Sunday, 4 October 2020

موت ایک خدشہ ہے

 خدشہ


یوں نہ ہو کہ اب کی بار

کرسیوں کی لرزش میں

زلزے کا جھٹکا ہو

جوتیوں کے ڈبے میں

سانپ چھپ کے بیٹھا ہو

دلہنوں کے بکسے میں

زہر کا لفافہ ہو

خط میں نا خداؤں کے

ڈوبنے کا لکھا ہو


اب کی بار یوں نہ ہو

میں نوالہ کھاؤں اور

کیل منہ میں آ جائے

آئینے کے پیچھے کا

شخص باہر آ جائے

دور پار جنگل میں

تیرے میرے ناموں کا

پیڑ کٹ کٹا جائے


فاعلن کی سرگم پر

نظم لکھنے والی وہ

خواب رُو سی لڑکی جو

کب سے اپنے بستر پر

کچھ دبک کے بیٹھی ہے

یہ بھی عین ممکن ہے

اس کی سبز غزلوں کی

ڈائری ہی کھو جائے


یہ بھی عین ممکن ہے

کال میں اٹھاؤں اور

دوسری طرف کوئی

ایٹمی دھماکہ ہو

اس دفعہ کی گرمی میں

ایسی لوڈ شیڈنگ ہو

خواہشوں کے کمرے کی

روشنی چلی جائے


گیس کا تعطل ہو

سردیوں کی راتوں میں

خواب تاپنے ہوں اور

آنچ دھیمی پڑ جائے

آج رات سوئیں ہم

اور دور بارڈر پر

خوفناک شیلنگ ہو

سارے پھول جل جائیں

یہ بھی عین ممکن ہے


موت ایک خدشہ ہے

زندگی کے آنگن میں

رینگتا ہوا کوئی

رُوسیاہ سایہ ہے

آس پاس بچوں کو

کھیلنے نہیں دیتا


موت ایک خدشہ ہے

موت ایسے خدشوں

میں تم مرا ستارہ ہو

اور مجھے ستاروں کے

ڈوبنے کا خدشہ ہے


نیلوفر افضل

No comments:

Post a Comment