خاک کی چادر پہ سونا چاہیے
بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے
خون مکھن بن کے نکلے جسم سے
قوم کو اتنا بلونا چاہیے
ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں
اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے
پوچھتی ہے بم دھماکوں کی صدا
قوم کے بچو! کھلونا چاہیے
خود اُگانے اور کھانے کے لیے
حسرتوں کا بیج بونا چاہیے
غفار بابر
No comments:
Post a Comment