پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے
ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے
تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں
ان چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے
کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہُنر لفظوں کو
تیری چِٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے
تیری باتوں کو چھُپانا نہیں آتا مجھ سے
تُو نے خوشبو میرے لہجے میں بسا رکھی ہے
خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانو
خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اُڑا رکھی ہے
اقبال اشہر
اقبال اشعر
No comments:
Post a Comment