شب گزیدہ
کہنے کو تو
رات کا گہرا سناٹا ہے
چاند کی کرنیں میرا ماتھا چوم رہی ہیں
میری نظروں سے اوجھل ہے
لیکن، جھینگر بول رہا ہے
شب گزیدہ
کہنے کو تو
رات کا گہرا سناٹا ہے
چاند کی کرنیں میرا ماتھا چوم رہی ہیں
میری نظروں سے اوجھل ہے
لیکن، جھینگر بول رہا ہے
میری محبت تِرے لیے ہے
ابھرتے دن کی شفیق کرنوں کے جیسے مدھم مزاج والی
حسین لڑکی
تُو مسکرائے تو ایسا لگتا ہے جیسے کلیاں چٹک رہی ہوں
تُو ہنس پڑے تو فضا میں موسیقیت بکھرتی ہے لمحہ لمحہ
کوئی خیامی رباعی سُن لوں کہ حسنِ آدم پہ لکھا
مجھ کو تِرا خیال، بڑی دیر تک رہا
پھر اس میں اعتدال، بڑی دیر تک رہا
اس کو وفورِ غم نے ستایا تھا، عمر بھر
مجھ کو یہی ملال، بڑی دیر تک رہا
میں نے کہا کہ دِید کی خیرات ہو عطا
میرا یہی سوال، بڑی دیر تک رہا
یہ جنت ہے؟
یہ جنت ہے؟
مجھے بتلائے گا کوئی، یہ جنت ہے؟
مِرے اجداد کہتے تھے: یہ جنت ہے
وہ جنت جس کی خاطر
اتنی جانوں کو نچھاور کر کے آئے ہیں
مجھے بتلائے گا کوئی: یہ جنت ہے؟
تمہارے ہاتھ کی چائے
ابھی تک یاد ہے مجھ کو
تمہیں بھی یاد تو ہو گا
کہ بھُولی تو نہیں ہو گی
بلا کی سرد شاموں میں
تمہارے ہاسٹل میں بیٹھ کر