مِری طرف تِری اٹھتی نگاہ تھوڑی ہے
تِرے گریز میں اب اشتباہ تھوڑی ہے
چراغ جلتے رہیں گے ہوا بغور یہ سن
ہنر پہ تجھ کو ابھی دستگاہ تھوڑی ہے
ہے ایک عشق سے آمیز راستے کا سفر
ذرا سی دور بہ طرز نباہ تھوڑی ہے
مِری طرف تِری اٹھتی نگاہ تھوڑی ہے
تِرے گریز میں اب اشتباہ تھوڑی ہے
چراغ جلتے رہیں گے ہوا بغور یہ سن
ہنر پہ تجھ کو ابھی دستگاہ تھوڑی ہے
ہے ایک عشق سے آمیز راستے کا سفر
ذرا سی دور بہ طرز نباہ تھوڑی ہے
ناقابل اشاعت
میری یہ نظم شائع نہیں ہو سکتی
یہ اشاعت کے قابل نہیں
اس میں شامل ہے گہرا دکھ
ہم سب کا مشترکہ دکھ
جسے محسوس کیا جا سکتا ہے
خوشبو کے دُمدار تارے (مدرز ڈے کی مناسبت سے نظم)
سنا ہے
کہ خوشبو کے دُمدار تارے
بہت سے ستارے
مِری سمت
بڑھتے چلے آ رہے ہیں
آنسوؤں سے بنے ہوئے ہم لوگ
ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح
پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں
کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے
صورتِ گل ہوا سے کیا شکوہ
شام کی آنچ سے الجھنا کیا
کرتے رہنا سہل ہمیشہ ان کی ہر تدبیر بہت
محنت اور مشقت والے ہاتھوں کی توقیر بہت
اپنے لفظوں اور خوابوں کے ریشم سے اے کوزہ گرو
اِن کے گِرد بنائے رکھنا، جذبوں کی زنجیر بہت
اک صدمے سے دُوجےغم تک کس کو یہ معلوم نہیں
کھیل کیا کرتی ہے اِن سے قسمت اور تقدیر بہت
آگہی کب یہاں پلکوں پہ سہی جاتی ہے
بات یہ شدتِ گِریہ سے کہی جاتی ہے
ہم اسے انفس و آفاق سے رکھتے ہیں پرے
شام کوئی جو تِرے غم سے تہی جاتی ہے
اک ذرا ٹھہر ابھی مہلتِ بے نام و نشاں
درمیاں بات کوئی ہم سے رہی جاتی ہے
کاغذ کی کشتیوں سی بنا لائے محبت
دریا سے کہو پھر سے بہا لائے محبت
سب شہر تھا سائے کا طلبگار مگر ہم
اک دھوپ کی شدت سے بچا لائے محبت
لگتا ہے ہر اک فرد یہاں سب کو عدو سا
اس خوف کی بستی میں خدا لائے محبت