Wednesday, 22 December 2021

کاغذ کی کشتیوں سی بنا لائے محبت

 کاغذ کی کشتیوں سی بنا لائے محبت

دریا سے کہو پھر سے بہا لائے محبت

سب شہر تھا سائے کا طلبگار مگر ہم

اک دھوپ کی شدت سے بچا لائے محبت

لگتا ہے ہر اک فرد یہاں سب کو عدو سا

اس خوف کی بستی میں خدا لائے محبت

تم اس کے بہانے چلے آئے ہو مِرے پاس

تم کو مِرے کوچے میں سدا لائے محبت

تا حدِ نظر دشت ہے گلزارِ اِرم سا

دیکھو تو کِھلا موسمِ لالائے محبت

تم ایک محبت کی طرح مجھ میں مکیں ہو

اب تم سا کوئی اور ذرا لائے محبت 

موجود ہوں ہاتھوں کی لکیروں میں ازل سے

تم میرے لیے کس سے لکھا لائے محبت

ہم ایسے تہی دست تِرے اِذن پہ محسن

پا بستۂ الفت تھے، اٹھا لائے محبت


محسن شکیل

No comments:

Post a Comment