تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ انکہی رہ جائے گی
گفتگو اتنی بڑھے گی، کچھ کمی رہ جائے گی
اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد
آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی
کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں
کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی
حرص کے طوفان میں ڈھے جائیں گے سارے محل
شہر میں درویش کی اک جھونڑی رہ جائے گی
چھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشنا
صبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گی
رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیل اس آس میں
میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی
خالد سہیل
No comments:
Post a Comment