Tuesday, 4 October 2022

ہر ایک لفظ میں سینے کا نور ڈھال کے رکھ

 ہر ایک لفظ میں سینے کا نور ڈھال کے رکھ

کبھی کبھار تو کاغذ پہ دل نکال کے رکھ

جو دوستوں کی محبت سے جی نہیں بھرتا

تو آستین میں دو چار سانپ پال کے رکھ

تجھے تو کتنی بہاریں سلام بھیجیں گی

ابھی یہ پھول سا چہرہ ذرا سنبھال کے رکھ

یہاں سے دھوپ کے نیزے بلند ہوتے ہیں

تمام چھاؤں کے قصوں پہ خاک ڈال کے رکھ

مہک رہے ہیں کئی آسمان مٹی میں

قدم زمین محبت پہ دیکھ بھال کے رکھ

دل و دماغ ٹھکانے پہ آنے والے ہیں

اب اس کا ذکر کسی اور دن پہ ٹال کے رکھ


انجم بارہ بنکوی

No comments:

Post a Comment