Monday, 22 March 2021

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

 وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

تڑپ بجلی میں اسکی اضطراب اس کا ستاروں میں

مدد اے اضطراب شوق! تُو جانِ تمنا ہے

نکل اے صبر! تیرا کام کیا ہے بیقراروں میں

یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمارِ الفت نے

یہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں

ذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضرابِ محبت کی

کہ نغمے مضطرب ہیں بربطِ ہستی کے تاروں میں

کہاں کا شغل اب تو دور ہے خوں نابۂ غم کا

وہی قسمت میں تھی جو پی چکے اگلی بہاروں میں


عبدالمجید سالک

No comments:

Post a Comment