Showing posts with label محسن شکیل. Show all posts
Showing posts with label محسن شکیل. Show all posts

Monday, 5 December 2022

مری طرف تری اٹھتی نگاہ تھوڑی ہے

 مِری طرف تِری اٹھتی نگاہ تھوڑی ہے

تِرے گریز میں اب اشتباہ تھوڑی ہے

چراغ جلتے رہیں گے ہوا بغور یہ سن

ہنر پہ تجھ کو ابھی دستگاہ تھوڑی ہے

ہے ایک عشق سے آمیز راستے کا سفر

ذرا سی دور بہ طرز نباہ تھوڑی ہے

Sunday, 17 July 2022

ناقابل اشاعت میری یہ نظم شائع نہیں ہو سکتی

 ناقابل اشاعت


میری یہ نظم شائع نہیں ہو سکتی

یہ اشاعت کے قابل نہیں

اس میں شامل ہے گہرا دکھ

ہم سب کا مشترکہ دکھ

جسے محسوس کیا جا سکتا ہے

Tuesday, 22 March 2022

سنا ہے کہ خوشبو کے دمدار تارے

  خوشبو کے دُمدار تارے  (مدرز ڈے کی مناسبت سے نظم)


سنا ہے

کہ خوشبو کے دُمدار تارے

بہت سے ستارے

مِری سمت

بڑھتے چلے آ رہے ہیں

Thursday, 6 January 2022

آنسوؤں سے بنے ہوئے ہم لوگ

 آنسوؤں سے بنے ہوئے ہم لوگ

ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح

پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں

کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے

صورتِ گل ہوا سے کیا شکوہ

شام کی آنچ سے الجھنا کیا

Friday, 24 December 2021

کرتے رہنا سہل ہمیشہ ان کی ہر تدبیر بہت

 کرتے رہنا سہل ہمیشہ ان کی ہر تدبیر بہت

محنت اور مشقت والے ہاتھوں کی توقیر بہت

اپنے لفظوں اور خوابوں کے ریشم سے اے کوزہ گرو

اِن کے گِرد بنائے رکھنا، جذبوں کی زنجیر بہت

اک صدمے سے دُوجےغم تک کس کو یہ معلوم نہیں

کھیل کیا کرتی ہے اِن سے قسمت اور تقدیر بہت

Thursday, 23 December 2021

آگہی کب یہاں پلکوں پہ سہی جاتی ہے

 آگہی کب یہاں پلکوں پہ سہی جاتی ہے

بات یہ شدتِ گِریہ سے کہی جاتی ہے

ہم اسے انفس و آفاق سے رکھتے ہیں پرے

شام کوئی جو تِرے غم سے تہی جاتی ہے

اک ذرا ٹھہر ابھی مہلتِ بے نام و نشاں

درمیاں بات کوئی ہم سے رہی جاتی ہے

Wednesday, 22 December 2021

کاغذ کی کشتیوں سی بنا لائے محبت

 کاغذ کی کشتیوں سی بنا لائے محبت

دریا سے کہو پھر سے بہا لائے محبت

سب شہر تھا سائے کا طلبگار مگر ہم

اک دھوپ کی شدت سے بچا لائے محبت

لگتا ہے ہر اک فرد یہاں سب کو عدو سا

اس خوف کی بستی میں خدا لائے محبت