(الہامی نظمیں)
ادب تو سمندر ہے
ایک بحر بے کراں ہے
اس کی ہر موج نئی
اس کی ہر لہر نئی ہوتی ہے
سمندر کا وجود قطروں سے ہے
سمندر کا حسنِ دلفریب
اس کی آتی جاتی لہروں سے ہے
موج در موج
اس کی لہریں پُر کشش، پُر اسرار ہوتی جاتی ہیں
سمندر ایک بحر بے کراں ہوتا جاتا ہے
یہ امواج نجانے کیسی اتھاہ گہرائیوں سے چل کر
ہم تک آتی ہیں
اسے سطحی طور پر سمجھنے کی کوشش کرنا
نادانی ہے
میری نظم ایک قطرہ سہی
ان قطروں سے مل کر ہی
میری نظمیں جو ایک تموّج اُچھالتی ہیں
اسی سے سمندر بھی متحرک رہتا ہے
سمندر کی گہرائیوں کا اندازہ
مچھیرے بھلا کیسے لگا سکتے ہیں
یہ تو کوئی غوطہ خور ہی بتا سکتا ہے
جو اس کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کے
موتی نکال لاتا ہے
میری بعض نظمیں بھی
عرق ریزی کی متقاضی ہو گئی ہیں
انہیں سطحی طور دیکھنا، عجلت میں پرکھنا
بڑی نادانی ہو گی
میری بعض نظمیں الہامی ہیں
میرے وجدان کی ترجمانی ہیں
جنہیں کوئی سچا ادیب
کوئی پارکھی ہی سمجھ سکتا ہے
مجھے اس پارکھی کی تلاش ہے
پرویز شہریار
No comments:
Post a Comment