تیز لہجے کی انی پر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
بچے نادان ہیں پتھر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
جن جزیروں کو یہ جاتے ہیں قناعت کر لو
سوچتے رہنے میں لنگر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
اعتماد ان پہ کرو خدشہ ہے یہ بھی ورنہ
دستِ ساحل سے سمندر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
تیز لہجے کی انی پر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
بچے نادان ہیں پتھر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
جن جزیروں کو یہ جاتے ہیں قناعت کر لو
سوچتے رہنے میں لنگر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
اعتماد ان پہ کرو خدشہ ہے یہ بھی ورنہ
دستِ ساحل سے سمندر نہ اٹھا لیں یہ کہیں
اس کے بدن کا لمس ابھی انگلیوں میں ہے
خوشبو وہ چاندنی کی مِرے ذائقوں میں ہے
میں سوچ کے بھنور میں تھا جس شخص کے لیے
وہ خود بھی کچھ دنوں سے بڑی الجھنوں میں ہے
اس کا وجود خامشی کا اشتہار ہے
لگتا ہے ایک عمر سے وہ مقبروں میں ہے
میں بام و در پہ جو اب سائیں سائیں لکھتا ہوں
تمام شہر کی سڑکوں کی رائیں لکھتا ہوں
طویل گلیوں میں خاموشیاں اگی ہیں مگر
ہر اک دریچے پہ جا کر صدائیں لکھتا ہوں
سفید دھوپ کے تودے ہی جن پہ گرتے ہیں
انہی اداس گھروں کی کتھائیں میں لکھتا ہوں
ڈُوبا ہوں تو کس شخص کا چہرہ نہیں اُترا
میں درد کے قُلزم میں بھی تنہا نہیں اترا
زنجیرِ نفس لکھتی رہی درد کی آیات
اک پَل کو مگر سُکھ کا صحیفہ نہیں اترا
انسان معلّق ہیں خلاؤں کے بھنور میں
اشجار سے لگتا ہے کہ دریا نہیں اترا
سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا
کیسے عجب مزاج کا مالک وہ شخص تھا
پھر دوسرے ہی دن تھا عجب اس شجر کا حال
سبزے کی ان منڈیروں پہ پت جھڑ کا رقص تھا
تجزیہ کرتا ہوں تو ندامت ہی ہوتی ہے
در اصل میرے اپنے روئیے میں نقص تھا