Sunday, 16 August 2026

خاک کی چادر پہ سونا چاہیے

 خاک کی چادر پہ سونا چاہیے

بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے

خون مکھن بن کے نکلے جسم سے

قوم کو اتنا بلونا چاہیے

ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں

اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے

پوچھتی ہے بم دھماکوں کی صدا

قوم کے بچو! کھلونا چاہیے

خود اُگانے اور کھانے کے لیے

حسرتوں کا بیج بونا چاہیے


غفار بابر

No comments:

Post a Comment