محفلِ عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے
ہے وہ ملکہ کہ سبک بار اٹھے اور بیٹھے
رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے
بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے
کثرتِ خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص
نہیں ممکن ہے کہ یک بار اٹھے اور بیٹھے
محفلِ عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے
ہے وہ ملکہ کہ سبک بار اٹھے اور بیٹھے
رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے
بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے
کثرتِ خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص
نہیں ممکن ہے کہ یک بار اٹھے اور بیٹھے
گلی سے تِری جو کہ اے جان نکلا
گریباں سے دست و گریبان نکلا
تِری آن پہ غش ہوں ہر آن ظالم
تُو اک آن لیکن نہ یاں آن نکلا
یہی مجھ کو رہ رہ کے آتا ہے ارماں
کہ تجھ سے نہ کچھ میرا ارمان نکلا
ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا
چلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کا
قسم قدم کی تِرے جب تلک ہے دم میں دم
میں پاؤں پر سے تِرے سر نہیں اٹھانے کا
ہماری جان پہ گرتی ہے برق غم ظالم
تجھے تو سہل سا ہے شغل مسکرانے کا
پوچھی نہ خبر کبھی ہماری
لی خوب خبر اجی ہماری
ہم لائقِ بندگی نہیں تو
بس خیر ہے بندگی ہماری
اے دیدۂ نم نہ تھم تو ہرگز
ہے اس میں ہی بہتری ہماری
پھر آیا جام بکف گل عذار اے واعظ
شکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظ
نہ جان مجھ کو تو مختار سخت ہوں مجبور
نہیں ہے دل پہ مِرا اختیار اے واعظ
انارِ خلد کو تو رکھ کے ہیں پسند ہمیں
کچیں وہ یار کی رشکِ انار اے واعظ
کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا
جی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا
کوچہ سے تِرے کوچ ہے اے یار ہمارا
جی لے ہی چلی حسرتِ دیدار ہمارا
تو ہم کو اٹھا لیجیئو اس وقت الٰہی
جس وقت اٹھے پہلو سے دلدار ہمارا