی ہم جب جنگل سے نکل کر بستی میں آئے

 واپسی


ہم جب جنگل سے نکل کر

بستی میں آئے

تو اپنے ننگے بدن دیکھ کر

شرما گئے

اور پھر ہم نے توضیح کی

کہاں اے پردہ نشیں خود کو چھپایا ہوا ہے

 کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے

تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے

تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو

تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے

دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار

وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے

Monday, 10 August 2026

فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

 فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے

کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول

جیسے تِرے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے

اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا مِلا

اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے

مجھے ہر دن ستاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے

 مجھے ہر دن ستاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے

ہمیشہ دل دُکھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے

خدا کو یاد کر غافل، وہی تو رب ہمارا ہے

اسے تم بھُول جاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے

امیر شہر! ہمدردی ہے مزدوروں سے کب تم کو

انہیں بھُوکا سُلاتے ہو، یہ تم اچھا نہیں کرتے

ادھر تو شہر کے گنجے میری تلاش میں ہیں

 طنزیہ و مزاحیہ کلام


ادھر تو شہر کے گنجے میری تلاش میں ہیں

ادھر تمام لفنگے میری تلاش میں ہیں

میں ان کا مال غبن کر کے جب سے بیٹھا ہوں

یتیم خانے کے لونڈے میری تلاش میں ہیں

ملا ہے نسخہ جوانی پلٹ کا جب سے مجھے

تمہارے شہر کے بُڈھے میری تلاش میں ہیں

لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے

 لذتِ صحرا نوردی دُورئ منزل میں ہے

خواہشِ آسُودگی پھر کیوں ابھی سے دل میں ہے

اس کی لے پر سب ہیں رقصاں چاند، تارے، آفتاب

کیا کشش اے شاہدِ قُدرت! تِری پائل میں ہے

ان کو مِل جاتا ہے ساحل قلزمِ آفات میں

جن کو اک کامِل عقیدت رہبرِ کامل میں ہے

ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرح

 ہو نہ رُسوائے زمانہ مہِ کامل کی طرح

میرے سینے میں رہو آ کے مِرے دل کی طرح

تیرے دروازے پہ اے غیرت لیلیٰ! دن رات

سر پٹکتے رہے ہم پردۂ محمل کی طرح

اس قدر شوقِ شہادت نے مجھے دوڑایا

تھک گئے پاؤں مِرے بازوئے قاتل کی طرح

جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اڑ گئے

 جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اُڑ گئے

ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے

شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے

آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے

خُوشبوؤں کے رتھ سے اُترے بال پوچھا اور پھر

تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے

صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل

یہ ابرِ کرم برسا ہے دن رات مسلسل

وہ حکمِ خدا ہے جو کہا میرے نبیﷺ نے

ملتی رہی امت کو یہی بات مسلسل

مانگے بنا سر اپنا رکھو ان کے جو درپر

ملتی ہی رہے گی تمہیں خیرات مسلسل

Sunday, 9 August 2026

کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو

 کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو

جب نہیں فکرِ آشیاں مجھ کو

گلستاں کا تِرے نظام ہے کیا

دیکھنا ہے یہ باغباں مجھ کو

اب جھکانا ہے سرکشوں کا سر

کچھ نہیں فکرِ جسم و جاں مجھ کو

ایک اک مسجد سارے مندر ہر گردوارا ڈوب گیا

 ایک اک مسجد، سارے مندر، ہر گُردوارا ڈُوب گیا

بجلی گھر کا باندھ بنا تو گاؤں ہمارا ڈوب گیا

بستی والوں سے کہتا تھا گھبرانا مت میں جو ہوں

ناؤ بنانے والا مانجھی وہ بے چارا ڈوب گیا

جانے کیسے اتنا پانی چھلکا چاند کٹورے سے

جس میں ہر اک جگمگ جگمگ ٹِم ٹِم تارا ڈوب گیا

کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

 کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

اب مری آنکھوں میں کوئی رات کا منظر نہ تھا

بہہ رہا تھا چار سو اک ریت کا دریا مگر

جس جگہ پر میں کھڑا تھا راستہ بنجر نہ تھا

شہر کے سارے مکاں لگنے لگے ہیں ایک سے

جس مکاں میں بھی گیا دیکھا میرا وہ گھر نہ تھا

میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا

 میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا

زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا

یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا

نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا

میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں

رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا

جہاں ساری خدائی جا رہی تھی

 جہاں ساری خدائی جا رہی تھی

وہاں سُولی سجائی جا رہی تھی

بس اتنا یاد ہے سُولی پہ مجھ کو

کوئی آیت سُنائی جا رہی تھی

وہ میری عُمر تھی پردے کے پیچھے

جو میرے ساتھ لائی جا رہی تھی

چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

 چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

بہت ہی خوب صورت پھول

الگ رنگت بھی ہے ان کی

جدا خوشبو بھی ہے ان کی

ہوا چلتی ہے جب بھی تو

سبھی پھولوں کو آپس میں

کہیں جاتا نہیں یہ درد دل ٹھہرا بھی رہتا ہے

 کہیں جاتا نہیں یہ دردِ دل ٹھہرا بھی رہتا ہے

پرانے زخم سے رشتہ مِرا گہرا بھی رہتا ہے

وہ سب کچھ جان لیتا ہے مِرا چہرا ہی پڑھ پڑھ کر

بنا رہنے دو پہرا کوئی گر پہرا بھی رہتا ہے

بہت ساری سونامی ہیں مِرے دل کی طرح اس میں

بہت دِکھتا ہے پانی جھیل کا ٹھہرا بھی رہتا ہے

ایک نئے رہزن کے گھر اک نیا مسافر لائی رات

 اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی رات 

پہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی رات

اک پردے کو اٹھ جانا تھا اک چہرے کو آنا تھا 

کتنی حسیں تھی کتنی دل کش شرمائی شرمائی رات

ہر شاخ گل میں تھی یہ نرمی غنچے تک گر جاتے تھے 

آج ہر اک ٹہنی پتھر ہے کیسی آندھی لائی رات

ہم شہر میں اپنے ہی رہے شہر بدر سے

 ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے

دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے

گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے

منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے

دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی

میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے

Saturday, 8 August 2026

جن کو رونا نہیں آتا وہ مر جاتے ہیں

 آنسو


انہیں اشکوں سے تو اقوام و امم زندہ ہیں

ہیں ادب زندہ اگر نامہ غم زندہ ہیں

سوز جب تک ہے زبانوں میں قلم زندہ ہیں

طفلِ نو رو کے بتاتا ہے کہ ہم زندہ ہیں

سانس لینے نہیں پاتے کہ گُزر جاتے ہیں

جن کو رونا نہیں آتا وہ مر جاتے ہیں

برائے نام سہی حاصل طلب ٹھہرا

 برائے نام سہی حاصلِ طلب ٹھہرا

وہ ایک لمحہ جو سرمایۂ طرب ٹھہرا

کُھلے سروں پہ گھنی چھاؤں لے کے آیا تھا

ہمارے پاس وہ ابرِ رواں بھی کب ٹھہرا

نقیبِ امن رہا میں محاذ جنگ پہ بھی

یہی اصول مِری فتح کا سبب ٹھہرا

صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

 صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی

شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن

شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی

پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں

ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی

سر اٹھا کے مت چلیے آج کے زمانے میں

 سر اُٹھا کے مت چلیے آج کے زمانے میں

جان جاتی رہتی ہے حوصلہ دِکھانے میں

کس سے حق طلب کیجے بیوفا زمانے میں

ہونٹ سُوکھ جاتے ہیں حال دل سُنانے میں

ہاتھ کی لکِیروں سے فیصلے نہیں ہوتے

عزم کا بھی حصہ ہے زندگی بنانے میں

Friday, 7 August 2026

غزل تم کو سنانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں

 غزل تم کو سُنانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں

میں یوں ہی مُسکرانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں

میں کافر ہوں خُدا کے در کبھی سجدہ نہیں کرتا

مگر میں سر جُھکانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں

کوئی بھی کھیل ہو میں احتیاط اتنی برتتا ہوں

میں پہلے ہار جانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

 سمندر کا سکوت


آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا

ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا

مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے

مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے

میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں

جس طرف بھی اٹھے اب نظر مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس طرف بھی اٹھے اب نظر مصطفیٰﷺ

آپ ہی آپ ہوں جلوہ گر مصطفیٰﷺ

آسماں سے مقدس زمیں ہو گئی

فرش سے جب گئے عرش پر مصطفیٰﷺ

جب بھی میں نے وسیلہ لیا آپ کا

ہو گئی ہے دعا با اثر مصطفیٰﷺ

ہاتھ آگے کیا اور دست کرم تھام لیا

 ہاتھ آگے کیا اور دستِ کرم تھام لیا

سر جھُکا پائی تو پلکوں سے حرم تھام لیا

میں نے اس دُنیا کے دستور سے باغی ہو کر

حق و انصاف و محبت کا علم تھام لیا

حق کو باطل سے مِلاتے ہوئے دیکھا سب کو

کچھ نہ کچھ سچ کے بتانے کو قلم تھام لیا

لے کہیں دور چل اے غم دل مجھے

 لے کہیں دُور چل اے غمِ دل مجھے

راس آئی نہیں تیری محفل مجھے

گُزرے ہیں دن جسے دیکھتے دیکھتے

دیکھتا ہی نہیں اب وہ قاتل مجھے

دل کی دُنیا کا عالم بتا دوں بھلا

پاس کچھ بھی نہیں سب ہے حاصل مجھے

نظر کو چار کرنے کا کرو پہلے ہنر پیدا

 نظر کو چار کرنے کا کرو پہلے ہُنر پیدا

بہت مُشکل سے ہوتی ہے محبت کی ڈگر پیدا

کئی تعویذ لکھوائے، دِئیے نذرانے کِتنوں کو

بڑی منت سماجت پر ہوا لختِ جگر پیدا

ہزاروں ناز نخرے بیویوں کے سہنے پڑتے ہیں

کبھی ہوتا ہے دردِ سر، کبھی دردِ کمر پیدا

پھول ہے نہ خوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے

 پھُول ہے نہ خُوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے

زندگی حقیقت میں حادثوں کا سنگم ہے

آپ ہی بتائیں اب، کون سا یہ عالم ہے؟

دوستی کے ہاتھوں میں دُشمنی کا پرچم ہے

پھیلتے اندھیروں میں، بے رُخی کے جھونکوں سے

آج کل وفاؤں کا ہر چراغ مدھم ہے

اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

 اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو

یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا

چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو

اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے

جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو

دوست ملا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں

درس محبت


 دوست مِلا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں

جان فدا کرتا تھا جس پر دل میں اس کی یاد نہیں

گردشِ دوراں نے جب اس کو آہ شکستہ حال کیا

دیکھ کر اس کے حالِ زبوں کو تُو نے کچھ نہ ملال کیا

کون شکستہ حال کہاں ہے یہ بھی دھیان آیا نہ تجھے

آہ تصور نے ایسے محسن کے تڑپایا نہ تجھے

جو طاعت گزار پیمبر نہیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو طاعت گزارِ پیمبر نہیں ہے

میسر اسے فضلِ داور نہیں ہے

جو یاد محمدﷺ پہ مضطر نہیں ہے

پھر اور کیا ہے جو پتھر نہیں ہے

نہیں ربط جس کو خدا سے نبیؐ سے

سکوں اس کو ہرگز میسّر نہیں ہے

ٹہنی سے گری کلیاں

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


ٹہنی سے گری کلیاں

کیوں چھوڑ چلے ساجن

تم پیار بھری گلیاں


سیما پیروز

آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے

  گیت


آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے

میرے دل میں یوں ہی رہنا تم پیار پیار بن کے

آنکھوں میں تم بسے ہو سپنے ہزار بن کے

میرے دل میں یوں ہی رہنا تم پیار پیار بن کے

آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے

آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے

یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے

 گیت


یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے

مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لیے جائے


دور رہتی ہے تُو میرے پاس آتی نہیں

ہونٹوں پہ تِرے کبھی پیاس آتی نہیں

ایسا لگے جیسے کہ تُو ہنس کے زہر کوئی پیے جائے

یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے

Thursday, 6 August 2026

مہندی لگا کے رکھنا ڈولی سجا کے رکھنا

 گیت


مہندی لگا کے رکھنا

ڈولی سجا کے رکھنا

لینے تجھے او گوری

آئیں گے تیرے سجنا

مہندی لگا کے رکھنا

ڈولی سجا کے رکھنا

آنگن کو سجایا نہیں

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


آنگن کو سجایا نہیں

بادل تھا وہ ساون کا

پھر لوٹ کے آیا نہیں


سیما پیروز

خود کو تیرے نام لگا کر رقص کیا

 خُود کو تیرے نام لگا کر رقص کیا

عشق میں اپنا آپ لُٹا کر رقص کیا

دل کو رکھا پیار کے بہتے پانی میں

آنکھ میں تیرا عکس چھُپا کر رقص کیا

عزرائیل کو ہنستے ہنستے بدا کیا

میں نے موت کو نیند سُلا کر رقص کیا

جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا

 جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا

کِنارے ٹُوٹے تو دریا کا حوصلہ نکلا

وہ میری بزم میں آئے رقیب کے ہمراہ

چلو کہ ملنے کا کوئی تو سلسلہ نکلا

ملیں نہ آج بھی بچوں کو روٹیاں شاید

وہ گھر سے صبح یہی سوچتا ہوا نکلا

آغاز عشق ہی میں انجام کار دیکھا

 جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا

بیگانہ خُو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا

پیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی

نظریں چُرا چُرا کر سُوئے نگار دیکھا

آج اپنی بیخودی کو عرفاں کی روشنی میں

اس ماہِ سِیم تن کا آئینہ دار دیکھا

کیا کبھی ان معصوم چہروں کو دیکھا ہے تم نے

 آؤ خُوشیاں بانٹیں


کیا کبھی ان معصوم چہروں کو

دیکھا ہے تم نے

رنگ ہیں نہ ہی ہنسی

نہ آنکھوں میں چمک ہے

نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی

جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے 

ترا وجود مرے واسطے سعادت ہے

 تِرا وجود مِرے واسطے سعادت ہے

جو تیرا ہو نہ سکا میں تو مجھ پہ لعنت ہے

تِری نگاہِ محبت مِرا علاجِ ملال 

مِری نمازِ اطاعت کی تُو اقامت ہے

قدم کے نیچے تِرے رب نے رکھ دی ہے جنت

تجھے تو دیکھنا اسلام میں عبادت ہے

نام خدا محمد ہے کتنا نام پیارا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا

امروز شاہ شاہاں مہماں شدست مارا

نام خدا محمدﷺ ہے کتنا نام پیارا

دل کی مراد پائی جس نے انہیں پکارا

قربان ہوں میں اس کی بندہ نوازیوں پر

پردے میں عبدیت کے اک روپ جس نے دھارا

Wednesday, 5 August 2026

چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

 چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے

میری دم توڑتی امنگوں کو

بخش جینے کا حوصلہ پھر سے

اے دلِ بے قرار کس کے لیے

لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کھلا ہو گا

 وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا

اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے

کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا

اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے

ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا

وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا

 وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا

کہ اس طرح تمہیں اپنے قریب لانا تھا

زمانے بھر نے مجھے آزما کے دیکھ لیا

تم آزماتے اگر اور آزمانا تھا

تمہاری نظروں سے بچ کر کوئی کہاں جاتا

کہ تیرے تکنے کا انداز عاشقانہ تھا

پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں

 پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں

لوگ اب غم کی فضاؤں سے نکالے جائیں

شام ہوتے ہی مِرے دل سے لپٹ جاتے ہیں

غم کے آسیب جو گاؤں سے نکالے جائیں

آسماں کو دئیے جاتے ہیں ستارے کہہ کر

آبلے جب مِرے پاؤں سے نکالے جائیں

سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

 سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

امیرِ دشت بنتا جا رہا ہوں

مِرے دریا ہمیشہ یاد رکھنا

تِرے ساحل سے پیاسا جا رہا ہوں

فضائیں سبز ہوتی جا رہی ہیں

میں جتنا زہر پیتا جا رہا ہوں

Tuesday, 4 August 2026

جنت ملے گی الفت سرکار کے سبب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الفاظ بھی اگرچہ ہیں اظہار کے سبب

بنتی ہے بات چشم گہر بار کے سبب

احساس کے دریچے پہ دستک ہے نعت کی

ورد درودﷺ و کثرت اذکار کے سبب

نور سحر میں چہرۂ انورﷺ کی ہے ضیا

شب ہے نبیﷺ کی زلف طرحدار کے سبب

بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

 بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں

غم سے جو بلند اور مسرّت سے بڑے ہیں

ایسے بھی کئی داغ مِرے دل پہ پڑے ہیں

تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں

ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں

تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ

 تُو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ

عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ

اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بُری نظر

اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ

کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ رُوپ دے

دل کے اُجاڑ باغ میں تازہ گُلاب ڈھونڈ

اک جواں سی سنسناہٹ شوخ ساعت میں بسی

 اک جواں سی سنسناہٹ شوخ ساعت میں بسی

قلب و جاں کو دے گئی اک بیخودی، اک سرخوشی

کھیل تھا خوش فہمیوں کا جو رہا کچھ دیر تک

اک اداسی سی اداسی پھر فضا میں رچ گئی

درد کی دولت ملی تو دل قلندر ہو گیا

ہیچ تھی اب اس کے آگے دو جہاں کی خسروی

سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں

 سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں

تھم جاؤں تو قطرہ ہوں بہہ جاؤں تو دریا ہوں

کیوں طور پہ میں جاؤں کیوں عرش پہ میں جاؤں

اس کا ہی تو پرتو ہوں میں اس کے سوا کیا ہوں

کیا کوئی شریک غم ہو گا مِرا دنیا میں

وہ عرش پہ تنہا ہے، میں فرش پہ تنہا ہوں

وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا

 وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا

رخ حیات پہ جیسے عذاب چھوڑ گیا

نتیجہ کوشش پیہم کا یوں ہوا الٹا

میں آسمان پہ موج سراب چھوڑ گیا

وہ کون تھا جو مِری زندگی کے دفتر سے

حروف لے گیا خالی کتاب چھوڑ گیا

کتنی عجیب دیکھیے شان رسول بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کتنی عجیب دیکھیے شانِ رسولﷺ بھی​

برسائے جس نے سب پہ ہی رحمت کے پھول بھی​

جب بھی چلا ہوں جانبِ کعبہ، تو دشت کا​

میرے لیے تو پھُول بنا تھا، ببُول بھی​

دُنیا کو کرتے اب بھی حقیقت سے رُوشناس​

انمول گیان دیتے ہیں انﷺ کے اصول بھی

Monday, 3 August 2026

ہر اک شے بانجھ کرتا شور ہے

 ہر اِک شے بانجھ کرتا شور ہے


دُعا کی کھیتیاں 

اس میں اُگی اُمید، ساری گُفتگو، جُملے 

خلِش اور واہموں کی  تھاپ پر یہ ناچتے نوحے     

یہ سارے سِلسلے چُپ کے

پروں کو نوچ کے بخشی گئیں آزادیاں دل کی 

یہ سارے دائرے، رستے 

محبت اس لئے چھپائی گئی

 مُحبت اس لیے چھُپائی گئی

کہ پگڑی درمیان لائی گئی

دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں

ایک عزت ہے بچائی گئی

محبت رزق تھی میرے لیے

عُمر بھر کی کمائی گئی

گھر گیا آ کر دکانداروں سے ہی تکرار میں

 گھر گیا آ کر دکانداروں سے ہی تکرار میں

جانے کیا آیا تھا لینے گھر سے میں بازار میں

ناز تھا اس کو وفا پر،۔ ناز مجھ کو پیار پر

وصل کی تھی رات ساری کٹ گئی تکرار میں

آپ کا دے کر حوالہ کہتے ہیں ہم ناز سے

کچھ ہمارے لوگ بھی ہیں آج کل سرکار میں

اگر شوق جنوں ہو آزمانا

 اگر شوقِ جنوں ہو آزمانا

دِیوں کو تیز آندھی میں جلانا

ہماری ایک عادت بن گئی ہے

غم و یاس و الم میں مُسکرانا

کُچل کر گردشِ شام و سحر کو

بہت تیزی سے چلنا ہے زمانہ

تو کیا ہوا اگر آج چہرے سے ہنسی غائب ہے

 سحر ہونے کو ہے


تو کیا ہُوا اگر آج

چہرے سے ہنسی غائب ہے

اُلجھا ہوا ہے ذہن میرا

نیند آنکھوں سے بھی خائف ہے

کہتے ہیں یہ سبھی لوگ مجھے

کہ شاید تمہیں کچھ ’’ایسا‘‘ ہوا ہے

بہت سردی ہے اپنی سرد مہری چھوڑ دو

 حِدتیں دم توڑتی ہیں


 بہت سردی ہے

اپنی سرد مہری چھوڑ دو 

جانے بھی دو شِکوے گِلے

کوتاہیاں انسان کی فطرت میں شامل ہیں 

سنو! سردی ہے

سردی میں ہر اک شے منجمد ہے

آپ سے قطع رسم و راہ نہ کی

 آپ سے قطع رسم و راہ نہ کی

زندگی مُفت میں تباہ نہ کی

یہ ہے عظمت مِری محبت کی

تم کو پایا تو اور چاہ نہ کی

عُمر بھر ہم فقط رہے محکوم

آرزوئے جلال و جاہ نہ کی

دل اسے دیکھ کے ایسے مرے اندر ناچا

 دل اسے دیکھ کے ایسے مِرے اندر ناچا

جیسے اک پیڑ ہواؤں سے لِپٹ کر ناچا

ایک خُوشبو کی لہر سے مِرا آنگن مہکا

ایک دستک ہوئی ایسی کہ مِرا گھر ناچا

ایک سایہ تھا مِرے جسم سے لگ کر بیٹھا

ایک سایہ مِرے اندر سے نکل کر ناچا

Sunday, 2 August 2026

جو تذکرہ نہ محبت کا چار سو کرتے

 جو تذکرہ نہ محبت کا چار سُو کرتے

ذرا سی دیر تو ہم سے وہ گفتگو کرتے

کچھ اور ہوتے جو امکاں حیات کے روشن

بڑی خوشی سے تمنائے رنگ و بُو کرتے

صِلہ ملا نہ وفا کا جب آج تک ہم کو

تو اور کیا تِری دنیا میں آرزو کرتے

ہے نام تو خورشید خاں کہتے ہیں سب جلدی میاں

 جلدی میاں


ہے نام تو خورشید خاں

کہتے ہیں سب جلدی میاں

ہر کام میں گڑبڑ کریں

کمروں میں وہ کھڑبڑ کریں

ہیں دیر سے وہ جاگتے

اسکول جائیں بھاگتے

گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سمجھوں گا کہ حاصل ہوا مقصد حیات

گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں

اور رُوح کرے طواف کعبے کا

اے کاش حشر میں مِلے

یوں میری محنتوں کا صلہ

آپﷺ مُسکرا کے دیکھیں مجھے

گزرے گی کیا جمال رخ یار دیکھ کر

 گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر

حیرت ہے حُسن حسرتِ دیدار دیکھ کر

نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی

جی بُجھ گیا ہے تم کو دلآزار دیکھ کر

اس دلفگار شوق کی حسرت نہ پوچھیے

مجروح ہو گیا ہو جو تلوار دیکھ کر

دل ہاتھ ہیں اور دعا تیری یاد

 دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد

ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد

کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں

کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد

پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے

کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد

Saturday, 1 August 2026

خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے

 خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے

بونے سمجھ رہے ہیں وہ قد سے نکل گئے

اب ہم کو چھُو نہ پائے گی دنیا تِری ہوس

ہم تیری خواہشات کی زد سے نکل گئے

آنتیں ہی بھر رہی ہیں لہو سے مِرا شِکم

اب بھُوک کے محاذ رسد سے نکل گئے

چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا برا ہو جائے گا

 چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا بُرا ہو جائے گا

مان جا، ورنہ کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے گا

میں کہ بے نامی میں بھی خُوش اور وہ اہمیت طلب

ہم اگر ٹکرا گئے تو حادثہ ہو جائے گا

آخری پردہ بھی اس کو میری آنکھوں نے دیا

کیا خبر تھی وہ یہاں تک بے حیا ہو جائے گا

آج یہ کیسا مے خانے کا منظر منظر ہے

آج یہ کیسا مے خانے کا منظر منظر ہے

چھلکا ہوا پیاسوں کے لہُو سے ساغر ساغر ہے

ایسوں سے رُودادِ غمِ دل کہنے بیٹھے ہیں

جن کی زباں کا جُملہ جُملہ نشتر نشتر ہے

آؤ چلو تاریخ میں ڈُھونڈیں ایسے انساں کو

جس کی سچائی کا شاہد پتھر پتھر ہے

شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا

 چند لمحے مجھ سے ملنے آ گیا

شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا

میرا غم تو بڑھ گیا ہے اور تُو

اپنی دانست میں مجھے بہلا گیا

اپنی قسمت پر نہ ہو نازاں رہے

چاہنے والا کہ جو چاہا گیا

صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آتا ہے

 اب تو یہ سوچ کے بھی دل مِرا گھبراتا ہے 

صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آتا ہے

ایک اک کر کے بُجھے جاتے ہیں رخشندہ نجوم 

ایک تُو ہے جو بہ ہر سمت نظر آتا ہے

اب تِرا خواب بھی اک پیکر سیمیں کی طرح 

آسمانوں سے مِرے دل میں اتر آتا ہے