Monday, 22 March 2021

یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں

 یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں

ہزار کوس چلوں پھر بھی اپنے گھر میں رہوں

نہ پتھروں سے مِری دوستی نہ شیشوں سے

کہاں قیام کروں کس کی رہگزر میں رہوں

یہ معجزہ بھی تو ممکن نہیں زمانے میں

کہ اشک بن کے تِری چشمِ معتبر میں رہوں

مجھے بھی تنگ لگے ہے یہ شہرِ نا پُرساں

عجیب نہیں کہ کسی دشتِ پُر خطر میں رہوں

نہ خلعتوں نہ خطابوں کی آرزو نامی

یہی بہت ہے کہ احباب کی نظر میں رہوں


نامی انصاری

No comments:

Post a Comment