Showing posts with label انیس احمد. Show all posts
Showing posts with label انیس احمد. Show all posts

Saturday, 27 May 2023

خبر ملی ہے کہ اٹھتا ہے دھواں پانی سے

 خبر ملی ہے کہ اٹھتا ہے دھواں پانی سے

آتشِ عشق بجھے، ممکن ہے کہاں پانی سے

میں زرِ اشک سنبھالوں تو ہنر ور ٹھہروں

میں اگر اشک اجالوں تو گماں پانی سے

ایک برسات ہر اک لمحہ رہے چاروں اور

جانے کیوں خالی رہے من کا جہاں پانی سے

Tuesday, 23 May 2023

صدائے عشق میں کچھ خواب ہیں ملائے گئے

 صدائے عشق میں کچھ خواب ہیں ملائے گئے

ستارے ٹانک کے مہتاب ہیں بنائے گئے

میں کہہ رہا کوئی اور یہ کہے نہ کہے

گلوں میں رنگ تِرے رنگ سے اٹھائے گئے

ثنائے عشق میں اک بات یہ بھی ہوتی ہے

کوئی گِلہ نہیں ، لب بے صدا ہی پائے گئے

Wednesday, 3 May 2023

مادہ پرست دور ہے اور شہر دوستاں

 مادہ پرست دور ہے اور شہرِ دوستاں

میں کب ہوں، کوئی اور ہے اور شہر دوستاں

پارہ مزاج آسماں،۔ آتش مزاج میں

شعلہ مزاج شور ہے اور شہر دوستاں

آواز کی طلب نہیں، تنہائی کے سبب

پھر خواہشوں کی گور ہے اور شہر دوستاں

Wednesday, 26 October 2022

اس جہاں میں کئی دوغلے لوگ ہیں

اس جہاں میں کئی دوغلے لوگ ہیں

ہے کہاں پر کمی دوغلے لوگ ہیں

عشق کب روگ ہے، زندگی بول تو

ان سے ہی مل گئی، دوغلے لوگ ہیں

جان لیتا ہوں میں، دوغلی بات کو

جس نے جیسے کہی، دوغلے لوگ ہیں

Friday, 9 April 2021

اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے

 اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے

آخر کو راس آ ہی گئی زندگی مجھے

وہ قتل کر کے مجھ کو پشیماں ہوئے تو کیا

لوٹا سکیں گے پھر نہ مِری زندگی مجھے

سارے جہاں میں ہوتی ہے امن و اماں کی بات

لیکن، نظر نہ آئی کہیں آشتی مجھے