خبر ملی ہے کہ اٹھتا ہے دھواں پانی سے
آتشِ عشق بجھے، ممکن ہے کہاں پانی سے
میں زرِ اشک سنبھالوں تو ہنر ور ٹھہروں
میں اگر اشک اجالوں تو گماں پانی سے
ایک برسات ہر اک لمحہ رہے چاروں اور
جانے کیوں خالی رہے من کا جہاں پانی سے
خبر ملی ہے کہ اٹھتا ہے دھواں پانی سے
آتشِ عشق بجھے، ممکن ہے کہاں پانی سے
میں زرِ اشک سنبھالوں تو ہنر ور ٹھہروں
میں اگر اشک اجالوں تو گماں پانی سے
ایک برسات ہر اک لمحہ رہے چاروں اور
جانے کیوں خالی رہے من کا جہاں پانی سے
صدائے عشق میں کچھ خواب ہیں ملائے گئے
ستارے ٹانک کے مہتاب ہیں بنائے گئے
میں کہہ رہا کوئی اور یہ کہے نہ کہے
گلوں میں رنگ تِرے رنگ سے اٹھائے گئے
ثنائے عشق میں اک بات یہ بھی ہوتی ہے
کوئی گِلہ نہیں ، لب بے صدا ہی پائے گئے
مادہ پرست دور ہے اور شہرِ دوستاں
میں کب ہوں، کوئی اور ہے اور شہر دوستاں
پارہ مزاج آسماں،۔ آتش مزاج میں
شعلہ مزاج شور ہے اور شہر دوستاں
آواز کی طلب نہیں، تنہائی کے سبب
پھر خواہشوں کی گور ہے اور شہر دوستاں
اس جہاں میں کئی دوغلے لوگ ہیں
ہے کہاں پر کمی دوغلے لوگ ہیں
عشق کب روگ ہے، زندگی بول تو
ان سے ہی مل گئی، دوغلے لوگ ہیں
جان لیتا ہوں میں، دوغلی بات کو
جس نے جیسے کہی، دوغلے لوگ ہیں
اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے
آخر کو راس آ ہی گئی زندگی مجھے
وہ قتل کر کے مجھ کو پشیماں ہوئے تو کیا
لوٹا سکیں گے پھر نہ مِری زندگی مجھے
سارے جہاں میں ہوتی ہے امن و اماں کی بات
لیکن، نظر نہ آئی کہیں آشتی مجھے