آج ہوا کا رخ کہتا ہے، موسم پاگل برسے گا
زلف کسی کی لہرائے گی، ٹوٹ کے بادل برسے گا
مئے خانے میں آنے والو! ظلمت کی پروا نہیں
مئے کی بوتل گھل جائے گی، نور جھلاجھل برسے گا
عشق کو کھیل سمجھنے والو! پہلے جل کر خاک تو ہو
زلف کھلے گی لالہ رخوں کی، راکھ پہ آنچل برسے گا
مدت گزری مٹ گئی ہستی زنداں میں دلگیروں کی
رات ڈھلے اب بھی آتی ہیں آوازیں زنجیروں کی
عشق کا سینا چھلنی ہو گا، کڑکے گی ابرو کی کماں
سنتے ہیں اب بارش ہو گی شہروں شہروں تیروں کی
آگ، دھواں اور خون کے قصے کہتی ہے رنگوں کی زباں
شہرِ ستم میں جب بھی نمائش ہوتی ہے تصویروں کی