اک مہکتے گلاب جیسا ہے
خوبصورت سے خواب جیسا ہے
میں اسے پڑھتی ہوں محبت سے
اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے
بے یقینی ہی بے یقینی ہے
ہر سمندر سراب جیسا ہے
اک مہکتے گلاب جیسا ہے
خوبصورت سے خواب جیسا ہے
میں اسے پڑھتی ہوں محبت سے
اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے
بے یقینی ہی بے یقینی ہے
ہر سمندر سراب جیسا ہے
اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے
سہارے پیڑ کے یہ بیل جو کھڑی ہوئی ہے
ابھی سے چھوٹی ہوئی جا رہی ہیں دیواریں
ابھی تو بیٹی ذرا سی مِری بڑی ہوئی ہے
بنا کے گھونسلہ چڑیا شجر کی بانہوں میں
نہ جانے کس لیے آندھی سے ڈری ہوئی ہے
ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں
لوگ تو پھر ہمیں محفل سے اٹھانے لگ جائیں
یاد بھی آج نہیں ٹھیک طرح سے جو شخص
ہم اسے بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جائیں
شام ہوتے ہی کوئی خوشبو دریچہ کھولے
اور پھر بیتے ہوئے لمحے ستانے لگ جائیں
ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں
بنا لیا ہے اداسی نے اک مکاں مجھ میں
ملا ہے اذن سخن کی مسافتوں کا پھر
کھُلے ہوئے ہیں تخیل کے بادباں مجھ میں
سحابی شام، سرِ چشم پھیلتے جگنو
کسی خیال نے بو دی یہ کہکشاں مجھ میں
حصارِ ذات میں سارا جہان ہونا تھا
قریب ایسے تجھے میری جان ہونا تھا
تِری جبیں پہ شکن کیوں وصال لمحے میں
محبتوں کا یہاں تو نشان ہونا تھا
تمہارے چھُونے سے کچھ روشنی بدن کو ملی
وگرنہ اس کو فقط راکھ دان ہونا تھا
لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے
جگمگائیں گے در و بام یہی لگتا ہے
زیست کی راہ میں تنہا جو بھٹکتی ہوں میں
یہ وفاؤں کا ہے انعام یہی لگتا ہے
ایک مدت سے مسلسل ہوں سفر میں لیکن
منزل شوق ہے دو گام یہی لگتا ہے
ایک سوچ
جس کی یادوں کے دیپ میری پلکوں
کی چلمن پہ جابجا روشن ہیں
وہ بادل مزاج کیا جانے
اب کس آنگن برس برس رہا ہو گا
شبانہ یوسف
وہ نظم و ضبط کا اس طرح دھیان رکھے گا
کہیں پہ تیر، کہیں پر کمان رکھے گا
وہ چھین کر مِری ہر اک خوشی کہے مجھ سے
کہ میرے پاؤں میں سارا جہان رکھے گا
تعلقات میں خود بھی رہے گا مشکل میں
سدا عذاب میں مِری بھی جان رکھے گا