دکھ کے عالم میں بھی خاموشی سے جینے والے
ایسے ملتے ہیں کہاں لوگ قرینے والے
باقی سب زخم تو بھر جاتے ہیں رفتہ رفتہ
مجھ کو بے چین رکھیں زخم یہ سینے والے
اپنی چاہت کے بہت جام پلائے تھے جنہیں
یار میرے وہی نکلے یہاں، کینے والے
دکھ کے عالم میں بھی خاموشی سے جینے والے
ایسے ملتے ہیں کہاں لوگ قرینے والے
باقی سب زخم تو بھر جاتے ہیں رفتہ رفتہ
مجھ کو بے چین رکھیں زخم یہ سینے والے
اپنی چاہت کے بہت جام پلائے تھے جنہیں
یار میرے وہی نکلے یہاں، کینے والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دِین خُدا کی عظمت و زِینت ہیں فاطمہؑ
تقدیسِ ہل اتیٰ کی وجاہت ہیں فاطمہؑ
سمجھے گا کون کیا ہیں حقیقت میں فاطمہؑ
سچ تو ہے یہ کہ رازِ مشیّت ہیں فاطمہؑ
سارے امام خلق پہ حُجّت خُدا کی ہیں
سب آئمہ کے واسطے حُجّت ہیں فاطمہؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شعورِ کُن فیکوں کی جلی کتاب علیؑ
نبیؐ مدینۂ دانش، تو اس کا باب علیؑ
مہک سے جس کی یہ سارا جہاں مہکتا ہے
وہ گُلستانِ محمدﷺ کا اک گُلاب علیؑ
جو نُورِ فہم کی برسات لے کے آتا ہے
خُدائے پاک کی رحمت کا وہ سحاب علیؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کچھ نہیں دنیا میں اپنا، بس سوائے مصطفٰیؐ
زادِ راہ ہے بس یہی میرا، ولائے مصطفٰیؐ
ہو عطا مجھ کو یہ نعمت بہ وسیلہ سیدہؑ
لب پہ میرے ہر گھڑی ہو بس ثنائے مصطفٰیؐ
کیوں لبھائے گا مجھے دنیاوی منصب دوستو
ناز ہے میرا کہ میں ہوں خاک پائے مصطفٰیؐ
حال وہ عشق نے کیا میرا
اب نہیں خُود سے رابطہ میرا
موت کا مجھ کو کوئی خوف نہیں
کون روکے گا راستہ میرا؟
میرے دُشمن کو تُو نہ شہ دیتا
تجھ سے ہے بس یہی گِلہ میرا
کبھی زمین، کبھی آسماں بناتے ہیں
تمہارے واسطے اک سائباں بناتے ہیں
یہ نفرتوں کا نگر اور ہم سے دیوانے
محبتوں سے گندھا اک مکاں بناتے ہیں
گلاب بانٹتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں
ہم اپنے شہر میں روشن سماں بناتے ہیں