Showing posts with label نامی انصاری. Show all posts
Showing posts with label نامی انصاری. Show all posts

Tuesday, 27 July 2021

صحبت شب کا طلبگار نہ ہو گا کوئی

 صحبتِ شب کا طلبگار نہ ہو گا کوئی

خوف اتنا ہے کہ بیدار نہ ہو گا کوئی

دھوپ ہر سمت سے نکلی تو کہاں جاؤ گے

دشت میں سایۂ دیوار نہ ہو گا کوئی

حرفِ احساس بھی جل جائے گا ہونٹوں کی طرح

مُدعا قابلِ اظہار نہ ہو گا کوئی

Wednesday, 14 April 2021

مرگ چمن؛ شاخ گل ٹوٹ گئی موج صبا رقصاں ہے

 ہدیۂ عقیدت بر مرگِ سعادت حسن منٹو


مرگ چمن


شاخِ گل ٹوٹ گئی، موجِ صبا رقصاں ہے

مرگِ منٹو سے یہاں روحِ ادب نوحہ کناں

اک ستارہ کہ حوادث نے جسے پالا تھا

اک مفکّر کہ بدلنا تھا جسے نظمِ چمن

ہائے وہ رِند، کہ دانائے مئے و مینا تھا

ہائے وہ مرد کہ یکتائے غمِ دوراں تھا

Wednesday, 31 March 2021

موج گل برگ حنا آب رواں کچھ بھی نہیں

 موجِ گل، برگِ حنا، آبِ رواں کچھ بھی نہیں

اس جہانِ رنگ و بُو میں جاوِداں کچھ بھی نہیں

پھر وہی ذوقِ تعلق، پھر وہی کارِ جنوں

سر میں سودا ہے تو آشوبِ جہاں کچھ بھی نہیں

اک سمندر کتنا گہرا میرے پس منظر میں ہے

سامنے لیکن زمین و آسماں کچھ بھی نہیں

Wednesday, 24 March 2021

پتھروں کا کھیل جاری ہے سروں کے درمیاں

 پتھروں کا کھیل جاری ہے سروں کے درمیاں

زندگی ٹھہرے کہاں ان وحشتوں کے درمیاں

بزمِ ناؤ نوش کا یہ شور و غل اپنی جگہ

کوئی نغمہ زیرِِ لب، اونچے سُروں کے درمیاں

میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا

فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں

Monday, 22 March 2021

یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں

 یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں

ہزار کوس چلوں پھر بھی اپنے گھر میں رہوں

نہ پتھروں سے مِری دوستی نہ شیشوں سے

کہاں قیام کروں کس کی رہگزر میں رہوں

یہ معجزہ بھی تو ممکن نہیں زمانے میں

کہ اشک بن کے تِری چشمِ معتبر میں رہوں

ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے

 ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے

اس کے سوا کچھ اور بھی گہرائیوں میں ہے

فُرصت ملے تو میں بھی کوئی مرثیہ لکھوں

اک دشتِ کربلا مِری تنہائیوں میں ہے

کس شہر میں تلاش کریں رشتۂ وفا

سنتے تو ہیں پرانی شناسائیوں میں ہے

Saturday, 20 March 2021

یہ بزم شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے

 یہ بزمِ شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے

کئی چراغ جلے پھر بھی روشنی کم ہے

اسی لیے تو مِری اس سے دوستی کم ہے

وہ خود پرست زیادہ ہے، آدمی کم ہے

خطا ہے اپنی کہ ماحول ہے زمانے کا 

نگاہ گرم بہت، صلح و آشتی کم ہے