Showing posts with label کاشف حنیف. Show all posts
Showing posts with label کاشف حنیف. Show all posts

Monday, 17 October 2022

کہنے کو تو رات کا گہرا سناٹا ہے

 شب گزیدہ


کہنے کو تو

رات کا گہرا سناٹا ہے

چاند کی کرنیں میرا ماتھا چوم رہی ہیں

میری نظروں سے اوجھل ہے

لیکن، جھینگر بول رہا ہے

Wednesday, 5 October 2022

میری محبت ترے لیے ہے

 میری محبت تِرے لیے ہے


ابھرتے دن کی شفیق کرنوں کے جیسے مدھم مزاج والی

حسین لڑکی

تُو مسکرائے تو ایسا لگتا ہے جیسے کلیاں چٹک رہی ہوں

تُو ہنس پڑے تو فضا میں موسیقیت بکھرتی ہے لمحہ لمحہ

کوئی خیامی رباعی سُن لوں کہ حسنِ آدم پہ لکھا

Tuesday, 29 March 2022

مجھ کو ترا خیال بڑی دیر تک رہا

مجھ کو تِرا خیال، بڑی دیر تک رہا

پھر اس میں اعتدال، بڑی دیر تک رہا

اس کو وفورِ غم نے ستایا تھا، عمر بھر

مجھ کو یہی ملال، بڑی دیر تک رہا

میں نے کہا کہ دِید کی خیرات ہو عطا

میرا یہی سوال، بڑی دیر تک رہا

Sunday, 27 March 2022

مجھے بتلائے گا کوئی یہ جنت ہے

یہ جنت ہے؟


یہ جنت ہے؟

مجھے بتلائے گا کوئی، یہ جنت ہے؟

مِرے اجداد کہتے تھے: یہ جنت ہے

وہ جنت جس کی خاطر 

اتنی جانوں کو نچھاور کر کے آئے ہیں

مجھے بتلائے گا کوئی: یہ جنت ہے؟

Monday, 1 November 2021

تمہارے ہاتھ کی چائے ابھی تک یاد ہے مجھ کو

تمہارے ہاتھ کی چائے

ابھی تک یاد ہے مجھ کو

تمہیں بھی یاد تو ہو گا

کہ بھُولی تو نہیں ہو گی

بلا کی سرد شاموں میں

تمہارے ہاسٹل میں بیٹھ کر