Wednesday, 3 November 2021

جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح

 جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح

تو پھر گزر بھی گئے سانحات اچھی طرح

میں بار بار گرایا گیا بلندی سے

مجھے تو ہو گیا حاصل ثبات اچھی طرح

کتاب سا مِرا چہرہ تِری نگاہ میں ہے

بیان کر مِری ذات و صفات اچھی طرح

تو اپنے سینے سے مجھ کو یوں ہی لگائے رکھ

سمجھ لوں تا کہ تِرے دل کی بات اچھی طرح

تجھے بنایا گیا ہے جو اشرف المخلوق

سمو کے ذات میں رکھ کائنات اچھی طرح

کسی نے زہر ملا کر نہ دے دیا ہو تجھے

میں چکھ تو لوں تِرے قند و نبات اچھی طرح


غلام مرتضیٰ راہی

No comments:

Post a Comment