Showing posts with label رمز عظیم آبادی. Show all posts
Showing posts with label رمز عظیم آبادی. Show all posts

Saturday, 3 December 2016

عیب جو مجھ میں ہیں میرے ہیں ہنر تیرا ہے

عیب جو مجھ میں ہیں میرے ہیں ہنر تیرا ہے
میں مسافر ہوں، مگر زادِ سفر تیرا ہے
تُو یہ کہتا ہے سمندر ہے قلمرو میں مری
میں یہ کہتا ہوں کہ موجوں میں اثر تیرا ہے
تُو نے روشن کیۓ ہر طاق پہ فرقت کے چراغ
جس میں تنہائیاں رہتی ہیں وہ گھر تیرا ہے

جلنے کا ہنر صرف فتیلے کے لیے تھا

جلنے کا ہنر صرف فتیلے کے لیے تھا
روغن تو چراغوں میں وسیلے کے لیے تھا
صندل کا وہ گہوارہ جو نیلام ہوا ہے
اک راج گھرانے کے ہٹیلے کے لیے تھا
عیاش طبیعت کا ہے آئینہ اک اک اینٹ
یہ رنگ محل ایک رنگیلے کے لیے تھا

یہ انتہا ہے مرے دکھ بھرے فسانے کی

یہ انتہا ہے مِرے دکھ بھرے فسانے کی
بہت دنوں سے تمنا ہے مسکرانے کی
وہ دن گئے کہ مسرت میں لوگ ہنستے تھے
اب آنسوؤں میں ضرورت ہے مسکرانے کی
سکوتِ شب میں یہ اکثر ہوا مجھے افسوس
کہ جیسے رک سی گئیں گردشیں زمانے کی

اس صدی کا جب کبھی ختم سفر دیکھیں گے لوگ

اس صدی کا جب کبھی ختم سفر دیکھیں گے لوگ
وقت کے چہرے پہ خاکِ رہگزر دیکھیں گے لوگ
تخم ریزی کر رہا ہوں میں اسی امید پہ
پھولتے پھلتے ہوئے کل یہ شجر دیکھیں گے لوگ
ختم ہم پر ہیں شبِ زنداں کی ساری سختیاں
ذہن و دل آزاد ہو گا وہ سحر دیکھیں گے لوگ

Tuesday, 15 December 2015

ہے سمندر سامنے پیاسے بھی ہیں پانی بھی ہے

ہے سمندر سامنے پیاسے بھی ہیں پانی بھی ہے
تشنگی کیسے بجھائیں، یہ پریشانی بھی ہے
ہم مسافر ہیں سلگتی دھوپ، جلتی راہ کے
وہ تمہارا راستہ ہے جس میں آسانی بھی ہے
میں تو دل سے اس کی دانائی کا قائل ہو گیا
دوستوں کی صف میں ہے اور دشمنِ جانی بھی ہے

یہ کس کا بے ادب ہونٹوں پہ تیرے نام آتا ہے

یہ کس کا بے ادب ہونٹوں پہ تیرے نام آتا ہے
سنبھل اے دل! محبت پہ تِرا الزام آتا ہے 
کلی کے حسنِ فانی کا تصور گل کے ہنسنے پر
خطا شبنم کی تھی، بادِ صبا کا نام آتا ہے
مِرے حصے کی مے خود ہی چھلک جاتی ہے ساغر سے
تِرا کیا جرم ہے ساقی جو خالی جام آتا ہے

میں پیتا ہی رہا ساقی تمنا دل سے کب نکلی

میں پیتا ہی رہا ساقی! تمنا دل سے کب نکلی
صراحی سے جو نکلی مے تو وہ بھی تشنہ لب نکلی
ہوئی آنکھوں کے صدقے اور لبِ لعلیں کو چوم آئی
نظر معصوم تھی رخ تک جو پہنچی، بے ادب نکلی
جناب شیخ! تم کیا ہو، فرشتے بھی بہک جائیں
سنور کر جس گھڑی بوتل سے یہ بنتِ عنب نکلی

Saturday, 22 November 2014

آج ہوا کا رخ کہتا ہے موسم پاگل برسے گا

آج ہوا کا رخ کہتا ہے، موسم پاگل برسے گا
زلف کسی کی لہرائے گی، ٹوٹ کے بادل برسے گا
مئے خانے میں آنے والو! ظلمت کی پروا نہیں
مئے کی بوتل گھل جائے گی، نور جھلاجھل برسے گا
عشق کو کھیل سمجھنے والو! پہلے جل کر خاک تو ہو
زلف کھلے گی لالہ رخوں کی، راکھ پہ آنچل برسے گا

مدت گزری مٹ گئی ہستی زنداں میں دلگیروں کی

مدت گزری مٹ گئی ہستی زنداں میں دلگیروں کی
رات ڈھلے اب بھی آتی ہیں آوازیں زنجیروں کی
عشق کا سینا چھلنی ہو گا، کڑکے گی ابرو کی کماں
سنتے ہیں اب بارش ہو گی شہروں شہروں تیروں کی
آگ، دھواں اور خون کے قصے کہتی ہے رنگوں کی زباں
شہرِ ستم میں جب بھی نمائش ہوتی ہے تصویروں کی