تعبیروں سے بند قبائے خواب کُھلے
مجھ پر میرے مستقبل کے باب کھلے
جس کے ہاتھوں بادبان کا زور بندھا
اسی ہوا کے ناخن سے گرداب کھلے
اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا
مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے
تعبیروں سے بند قبائے خواب کُھلے
مجھ پر میرے مستقبل کے باب کھلے
جس کے ہاتھوں بادبان کا زور بندھا
اسی ہوا کے ناخن سے گرداب کھلے
اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا
مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے
رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے
بہلائے جاتے ہیں یہاں پیاسے سراب سے
دن میں بھی گھر اجالے سے محروم ہے تو ہے
کرنوں کا کیا سوال کروں آفتاب سے
بالکل درست ہوتے ہوئے فیل ہو گیا
میں نے جواب نقل کیا تھا کتاب سے
قدموں سے میرے گردِ سفر کون لے گیا
منزل پہ راستے کی خبر کون لے گیا
رُوئے افق سے نورِ سحر کون لے گیا
اس اوج تک کمندِ نظر کون لے گیا
رکھ دی گئی تھی قدموں پہ اس کے اتار کر
دستار جانتی ہے کہ سر کون لے گیا
بات بڑھتی گئی آگے مِری نادانی سے
کتنا ارزاں ہوا میں اپنی فراوانی سے
خاک ہی خاک نظر آئی مجھے چاروں طرف
جل گئے چاند ستارے مِری تابانی سے
بے تحاشہ جیے ہم لوگ ہمیں ہوش نہیں
وقت آرام سے گزرا کہ پریشانی سے
جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح
تو پھر گزر بھی گئے سانحات اچھی طرح
میں بار بار گرایا گیا بلندی سے
مجھے تو ہو گیا حاصل ثبات اچھی طرح
کتاب سا مِرا چہرہ تِری نگاہ میں ہے
بیان کر مِری ذات و صفات اچھی طرح
وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو
بنایا اس نے کھیون ہار مجھ کو
زباں کی دھار سے دیکھا ملا کر
لگی کچھ تیز کم تلوار مجھ کو
بٹھا رکھا مجھے سائے میں جس نے
گرانی تھی وہی دیوار مجھ کو