ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے غبارے لوگ
گھمنڈ کرتے ہیں کس بات پر یہ سارے لوگ
تعلقات میں کچھ احتیاط لازم ہے
ہمارے آپ کے جیسے نہیں ہیں سارے لوگ
یہ فیصلہ بھی مِرے ہی خلاف ہونا تھا
مِرے ہی نام پہ اک ساتھ کیوں پکارے لوگ
وہ جن کے نُور سے روشن ہے کائنات تمام
زمیں پہ ٹوٹتے دیکھے ہیں وہ ستارے لوگ
خود آئینے میں اترتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں
خود اپنے آپ سے لڑتے، انا کے مارے لوگ
سبھی نگاہوں میں حدت ہے جلتے سورج کی
کہاں چلے گئے، وہ چھاؤں سے، ہمارے لوگ
کہاں سمجھتے ہیں دیوانے خود کو دیوانے
ہیں اپنے زعم میں خوش، وحشتوں کے مارے لوگ
کہا نہیں تھا مصیبت میں چھوڑ دیں گے ساتھ
ہیں صرف نام کے اپنے، یہ سب تمہارے لوگ
"وہ جن کو دیکھ کے ہو جائے زندگی سے عشق"
کہیں تو کاش ہمیں بھی ملیں وہ پیارے لوگ
کسی بھی ڈوبنے والے کے پاس ناؤ نہ تھی
سو اپنے ساتھ بہا لے گئے کنارے لوگ
تمہیں قبول ہے سیما تو ہو یہ پسپائی
ہیں صرف جیتنے والے یہاں تو سارے لوگ
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment