Wednesday, 22 December 2021

تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

 تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ انکہی رہ جائے گی

گفتگو اتنی بڑھے گی، کچھ کمی رہ جائے گی

اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد

آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی

کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں

کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی

حرص کے طوفان میں ڈھے جائیں گے سارے محل

شہر میں درویش کی اک جھونڑی رہ جائے گی

چھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشنا

صبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گی

رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیل اس آس میں

میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی


خالد سہیل

No comments:

Post a Comment