خدشہ
یوں نہ ہو کہ اب کی بار
کرسیوں کی لرزش میں
زلزے کا جھٹکا ہو
جوتیوں کے ڈبے میں
سانپ چھپ کے بیٹھا ہو
دلہنوں کے بکسے میں
زہر کا لفافہ ہو
خط میں نا خداؤں کے
ڈوبنے کا لکھا ہو
اب کی بار یوں نہ ہو
میں نوالہ کھاؤں اور
کیل منہ میں آ جائے
آئینے کے پیچھے کا
شخص باہر آ جائے
دور پار جنگل میں
تیرے میرے ناموں کا
پیڑ کٹ کٹا جائے
فاعلن کی سرگم پر
نظم لکھنے والی وہ
خواب رُو سی لڑکی جو
کب سے اپنے بستر پر
کچھ دبک کے بیٹھی ہے
یہ بھی عین ممکن ہے
اس کی سبز غزلوں کی
ڈائری ہی کھو جائے
یہ بھی عین ممکن ہے
کال میں اٹھاؤں اور
دوسری طرف کوئی
ایٹمی دھماکہ ہو
اس دفعہ کی گرمی میں
ایسی لوڈ شیڈنگ ہو
خواہشوں کے کمرے کی
روشنی چلی جائے
گیس کا تعطل ہو
سردیوں کی راتوں میں
خواب تاپنے ہوں اور
آنچ دھیمی پڑ جائے
آج رات سوئیں ہم
اور دور بارڈر پر
خوفناک شیلنگ ہو
سارے پھول جل جائیں
یہ بھی عین ممکن ہے
موت ایک خدشہ ہے
زندگی کے آنگن میں
رینگتا ہوا کوئی
رُوسیاہ سایہ ہے
آس پاس بچوں کو
کھیلنے نہیں دیتا
موت ایک خدشہ ہے
موت ایسے خدشوں
میں تم مرا ستارہ ہو
اور مجھے ستاروں کے
ڈوبنے کا خدشہ ہے
نیلوفر افضل
No comments:
Post a Comment