میری محبت تِرے لیے ہے
ابھرتے دن کی شفیق کرنوں کے جیسے مدھم مزاج والی
حسین لڑکی
تُو مسکرائے تو ایسا لگتا ہے جیسے کلیاں چٹک رہی ہوں
تُو ہنس پڑے تو فضا میں موسیقیت بکھرتی ہے لمحہ لمحہ
کوئی خیامی رباعی سُن لوں کہ حسنِ آدم پہ لکھا
کوئی حسین مصرعہ
تو یوں لگے ہے، تِرے لیے ہے
سُبک خراماں تُو جب چلے تو سُبک ہواؤں کو
مات دے دے
حِنا ترستی ہے تیرے ہاتھوں کا لمس پانے کو
رنگ تیرا لبادہ بننے کی حسرتیں دل میں پالتے ہیں
حیا کے دامن میں لپٹی لڑکی مجھے جہاں سے عزیز تر ہے
یہ رنگ سارے گر اک طرف ہوں
گلاب سارے گر اک طرف ہوں
گر اپسرائیں بھی اک طرف ہوں
شباب سارے گر اک طرف ہوں
ابھرتے دن کی شفیق کرنوں کے جیسے مدھم مزاج والی
حسین لڑکی
میری محبت تِرے لیے ہے
کاشف حنیف
No comments:
Post a Comment