ہم کو ہمارے صبر کا خوب صلہ دیا گیا
یعنی دوا نہ دی گئی، درد بڑھا دیا گیا
ان کی مراد ہے یہی ختم نہ ہو یہ تیرگی
جس نے ذرا بڑھائی لو، اس کو بجھا دیا گیا
پھر کہا گیا کہ آپ شوق سے سانس لیجئے
پہلے ہوائے شہر میں، زہر ملا دیا گیا
ہم کو ہمارے صبر کا خوب صلہ دیا گیا
یعنی دوا نہ دی گئی، درد بڑھا دیا گیا
ان کی مراد ہے یہی ختم نہ ہو یہ تیرگی
جس نے ذرا بڑھائی لو، اس کو بجھا دیا گیا
پھر کہا گیا کہ آپ شوق سے سانس لیجئے
پہلے ہوائے شہر میں، زہر ملا دیا گیا
یہ جگنوؤں کی قیادت میں چلنے والے لوگ
تھے کل چراغ کی مانند جلنے والے لوگ
ہمیں بھی وقت نے پتھر صفت بنا ڈالا
ہمیں تھے موم کی صورت پگھلنے والے لوگ
ہمیں نے اپنے چراغوں کو پائمال کیا
ہمیں ہیں اب کفِ افسوس ملنے والے لوگ
کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے
پھر تِرے خواب مجھے مجھ سے چرانے آئے
پھر دھنک رنگ تمناؤں نے گھیرا مجھ کو
پھر تِرے خط مجھے دیوانہ بنانے آئے
پھر تِری یاد میں آنکھیں ہوئیں شبنم شبنم
پھر وہی نیند نہ آنے کے زمانے آئے
اسے بچائے کوئی کیسے ٹوٹ جانے سے
وہ دل جو باز نہ آئے فریب کھانے سے
وہ شخص ایک ہی لمحے میں ٹوٹ پھوٹ گیا
جسے تراش رہا تھا میں اک زمانے سے
رکی رکی سی نظر آ رہی ہے نبضِ حیات
یہ کون اٹھ کے گیا ہے میرے سرہانے سے
رات کا پچھلا پہر کیسی نشانی دے گیا
مُنجمد آنکھوں کے دریا کو روانی دے گیا
میں صداقت کا علمبردار سمجھا تھا جسے
وہ بھی جب رُخصت ہُوا تو اک کہانی دے گیا
پہلے اپنا تجزیہ کرنے پہ اُکسایا مجھے
پھر نتیجہ خیزیوں کو بے زبانی دے گیا
بھیگی بھیگی پلکوں پر یہ جو اک ستارہ ہے
چاہتوں کے موسم کا آخری شمارہ ہے
امن کے پرندوں کی سرحدیں نہیں ہوتیں
ہم جہاں ٹھہر جائیں، وہ وطن ہمارا ہے
شام دستکیں دے گی تب سمجھ میں آئے گا
زندگی تلاطم ہے، موت اک سہارا ہے
سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا
اب کوئی خواب نہیں نیند اُڑانے والا
یہ وہ صحرا ہے سمجھائے نہ اگر تو رستہ
خاک ہو جائے یہاں خاک اُڑانے والا
کیا کرے آنکھ جو پتھرانے کی خواہش نہ کرے
خواب ہو جائے اگر خواب دکھانے والا
اس کی خُوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے
نام کا نام ہے، رُسوائی کی رُسوائی ہے
دل ہے اک اور دوعالم کا تمنائی ہے
دوست کا دوست ہے، ہرجائی کا ہرجائی ہے
ہجر کی رات ہے اور اُن کے تصور کا چراغ
بزم کی بزم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے
پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے
ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے
تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں
ان چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے
کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہُنر لفظوں کو
تیری چِٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے
کبھی کسک جدائی کی، کبھی مہک وصال کی
قدم نہ تھے زمیں پہ جب وہ عمر تھی کمال کی
کئی دنوں سے فکر کا افق اداس اداس ہے
نہ جانے کھو گئی کہاں دھنک تِرے خیال کی
رفاقتوں کے وہ نشاں نہ جانے کھو گئے کہاں
وہ خوشبوؤں کی رہگزر، وہ رتجگوں کی پالکی
ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی
مدتوں بعد چلا ان پہ ہمارا جادو
مدتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی