Showing posts with label غلام مرتضیٰ راہی. Show all posts
Showing posts with label غلام مرتضیٰ راہی. Show all posts

Tuesday, 30 November 2021

تعبیروں سے بند قبائے خواب کھلے

 تعبیروں سے بند قبائے خواب کُھلے

مجھ پر میرے مستقبل کے باب کھلے

جس کے ہاتھوں بادبان کا زور بندھا

اسی ہوا کے ناخن سے گرداب کھلے

اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا

مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے

Thursday, 18 November 2021

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے

 رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے

بہلائے جاتے ہیں یہاں پیاسے سراب سے

دن میں بھی گھر اجالے سے محروم ہے تو ہے

کرنوں کا کیا سوال کروں آفتاب سے

بالکل درست ہوتے ہوئے فیل ہو گیا

میں نے جواب نقل کیا تھا کتاب سے

Saturday, 6 November 2021

قدموں سے میرے گرد سفر کون لے گیا

 قدموں سے میرے گردِ سفر کون لے گیا

منزل پہ راستے کی خبر کون لے گیا

رُوئے افق سے نورِ سحر کون لے گیا

اس اوج تک کمندِ نظر کون لے گیا

رکھ دی گئی تھی قدموں پہ اس کے اتار کر

دستار جانتی ہے کہ سر کون لے گیا

Thursday, 4 November 2021

بات بڑھتی گئی آگے مری نادانی سے

 بات بڑھتی گئی آگے مِری نادانی سے

کتنا ارزاں ہوا میں اپنی فراوانی سے

خاک ہی خاک نظر آئی مجھے چاروں طرف

جل گئے چاند ستارے مِری تابانی سے

بے تحاشہ جیے ہم لوگ ہمیں ہوش نہیں

وقت آرام سے گزرا کہ پریشانی سے

Wednesday, 3 November 2021

جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح

 جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح

تو پھر گزر بھی گئے سانحات اچھی طرح

میں بار بار گرایا گیا بلندی سے

مجھے تو ہو گیا حاصل ثبات اچھی طرح

کتاب سا مِرا چہرہ تِری نگاہ میں ہے

بیان کر مِری ذات و صفات اچھی طرح

Friday, 2 April 2021

وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو

 وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو

بنایا اس نے کھیون ہار مجھ کو

زباں کی دھار سے دیکھا ملا کر

لگی کچھ تیز کم تلوار مجھ کو

بٹھا رکھا مجھے سائے میں جس نے

گرانی تھی وہی دیوار مجھ کو