اے بادِ خوش خرام تمہاری وجہ سے ہے
پھولوں کا احترام تمہاری وجہ سے ہے
پھرتے ہیں اپنے کام سے بستی میں بادہ خوار
ہم کو بھی ایک کام تمہاری وجہ سے ہے
ہر طاق میں چراغ ہے ہر شاخ پر گلاب
کس درجہ اہتمام تمہاری وجہ سے ہے
اے بادِ خوش خرام تمہاری وجہ سے ہے
پھولوں کا احترام تمہاری وجہ سے ہے
پھرتے ہیں اپنے کام سے بستی میں بادہ خوار
ہم کو بھی ایک کام تمہاری وجہ سے ہے
ہر طاق میں چراغ ہے ہر شاخ پر گلاب
کس درجہ اہتمام تمہاری وجہ سے ہے
خدشہ
یوں نہ ہو کہ اب کی بار
کرسیوں کی لرزش میں
زلزے کا جھٹکا ہو
جوتیوں کے ڈبے میں
سانپ چھپ کے بیٹھا ہو