Showing posts with label کمیل رضوی. Show all posts
Showing posts with label کمیل رضوی. Show all posts

Tuesday, 6 August 2024

مدح حسن میں دھانی ہوتے گئے نظارے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

در مدح امامِ حسن مجتبیٰؑ


مدحِ حسنؑ میں دھانی ہوتے گئے نظارے

شاداب سے کنائے سر سبز استعارے

مدحت بہ لب پرندے شاعر پسند موسم

تازہ کلام بارش محوِ ثناء پھوارے

نرگس نے آنکھ کھولی جس ذکر کی اذاں سے

سُنبل نے بال اپنے اُس ذکر سے سنوارے

Sunday, 9 June 2024

خیال شہر مدینہ سے جوڑتا ہوا میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خیال شہرِ مدینہ سے جوڑتا ہوا میں

کہانی راہِ تقدس پہ موڑتا ہوا میں

ملا ہوں اُس کے سخن کی نئی فصیلوں پر

خود اپنے آپ کو پہروں جھنجھوڑتا ہوا میں

اٹھا تو یا شہِ تسنیم المدد کہہ کر

چلا تو پاؤں کے چھالوں کو پھوڑتا ہوا میں

Friday, 30 September 2022

اتر رہی ہے نگاہوں میں مد بھری ہوئی شام

 اتر رہی ہے نگاہوں میں مد بھری ہوئی شام

یہ رس مقام دریچوں سے جھانکتی ہوئی شام

بنا رہی ہے مِرے نفسیات کا ماحول

سحر کے قیمتی ٹکڑوں سے یہ بنی ہوئی شام

اسے نہ جام و سخن سے پکارئے کہ یہ ہے

شراب و شعر سے آگے نکل چکی ہوئی شام

Monday, 26 September 2022

دل کا آرام پس آہ و فغاں دیکھتا ہے

 دل کا آرام پسِ آہ و فغاں دیکھتا ہے

رُخ بھی یہ قافلۂ نوحہ گراں دیکھتا ہے

وہ مِری پیاس کے شعبوں میں ٹھہرتا ہی نہیں

استخارہ جو کبھی آبِ رواں دیکھتا ہے

میں نے چھانا ہے اسی ڈھنگ سے دشت و صحرا

جیسے رہنے سے کوئی قبل مکاں دیکھتا ہے

Saturday, 24 September 2022

کھڑکی دریچے بام و غرفے سب کر گئے اندھیارے چاند

 کھڑکی دریچے بام و غرفے سب کر گئے اندھیارے چاند

ہجرِ اُفق میں کالے پڑ گئے اندر اندر سارے چاند

شام تو شہرِ دل میں ہوتی رہتی ہے معمول کے ساتھ

لیکن وہ معمول کہ جس میں ملتے نہیں ہیں تارے چاند

اک سرحد پہ صرف شبِ تنہائی کا میلہ لگتا ہے

اس میلے میں ہِجرت کر کے آتے ہیں دُکھیارے چاند

Thursday, 4 August 2022

نبی کا شہر بلاتا تھا راہِ محکم سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 نبیﷺ کا شہر بلاتا تھا راہِ محکم سے

وہ راہ ہو کے گزرتی تھی چشمِ پُرنم سے

مجھے پہنچنا تھا یثرب ربیعِ اول تک

ورود کی تھی اجازت مگر محرم سے

سفر طویل تھا رہوار بھی تھکا ہوا تھا

کوئی درخت نظر میں نہ تھا کئی دم سے

Tuesday, 3 May 2022

بہت خموش ہیں آنکھیں لب نظر جاتے

بہت خموش ہیں آنکھیں لبِ نظر جاتے

کہ ان دِیوں سے بھی اک شام بات کر جاتے

ہماری سادہ مزاجی میں احتیاط نہ تھی

ذرا سا رنگ چھڑکنا تھا، ہم اُبھر جاتے

زوال ہی کا تماشہ تھے ڈوبتے تو سہی

نشیب ہی کا سماں تھے کہیں اُتر جاتے