Showing posts with label پرویز شہریار. Show all posts
Showing posts with label پرویز شہریار. Show all posts

Sunday, 2 July 2023

میری بعض نظمیں الہامی ہیں

(الہامی نظمیں)


ادب تو سمندر ہے

ایک بحر بے کراں ہے

اس کی ہر موج نئی

اس کی ہر لہر نئی ہوتی ہے

سمندر کا وجود قطروں سے ہے

Wednesday, 21 June 2023

میرے ایک دوست نے پوچھا ہے

 اس نے پوچھا ہے

٭

میری ایک نظم پڑھ کے

میرے ایک دوست نے پوچھا ہے

یہ نظم آپ نے کب لکھی ہے

اب میں اسے یہ کیسے سمجھاؤں

شاعر کبھی زمان و مکان کے دائرے میں

Wednesday, 14 June 2023

یہ ایک ایسی کالی رات ہے جس کی صبح نہیں

 کالی رات کے نفوس


یہ ایک ایسی کالی رات ہے

جس کی صبح نہیں

ہم کسی ایسے اساطیری سُرنگ سے گزر رہے ہیں

جہاں دور دور تک روشنی آتی نہیں نظر

ہر طرف گُھپ اندھیرا ہے

Monday, 12 June 2023

ایک نظم تمہارے لیے

 ایک نظم تمہارے لیے


اتنی شدت سے

چاہا ہے

تمہارے لبوں کے

جام و سبو، تمہاری آنکھوں کے پیمانوں کو

تمہاری سیاہ زلفوں، تمہاری جھیل سی نیلی آنکھوں کو کبھی

Friday, 9 June 2023

اے دختر مشرق تیرے حوصلے کو سلام

 دُخترِ مشرق


اے دُخترِ مشرق

تیرے حوصلے کو سلام

دُخترِ مشرق کا یوں تو ہوتا ہے

ایک ننھا سا دل

جسے دے کر ہر ایک کو وہ اپنا بنانے لگتی ہے