لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
پگھل نہ جاؤں تِرے جذبوں کی تپش سے میں
نگاہیں اپنی مِرے چہرے سے ہٹا تو سہی
اتری ہیں در و بام سے اکثر تِری یادیں
آتی ہیں دریچوں سے بھی چھن کر تری یادیں
کرنے نہیں دیتی ہیں کوئی کام کسی طور
مفلوج مجھے رکھتی ہیں دن بھر تری یادیں
شاداب ہی رہتا ہے سدا زخموں سے تیرے
ہونے نہ دیں دل کو کبھی بنجر تری یادیں
پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہُوا
دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
"اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے"
تم یاد تو آتے ہو،۔ مگر آتے نہیں ہو
یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
ہے دُور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے