Monday, 10 January 2022

کبھی زمین کبھی آسماں بناتے ہیں

 کبھی زمین، کبھی آسماں بناتے ہیں

تمہارے واسطے اک سائباں بناتے ہیں

یہ نفرتوں کا نگر اور ہم سے دیوانے

محبتوں سے گندھا اک مکاں بناتے ہیں

گلاب بانٹتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں

ہم اپنے شہر میں روشن سماں بناتے ہیں

وہ ہر کسی سے یہاں بد گمان رہتا ہے

درود پڑھ کے اسے خوش گماں بناتے ہیں

الگ الگ سے بناتے ہیں یہ نشاں اور ہم

⚑عَلم، حسینؑ کا اپنا نشاں بناتے ہیں⚑

ہم اپنی خواہشیں بالائے طاق رکھ کے رضا

نگر میں آ کے نیا اک مکاں بناتے ہوں


فرخ رضا ترمذی

No comments:

Post a Comment