(الہامی نظمیں)
ادب تو سمندر ہے
ایک بحر بے کراں ہے
اس کی ہر موج نئی
اس کی ہر لہر نئی ہوتی ہے
سمندر کا وجود قطروں سے ہے
(الہامی نظمیں)
ادب تو سمندر ہے
ایک بحر بے کراں ہے
اس کی ہر موج نئی
اس کی ہر لہر نئی ہوتی ہے
سمندر کا وجود قطروں سے ہے
اس نے پوچھا ہے
٭
میری ایک نظم پڑھ کے
میرے ایک دوست نے پوچھا ہے
یہ نظم آپ نے کب لکھی ہے
اب میں اسے یہ کیسے سمجھاؤں
شاعر کبھی زمان و مکان کے دائرے میں
کالی رات کے نفوس
یہ ایک ایسی کالی رات ہے
جس کی صبح نہیں
ہم کسی ایسے اساطیری سُرنگ سے گزر رہے ہیں
جہاں دور دور تک روشنی آتی نہیں نظر
ہر طرف گُھپ اندھیرا ہے
ایک نظم تمہارے لیے
اتنی شدت سے
چاہا ہے
تمہارے لبوں کے
جام و سبو، تمہاری آنکھوں کے پیمانوں کو
تمہاری سیاہ زلفوں، تمہاری جھیل سی نیلی آنکھوں کو کبھی
دُخترِ مشرق
اے دُخترِ مشرق
تیرے حوصلے کو سلام
دُخترِ مشرق کا یوں تو ہوتا ہے
ایک ننھا سا دل
جسے دے کر ہر ایک کو وہ اپنا بنانے لگتی ہے