زندگی سادہ ورق پر اک حسیں تحریر ہے
اور یہ دنیا اسی تحریر کی تفسیر ہے
حق بجانب صرف ہم ہیں دوسرا کوئی نہیں
خود پسندی کی یہی ادنیٰ سی اک تصویر ہے
یہ بھی انداز تغافل اور تلون کی دلیل
جو بہت پیارا تھا اب وہ لائق تعزیر ہے
زندگی سادہ ورق پر اک حسیں تحریر ہے
اور یہ دنیا اسی تحریر کی تفسیر ہے
حق بجانب صرف ہم ہیں دوسرا کوئی نہیں
خود پسندی کی یہی ادنیٰ سی اک تصویر ہے
یہ بھی انداز تغافل اور تلون کی دلیل
جو بہت پیارا تھا اب وہ لائق تعزیر ہے
رو بھٹکنے لگے جب خیالات کی
منزلیں ہیں وہیں پر کمالات کی
کس لیے آئے پوچھا ہمیں کس لیے
کیا خبر ہو گئی ان کو حالات کی
ہم تو چپ رہ گئے کچھ کہا بھی نہیں
مسکرا کر اگر اس نے کچھ بات کی
کیا بات تھی کہ اُس کو سنورنے نہیں دیا
آئینہ ⌗ ہاتھ میں تھا، نِکھرنے نہیں دیا
طُوفان میں پھنسے تو کنارے تک آ گئے
ساحل نے اُن کو پھر بھی اُبھرنے نہیں دیا
اس دور پُر فتن میں سلیقے سے ٹُوٹ کر
ٹُوٹے تو روز ہی، پہ بِکھرنے نہیں دیا
نہیں خیال تو پھر انتظار کِس کا ہے؟
یہ ذہن و دل یہ بلا وجہ بار کس کا ہے
بتائے کون یہ اہلِ خِرد سے محفل میں
چمن ہے کس کے لیے خارزار کس کا ہے
ہمارا نام تو غیروں میں ہو گیا شامل
جو لوگ اپنے ہیں ان میں شُمار کس کا ہے