کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے
بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے
ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے
یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے
کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر
کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے
کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے
بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے
ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے
یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے
کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر
کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے
آنکھوں کو آنسوؤں سے محبت ہے کیا کروں
دل پر تمہارے غم کی حکومت ہے کیا کروں
شیشوں کا ہے مکان کہ حیرانیوں کا گھر
صورت ہر ایک تیری ہی صورت ہے کیا کروں
ہو کر کبھی ادھر سے گزرتی نہیں بہار
میرے چمن کو تیری ضرورت ہے کیا کروں
اشک پلکوں پر اٹک کر رہ گئے
قافلے رستے میں تھک کر رہ گئے
بجھ گئے جل جل کے آشا کے دیے
رات جگنو سے چمک کر رہ گئے
کوئی ان کا پوچھنے والا نہ تھا
پھل درختوں پر جو پک کر رہ گئے
ہمنوا میرے مجھ سے جُدا ہو گئے
وہ خفا کیا ہوئے سب خفا ہو گئے
حسن کا رازِ سر بستہ کھُل جائے گا
لالہ و گُل اگر لب کشا ہو گئے
آپ اپنے ہی جلوے تھے پیش نظر
حسرتیں بڑھ گئیں آئینہ ہو گئے