Showing posts with label وصیہ جائسی. Show all posts
Showing posts with label وصیہ جائسی. Show all posts

Thursday, 27 March 2025

زندگی سادہ ورق پر اک حسیں تحریر ہے

 زندگی سادہ ورق پر اک حسیں تحریر ہے

اور یہ دنیا اسی تحریر کی تفسیر ہے

حق بجانب صرف ہم ہیں دوسرا کوئی نہیں

خود پسندی کی یہی ادنیٰ سی اک تصویر ہے

یہ بھی انداز تغافل اور تلون کی دلیل

جو بہت پیارا تھا اب وہ لائق تعزیر ہے

Monday, 16 December 2024

رو بھٹکنے لگے جب خیالات کی

 رو بھٹکنے لگے جب خیالات کی

منزلیں ہیں وہیں پر کمالات کی

کس لیے آئے پوچھا ہمیں کس لیے

کیا خبر ہو گئی ان کو حالات کی

ہم تو چپ رہ گئے کچھ کہا بھی نہیں

مسکرا کر اگر اس نے کچھ بات کی

Monday, 6 September 2021

کیا بات تھی کہ اس کو سنورنے نہیں دیا

کیا بات تھی کہ اُس کو سنورنے نہیں دیا

آئینہ ⌗ ہاتھ میں تھا، نِکھرنے نہیں دیا

طُوفان میں پھنسے تو کنارے تک آ گئے

ساحل نے اُن کو پھر بھی اُبھرنے نہیں دیا

اس دور پُر فتن میں سلیقے سے ٹُوٹ کر

ٹُوٹے تو روز ہی، پہ بِکھرنے نہیں دیا

Tuesday, 3 August 2021

نہیں خیال تو پھر انتظار کس کا ہے

نہیں خیال تو پھر انتظار کِس کا ہے؟

یہ ذہن و دل یہ بلا وجہ بار کس کا ہے

بتائے کون یہ اہلِ خِرد سے محفل میں

چمن ہے کس کے لیے خارزار کس کا ہے

ہمارا نام تو غیروں میں ہو گیا شامل

جو لوگ اپنے ہیں ان میں شُمار کس کا ہے