Showing posts with label نیلوفر افضل. Show all posts
Showing posts with label نیلوفر افضل. Show all posts

Friday, 4 June 2021

اے باد خوش خرام تمہاری وجہ سے ہے

 اے بادِ خوش خرام تمہاری وجہ سے ہے

پھولوں کا احترام تمہاری وجہ سے ہے

پھرتے ہیں اپنے کام سے بستی میں بادہ خوار

ہم کو بھی ایک کام تمہاری وجہ سے ہے

ہر طاق میں چراغ ہے ہر شاخ پر گلاب

کس درجہ اہتمام تمہاری وجہ سے ہے

Sunday, 4 October 2020

موت ایک خدشہ ہے

 خدشہ


یوں نہ ہو کہ اب کی بار

کرسیوں کی لرزش میں

زلزے کا جھٹکا ہو

جوتیوں کے ڈبے میں

سانپ چھپ کے بیٹھا ہو

Saturday, 1 August 2020

جا نکلے عجب دشت میں اوراق پلٹ کر

جا نکلے عجب دشت میں اوراق پلٹ کر، اطراف سے کٹ کر
اور خواب سے ابھر ے ہیں بدن خاک سے اٹ کر، بیٹھے ہیں سمٹ کر
ہم اس کو ستارہ تو نہیں جانتے لیکن، ہر چند ہے ممکن
ٹکڑا سا گرے صحن میں افلاک سے کٹ کر، نظروں سے نمٹ کر
بے اسم بھی ہوتا ہے طلسم ایسا کہیں پر؟ موقع ہی یہیں پر
دکھلائیے جام آپ ان آنکھوں کے الٹ کر، دل وِل رہیں پھٹ کر

یہ کس نے لوٹا ہے آشیاں کو

یہ کس نے گلشن پہ قہر ڈھایا، یہ کس نے لوٹا ہے آشیاں کو
بہار ماتم کناں کلی پر، زمین روئے ہے آسماں کو
ابھی بھی موقع ہے رقصِ موجِ جنوں کر لے سکوں کر لے
ذرا سا ساون نے چال بدلی یہ مور ترسے گا بارشاں کو
یہ لوگ واضح دلیلِ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْیٌ بنے ہوئے ہیں
یہ دورِ لا يَرْجِعُونَ کیونکر سمجھ سکے گا مری فغاں کو

Friday, 31 July 2020

اک شور مرے باہر اک شور مرے اندر

اک شور مِرے باہر، اک شور مِرے اندر
اک عصر مرے آگے، اک دور مرے اندر
اس دیدۂ ظاہر کو حاصل کہاں بینائی؟
میں بھید کی بستی ہوں، کچھ اور مرے اندر
تدفینِ تمنا کی حاجت ہوئی سینے کو
درکار ہے کچھ مٹی فی الفور مرے اندر

کیوں مجھے چور سمجھتے ہیں نہ جانے سارے

کیوں مجھے چور سمجھتے ہیں نہ جانے سارے
میں نے خود گھڑ کے سنائے ہیں فسانے سارے
کتنی مشکل سے ملایا ہے پری کو جِن سے
کتنی محنت سے لڑائے ہیں زمانے سارے
دشت در دشت گھمایا کئی کرداروں کو
کس مہارت سے چھپائے ہیں خزانے سارے

Thursday, 30 July 2020

گھر کے اشجار تھے سو ظرف کشادہ نہ کیا

گھر کے اشجار تھے سو ظرف کشادہ نہ کیا
پاؤں کٹوا لیے، ہجرت کا ارادہ نہ کیا
یہ ہے منظر میں اترنے کا سلیقہ، اس نے
عکسِ "رنگیں" سرِ "آئینۂ" سادہ نہ کیا
وہ ندی تھی سو ذرا پیر بھگو کر نکلے
استفادہ مگر اک حد سے زیادہ نہ کیا

ستارہ گھر میں تھا اور روشنی سفر میں تھی

ستارہ گھر میں تھا اور روشنی سفر میں تھی
اک انتظار کی لَو چشمِ کم نظر میں تھی
الگ ہیں رابطہ اور ربط، تُو نے سمجھی نہیں
وہ اک کمی، جو ملاقاتِ مختصر میں تھی
خرام 'ٹھہرا' ہوا 'زینۂ چمن' پر تھا
نگاہ 'الجھی' ہوئی 'شاخِ نیلوفر' میں تھی

Tuesday, 28 July 2020

مٹتے ہوئے حروف کو پڑھنے کی خو کیا کریں

مٹتے ہوئے حروف کو پڑھنے کی خو کیا کریں
سطریں کریدتے ہوئے پوریں لہو کیا کریں
نو واردانِ عشق سے، کہہ دیجیۓ کہ دشت میں
وحشت سے قبل ریت سے جا کر وضو کیا کریں
انجیلِ دل میں درج ہوں آیاتِ نقرئی تو پھر
ہم بھی سخن کے باب میں، کچھ ہاؤ ہو کیا کریں

سیر بازارِ جہاں کرتے ہوئے ہم کو چلا

سیرِ بازارِ جہاں کرتے ہوئے ہم کو چلا
دل کی قیمت کا پتہ، پھول کی ارزانی سے
کن ستاروں نے جڑیں پکڑیں سفالِ نم میں
شب گزیدوں کی سماوات میں گل بانی سے
قافلے مثلِ صبا دل سے گزر جاتے ہیں
کون ملتا ہے بھری بھیڑ میں آسانی سے

Monday, 27 July 2020

اے باد خوش خرام تمہاری وجہ سے ہے

اے بادِ خوش خرام، تمہاری وجہ سے ہے
پھولوں کا احترام، تمہاری وجہ سے ہے
پھرتے ہیں اپنے کام سے بستی میں بادہ خوار
ہم کو بھی ایک کام، تمہاری وجہ سے ہے
ہر طاق میں چراغ ہے، ہر شاخ پر گلاب
کس درجہ اہتمام، تمہاری وجہ سے ہے

پلٹنے والوں نے دشنام جب تمہارا دیا

پلٹنے والوں نے دُشنام جب تمہارا دیا
اجل  کے ہاتھ نے خود بام سے اتارا دیا
جوابی کاپی میں لکھی ہوئی غزل پہ مجھے
کسی نے ہنستے ہوئے سرخ سا ستارا دیا
چمن کی اوٹ سے رخ پھیر کر پری وش نے
ہوائے شام کو "تھم" جانے کا اشارہ دیا

Wednesday, 8 July 2020

جنہیں گلے ہوں وہ آئیں اور آ کے بات کریں

جنہیں گِلے ہوں وہ آئیں اور آ کے بات کریں
دلوں💗 کی میز پہ بیٹھیں، "مذاکرات" کریں
عجیب ہے کہ 🙏عبادت کے نام پر ہم لوگ
خدا سے غیر مناسب "مطالبات" کریں
خزانہ مل چکا، خیر اس سے "سندباد" کو کیا
سلوک جو بھی سمندر سے "حادثات" کریں

مچا ہوا ہے خداؤں کی ان کہی کا شور

مچا ہوا ہے خداؤں کی ان کہی کا شور 
مگر وہ گونج کہ کھا جائیگی سبھی کا شور 
تمام "رات مہکتا" تھا اس کی "ٹیبل" پر
گلابِ تازہ کی خوشبو میں فروری کا شور
شجر کی تابِ سماعت پہ "داد" بنتی ہے
یہ سنتا آیا ہے صدیوں سے آدمی کا شور

پرانی ناؤ کے تختے پہ دل بناتے ہوئے

پرانی ناؤ کے تختے پہ 💗 دل بناتے ہوئے 
وہ رو پڑے گا کوئی خواب گنگناتے ہوئے 
سہولت ایسی نہیں ہے کہ تم بھی ہم بھی ملیں 
افق کے خط پہ زمیں آسماں ملاتے ہوئے
جزیرے والوں نے دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے  
تمہارا نام "سمندر" میں "کام" آتے ہوئے