وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں
تڑپ بجلی میں اسکی اضطراب اس کا ستاروں میں
مدد اے اضطراب شوق! تُو جانِ تمنا ہے
نکل اے صبر! تیرا کام کیا ہے بیقراروں میں
یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمارِ الفت نے
یہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں
ذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضرابِ محبت کی
کہ نغمے مضطرب ہیں بربطِ ہستی کے تاروں میں
کہاں کا شغل اب تو دور ہے خوں نابۂ غم کا
وہی قسمت میں تھی جو پی چکے اگلی بہاروں میں
عبدالمجید سالک
No comments:
Post a Comment