Showing posts with label احسان دہلوی. Show all posts
Showing posts with label احسان دہلوی. Show all posts

Saturday, 5 February 2022

محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے

 محفلِ عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے

ہے وہ ملکہ کہ سبک بار اٹھے اور بیٹھے

رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے

بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے

کثرتِ خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص

نہیں ممکن ہے کہ یک بار اٹھے اور بیٹھے

Sunday, 5 September 2021

گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا

 گلی سے تِری جو کہ اے جان نکلا

گریباں سے دست و گریبان نکلا

تِری آن پہ غش ہوں ہر آن ظالم

تُو اک آن لیکن نہ یاں آن نکلا

یہی مجھ کو رہ رہ کے آتا ہے ارماں

کہ تجھ سے نہ کچھ میرا ارمان نکلا

Thursday, 26 August 2021

ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا

 ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا

چلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کا

قسم قدم کی تِرے جب تلک ہے دم میں دم

میں پاؤں پر سے تِرے سر نہیں اٹھانے کا

ہماری جان پہ گرتی ہے برق غم ظالم

تجھے تو سہل سا ہے شغل مسکرانے کا

Wednesday, 25 August 2021

پوچھی نہ خبر کبھی ہماری

 پوچھی نہ خبر کبھی ہماری

لی خوب خبر اجی ہماری

ہم لائقِ بندگی نہیں تو

بس خیر ہے بندگی ہماری

اے دیدۂ نم نہ تھم تو ہرگز

ہے اس میں ہی بہتری ہماری

Tuesday, 24 August 2021

پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ

 پھر آیا جام بکف گل عذار اے واعظ

شکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظ

نہ جان مجھ کو تو مختار سخت ہوں مجبور

نہیں ہے دل پہ مِرا اختیار اے واعظ

انارِ خلد کو تو رکھ کے ہیں پسند ہمیں

کچیں وہ یار کی رشکِ انار اے واعظ

Friday, 14 May 2021

کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا

 کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا

جی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا

کوچہ سے تِرے کوچ ہے اے یار ہمارا

جی لے ہی چلی حسرتِ دیدار ہمارا

تو ہم کو اٹھا لیجیئو اس وقت الٰہی

جس وقت اٹھے پہلو سے دلدار ہمارا