Showing posts with label اقبال اشہر. Show all posts
Showing posts with label اقبال اشہر. Show all posts

Saturday, 11 March 2023

ہم کو ہمارے صبر کا خوب صلہ دیا گیا

ہم کو ہمارے صبر کا خوب صلہ دیا گیا

یعنی دوا نہ دی گئی، درد بڑھا دیا گیا

ان کی مراد ہے یہی ختم نہ ہو یہ تیرگی

جس نے ذرا بڑھائی لو، اس کو بجھا دیا گیا

پھر کہا گیا کہ آپ شوق سے سانس لیجئے

پہلے ہوائے شہر میں، زہر ملا دیا گیا

Monday, 27 June 2022

یہ جگنوؤں کی قیادت میں چلنے والے لوگ

یہ جگنوؤں کی قیادت میں چلنے والے لوگ

تھے کل چراغ کی مانند جلنے والے لوگ

ہمیں بھی وقت نے پتھر صفت بنا ڈالا

ہمیں تھے موم کی صورت پگھلنے والے لوگ

ہمیں نے اپنے چراغوں کو پائمال کیا

ہمیں ہیں اب کفِ افسوس ملنے والے لوگ

Saturday, 30 April 2022

کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے

 کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے

پھر تِرے خواب مجھے مجھ سے چرانے آئے

پھر دھنک رنگ تمناؤں نے گھیرا مجھ کو

پھر تِرے خط مجھے دیوانہ بنانے آئے

پھر تِری یاد میں آنکھیں ہوئیں شبنم شبنم

پھر وہی نیند نہ آنے کے زمانے آئے

Wednesday, 27 April 2022

اسے بچائے کوئی کیسے ٹوٹ جانے سے

 اسے بچائے کوئی کیسے ٹوٹ جانے سے

وہ دل جو باز نہ آئے فریب کھانے سے

وہ شخص ایک ہی لمحے میں ٹوٹ پھوٹ گیا

جسے تراش رہا تھا میں اک زمانے سے

رکی رکی سی نظر آ رہی ہے نبضِ حیات

یہ کون اٹھ کے گیا ہے میرے سرہانے سے

Friday, 16 July 2021

رات کا پچھلا پہر کیسی نشانی دے گیا

 رات کا پچھلا پہر کیسی نشانی دے گیا

مُنجمد آنکھوں کے دریا کو روانی دے گیا

میں صداقت کا علمبردار سمجھا تھا جسے

وہ بھی جب رُخصت ہُوا تو اک کہانی دے گیا

پہلے اپنا تجزیہ کرنے پہ اُکسایا مجھے

پھر نتیجہ خیزیوں کو بے زبانی دے گیا

Monday, 17 May 2021

بھیگی بھیگی پلکوں پر یہ جو اک ستارہ ہے

 بھیگی بھیگی پلکوں پر یہ جو اک ستارہ ہے 

چاہتوں کے موسم کا آخری شمارہ ہے 

امن کے پرندوں کی سرحدیں نہیں ہوتیں 

ہم جہاں ٹھہر جائیں، وہ وطن ہمارا ہے 

شام دستکیں دے گی تب سمجھ میں آئے گا 

زندگی تلاطم ہے، موت اک سہارا ہے 

Wednesday, 31 March 2021

سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا

 سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا

اب کوئی خواب نہیں نیند اُڑانے والا

یہ وہ صحرا ہے سمجھائے نہ اگر تو رستہ

خاک ہو جائے یہاں خاک اُڑانے والا

کیا کرے آنکھ جو پتھرانے کی خواہش نہ کرے

خواب ہو جائے اگر خواب دکھانے والا

Thursday, 25 March 2021

اس کی خوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے

 اس کی خُوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے

نام کا نام ہے، رُسوائی کی رُسوائی ہے

دل ہے اک اور دوعالم کا تمنائی ہے

دوست کا دوست ہے، ہرجائی کا ہرجائی ہے

ہجر کی رات ہے اور اُن کے تصور کا چراغ

بزم کی بزم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے

 پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے

ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے

تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں

ان چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے

کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہُنر لفظوں کو

تیری چِٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے

Tuesday, 23 March 2021

کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی

 کبھی کسک جدائی کی، کبھی مہک وصال کی

قدم نہ تھے زمیں پہ جب وہ عمر تھی کمال کی

کئی دنوں سے فکر کا افق اداس اداس ہے

نہ جانے کھو گئی کہاں دھنک تِرے خیال کی

رفاقتوں کے وہ نشاں نہ جانے کھو گئے کہاں

وہ خوشبوؤں کی رہگزر، وہ رتجگوں کی پالکی

Thursday, 14 January 2021

ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​

 ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​

آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی​

آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا​

آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی​

مدتوں بعد چلا ان پہ ہمارا جادو​

مدتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی​