نہیں خیال تو پھر انتظار کِس کا ہے؟
یہ ذہن و دل یہ بلا وجہ بار کس کا ہے
بتائے کون یہ اہلِ خِرد سے محفل میں
چمن ہے کس کے لیے خارزار کس کا ہے
ہمارا نام تو غیروں میں ہو گیا شامل
جو لوگ اپنے ہیں ان میں شُمار کس کا ہے
کسی کو دولتِ دُنیا کسی کو عزتِ نفس
خُدا کی دَین پہ اب اِختیار کس کا ہے
عروسِ موت سے جلدی ہے کس کو مِلنے کی
قدم بڑھا ہُوا یہ سُوئے دار کس کا ہے؟
فرشتے آ کے وصیہ سے بولے مرقد میں
لحد میں آپ کو اب انتظار کس کا ہے؟
فاطمہ وصیہ جائسی
No comments:
Post a Comment