Showing posts with label طارق جامی. Show all posts
Showing posts with label طارق جامی. Show all posts

Tuesday, 10 January 2023

تیز لہجے کی انی پر نہ اٹھا لیں یہ کہیں

 تیز لہجے کی انی پر نہ اٹھا لیں یہ کہیں

بچے نادان ہیں پتھر نہ اٹھا لیں یہ کہیں

جن جزیروں کو یہ جاتے ہیں قناعت کر لو

سوچتے رہنے میں لنگر نہ اٹھا لیں یہ کہیں

اعتماد ان پہ کرو خدشہ ہے یہ بھی ورنہ

دستِ ساحل سے سمندر نہ اٹھا لیں یہ کہیں

Sunday, 8 January 2023

اس کے بدن کا لمس ابھی انگلیوں میں ہے

  اس کے بدن کا لمس ابھی انگلیوں میں ہے

خوشبو وہ چاندنی کی مِرے ذائقوں میں ہے

میں سوچ کے بھنور میں تھا جس شخص کے لیے

وہ خود بھی کچھ دنوں سے بڑی الجھنوں میں ہے

اس کا وجود خامشی کا اشتہار ہے

لگتا ہے ایک عمر سے وہ مقبروں میں ہے

Saturday, 7 January 2023

میں بام و در پہ جو اب سائیں سائیں لکھتا ہوں

 میں بام و در پہ جو اب سائیں سائیں لکھتا ہوں

تمام شہر کی سڑکوں کی رائیں لکھتا ہوں

طویل گلیوں میں خاموشیاں اگی ہیں مگر

ہر اک دریچے پہ جا کر صدائیں لکھتا ہوں

سفید دھوپ کے تودے ہی جن پہ گرتے ہیں

انہی اداس گھروں کی کتھائیں میں لکھتا ہوں

Thursday, 12 August 2021

ڈوبا ہوں تو کس شخص کا چہرہ نہیں اترا

 ڈُوبا ہوں تو کس شخص کا چہرہ نہیں اُترا

میں درد کے قُلزم میں بھی تنہا نہیں اترا

زنجیرِ نفس لکھتی رہی درد کی آیات

اک پَل کو مگر سُکھ کا صحیفہ نہیں اترا

انسان معلّق ہیں خلاؤں کے بھنور میں

اشجار سے لگتا ہے کہ دریا نہیں اترا

Wednesday, 2 June 2021

سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا

 سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا

کیسے عجب مزاج کا مالک وہ شخص تھا

پھر دوسرے ہی دن تھا عجب اس شجر کا حال

سبزے کی ان منڈیروں پہ پت جھڑ کا رقص تھا

تجزیہ کرتا ہوں تو ندامت ہی ہوتی ہے

در اصل میرے اپنے روئیے میں نقص تھا