یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں
ہزار کوس چلوں پھر بھی اپنے گھر میں رہوں
نہ پتھروں سے مِری دوستی نہ شیشوں سے
کہاں قیام کروں کس کی رہگزر میں رہوں
یہ معجزہ بھی تو ممکن نہیں زمانے میں
کہ اشک بن کے تِری چشمِ معتبر میں رہوں
مجھے بھی تنگ لگے ہے یہ شہرِ نا پُرساں
عجیب نہیں کہ کسی دشتِ پُر خطر میں رہوں
نہ خلعتوں نہ خطابوں کی آرزو نامی
یہی بہت ہے کہ احباب کی نظر میں رہوں
نامی انصاری
No comments:
Post a Comment