Showing posts with label اسیر جبلپوری. Show all posts
Showing posts with label اسیر جبلپوری. Show all posts

Thursday, 5 February 2026

کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

 کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے

ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے

یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے

کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر

کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے

Thursday, 22 May 2025

آنکھوں کو آنسوؤں سے محبت ہے کیا کروں

 آنکھوں کو آنسوؤں سے محبت ہے کیا کروں

دل پر تمہارے غم کی حکومت ہے کیا کروں

شیشوں کا ہے مکان کہ حیرانیوں کا گھر

صورت ہر ایک تیری ہی صورت ہے کیا کروں

ہو کر کبھی ادھر سے گزرتی نہیں بہار

میرے چمن کو تیری ضرورت ہے کیا کروں

Thursday, 1 May 2025

اشک پلکوں پر اٹک کر رہ گئے

 اشک پلکوں پر اٹک کر رہ گئے

قافلے رستے میں تھک کر رہ گئے

بجھ گئے جل جل کے آشا کے دیے

رات جگنو سے چمک کر رہ گئے

کوئی ان کا پوچھنے والا نہ تھا

پھل درختوں پر جو پک کر رہ گئے

Saturday, 24 April 2021

ہمنوا میرے مجھ سے جدا ہو گئے

ہمنوا میرے مجھ سے جُدا ہو گئے

وہ خفا کیا ہوئے سب خفا ہو گئے

حسن کا رازِ سر بستہ کھُل جائے گا

لالہ و گُل اگر لب کشا ہو گئے

آپ اپنے ہی جلوے تھے پیش نظر

حسرتیں بڑھ گئیں آئینہ ہو گئے