Sunday, 4 October 2020

سچ پوچھو تو خود سے رو گردانی ہے

 سچ پوچھو تو خود سے روگردانی ہے

تیری صورت مشکل سے پہچانی ہے

کس کو چھوڑوں کس کی پیاس بجھاؤں میں

مشکیزے میں اک دو گھونٹ ہی پانی ہے

گھوڑوں کی ٹاپوں سے لرزا طاری ہے

گھاٹی کے اُس پار رسد پہنچانی ہے

عشق کیا جب آدھے پونے جذبوں سے

ظاہر ہے پھر ہم نے منہ کی کھانی ہے

جینے والوں میں تو بنتا ہے, لیکن

مرنے والوں میں بھی کھینچا تانی ہے

اس کمرے سے جان چھڑانے والا ہوں

بس اک یاد کو تھوڑی جھاڑ پلانی ہے

تجھ سے اپنا آپ علیحدہ کرنا ہے

یعنی پانی پر تلوار چلانی ہے

کام آئے گی یار مجسمہ سازی میں

ان ہونٹوں سے ایک ہنسی کھِسکانی ہے

ہر شاعر کا شعر ہی اچھا ہے ساحر

ہر بندے کی اپنی رام کہانی ہے


جہانزیب ساحر

No comments:

Post a Comment