پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں
لوگ اب غم کی فضاؤں سے نکالے جائیں
شام ہوتے ہی مِرے دل سے لپٹ جاتے ہیں
غم کے آسیب جو گاؤں سے نکالے جائیں
آسماں کو دئیے جاتے ہیں ستارے کہہ کر
آبلے جب مِرے پاؤں سے نکالے جائیں
ہم چلے جاتے ہیں خود شہر سے ہجرت کر کے
اس سے پہلے کہ دُعاؤں سے نکالے جائیں
پیڑ جل جائے گا سانسوں کی تمازت سے قمر
دل جلے جتنے ہیں چھاؤں سے نکالے جائیں
کامران قمر
No comments:
Post a Comment