Wednesday, 5 August 2026

پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں

 پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں

لوگ اب غم کی فضاؤں سے نکالے جائیں

شام ہوتے ہی مِرے دل سے لپٹ جاتے ہیں

غم کے آسیب جو گاؤں سے نکالے جائیں

آسماں کو دئیے جاتے ہیں ستارے کہہ کر

آبلے جب مِرے پاؤں سے نکالے جائیں

ہم چلے جاتے ہیں خود شہر سے ہجرت کر کے

اس سے پہلے کہ دُعاؤں سے نکالے جائیں

پیڑ جل جائے گا سانسوں کی تمازت سے قمر

دل جلے جتنے ہیں چھاؤں سے نکالے جائیں


کامران قمر

No comments:

Post a Comment