صحبتِ شب کا طلبگار نہ ہو گا کوئی
خوف اتنا ہے کہ بیدار نہ ہو گا کوئی
دھوپ ہر سمت سے نکلی تو کہاں جاؤ گے
دشت میں سایۂ دیوار نہ ہو گا کوئی
حرفِ احساس بھی جل جائے گا ہونٹوں کی طرح
مُدعا قابلِ اظہار نہ ہو گا کوئی
صحبتِ شب کا طلبگار نہ ہو گا کوئی
خوف اتنا ہے کہ بیدار نہ ہو گا کوئی
دھوپ ہر سمت سے نکلی تو کہاں جاؤ گے
دشت میں سایۂ دیوار نہ ہو گا کوئی
حرفِ احساس بھی جل جائے گا ہونٹوں کی طرح
مُدعا قابلِ اظہار نہ ہو گا کوئی
ہدیۂ عقیدت بر مرگِ سعادت حسن منٹو
مرگ چمن
شاخِ گل ٹوٹ گئی، موجِ صبا رقصاں ہے
مرگِ منٹو سے یہاں روحِ ادب نوحہ کناں
اک ستارہ کہ حوادث نے جسے پالا تھا
اک مفکّر کہ بدلنا تھا جسے نظمِ چمن
ہائے وہ رِند، کہ دانائے مئے و مینا تھا
ہائے وہ مرد کہ یکتائے غمِ دوراں تھا
موجِ گل، برگِ حنا، آبِ رواں کچھ بھی نہیں
اس جہانِ رنگ و بُو میں جاوِداں کچھ بھی نہیں
پھر وہی ذوقِ تعلق، پھر وہی کارِ جنوں
سر میں سودا ہے تو آشوبِ جہاں کچھ بھی نہیں
اک سمندر کتنا گہرا میرے پس منظر میں ہے
سامنے لیکن زمین و آسماں کچھ بھی نہیں
پتھروں کا کھیل جاری ہے سروں کے درمیاں
زندگی ٹھہرے کہاں ان وحشتوں کے درمیاں
بزمِ ناؤ نوش کا یہ شور و غل اپنی جگہ
کوئی نغمہ زیرِِ لب، اونچے سُروں کے درمیاں
میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں
ہزار کوس چلوں پھر بھی اپنے گھر میں رہوں
نہ پتھروں سے مِری دوستی نہ شیشوں سے
کہاں قیام کروں کس کی رہگزر میں رہوں
یہ معجزہ بھی تو ممکن نہیں زمانے میں
کہ اشک بن کے تِری چشمِ معتبر میں رہوں
ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے
اس کے سوا کچھ اور بھی گہرائیوں میں ہے
فُرصت ملے تو میں بھی کوئی مرثیہ لکھوں
اک دشتِ کربلا مِری تنہائیوں میں ہے
کس شہر میں تلاش کریں رشتۂ وفا
سنتے تو ہیں پرانی شناسائیوں میں ہے
یہ بزمِ شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے
کئی چراغ جلے پھر بھی روشنی کم ہے
اسی لیے تو مِری اس سے دوستی کم ہے
وہ خود پرست زیادہ ہے، آدمی کم ہے
خطا ہے اپنی کہ ماحول ہے زمانے کا
نگاہ گرم بہت، صلح و آشتی کم ہے