Thursday, 4 August 2022

نبی کا شہر بلاتا تھا راہِ محکم سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 نبیﷺ کا شہر بلاتا تھا راہِ محکم سے

وہ راہ ہو کے گزرتی تھی چشمِ پُرنم سے

مجھے پہنچنا تھا یثرب ربیعِ اول تک

ورود کی تھی اجازت مگر محرم سے

سفر طویل تھا رہوار بھی تھکا ہوا تھا

کوئی درخت نظر میں نہ تھا کئی دم سے

قریب مشک کا پانی بھی ختم ہو رہا تھا

دعائے آب لبوں پر تھی ربِ زمزم سے

جو پوٹلی میں تھے جَو کے بھُنے ہوئے دانے

وہی تھے بھوک کے زخموں کو ایک مرہم سے

میں ایک شاعرِ ہندی تھا اور حجاز میں تھا

میں چاہتا تھا ملاقات شاہِ عالمﷺ سے

محلۂ بنی ہاشم ہے کس طرف بھائی

پتا یہ پوچھتا تھا زید ابنِ ارقم سے

مجھے وہ فاتحِ خیبر کے در تلک لے آئے

بڑی ہی عزت و شفقت سے شاد و خرم سے

لوائے حمد کے سائے نے دھوپ کجلا دی

ملے ہیں جوں ہی علمدارِ فوجِ حق ہم سے

علیؑ کے ساتھ ہی پھر مسجدِ نبیﷺ آیا 

پھر ایک نور رگوں میں اتر گیا جھم سے

سلام عرض کیا شہرِ علمﷺ کو میں نے

جواب دے کے کہا کہ نجات ہو غم سے

ازل ابد پہ نظر ہے تِرا تعارف کیا

کمیل جانتا ہوں تجھ کو قبلِ آدمؑ سے

کھجور باغِ فدک کے مجھے عطا ہوئے پھر

جنابِ صل علی و آلہ وسلم سے

جدھر علیؑ ہیں ادھر حق ہے کہہ رہے تھے وہ

یہی حدیث سنی تھی رسولِ اکرمﷺ سے

پھر اس کے بعد مِری آنکھ کھل گئی فوراً 

یہ ایک خوابِ سعادت تھا فیضِ پہیم سے


کمیل شفیق رضوی

No comments:

Post a Comment