Showing posts with label شبانہ یوسف. Show all posts
Showing posts with label شبانہ یوسف. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

اک مہکتے گلاب جیسا ہے

 اک مہکتے گلاب جیسا ہے

خوبصورت سے خواب جیسا ہے

میں اسے پڑھتی ہوں محبت سے

اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے

بے یقینی ہی بے یقینی ہے

ہر سمندر سراب جیسا ہے

Sunday, 7 March 2021

اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے

 اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے

سہارے پیڑ کے یہ بیل جو کھڑی ہوئی ہے

ابھی سے چھوٹی ہوئی جا رہی ہیں دیواریں

ابھی تو بیٹی ذرا سی مِری بڑی ہوئی ہے

بنا کے گھونسلہ چڑیا شجر کی بانہوں میں

نہ جانے کس لیے آندھی سے ڈری ہوئی ہے

Thursday, 25 February 2021

ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

 ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

لوگ تو پھر ہمیں محفل سے اٹھانے لگ جائیں

یاد بھی آج نہیں ٹھیک طرح سے جو شخص

ہم اسے بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جائیں

شام ہوتے ہی کوئی خوشبو دریچہ کھولے

اور پھر بیتے ہوئے لمحے ستانے لگ جائیں

Sunday, 14 February 2021

ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں

 ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں

بنا لیا ہے اداسی نے اک مکاں مجھ میں

ملا ہے اذن سخن کی مسافتوں کا پھر

کھُلے ہوئے ہیں تخیل کے بادباں مجھ میں

سحابی شام، سرِ چشم پھیلتے جگنو

کسی خیال نے بو دی یہ کہکشاں مجھ میں

Friday, 12 February 2021

حصار ذات میں سارا جہان ہونا تھا

 حصارِ ذات میں سارا جہان ہونا تھا 

قریب ایسے تجھے میری جان ہونا تھا 

تِری جبیں پہ شکن کیوں وصال لمحے میں 

محبتوں کا یہاں تو نشان ہونا تھا 

تمہارے چھُونے سے کچھ روشنی بدن کو ملی 

وگرنہ اس کو فقط راکھ دان ہونا تھا 

Thursday, 14 January 2021

لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے

 لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے

جگمگائیں گے در و بام یہی لگتا ہے

زیست کی راہ میں تنہا جو بھٹکتی ہوں میں

یہ وفاؤں کا ہے انعام یہی لگتا ہے

ایک مدت سے مسلسل ہوں سفر میں لیکن

منزل شوق ہے دو گام یہی لگتا ہے

Wednesday, 13 January 2021

وہ بادل مزاج کیا جانے

 ایک سوچ


جس کی یادوں کے دیپ میری پلکوں

کی چلمن پہ جابجا روشن ہیں

وہ بادل مزاج کیا جانے

اب کس آنگن برس برس رہا ہو گا


شبانہ یوسف

Tuesday, 12 January 2021

وہ نظم و ضبط کا اس طرح دھیان رکھے گا

 وہ نظم و ضبط کا اس طرح دھیان رکھے گا

کہیں پہ تیر، کہیں پر کمان رکھے گا

وہ چھین کر مِری ہر اک خوشی کہے مجھ سے

کہ میرے پاؤں میں سارا جہان رکھے گا

تعلقات میں خود بھی رہے گا مشکل میں

سدا عذاب میں مِری بھی جان رکھے گا