Showing posts with label فرزانہ پروین. Show all posts
Showing posts with label فرزانہ پروین. Show all posts

Thursday, 24 September 2026

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا

کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے

میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا

آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو

اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا

Tuesday, 31 March 2026

تو اپنا حال غم دل کبھی سنا تو سہی

 میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی

گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی

میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری

میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی

پگھل نہ جاؤں تِرے جذبوں کی تپش سے میں

نگاہیں اپنی مِرے چہرے سے ہٹا تو سہی

Wednesday, 7 August 2024

اتری ہیں در و بام سے اکثر تری یادیں

 اتری ہیں در و بام سے اکثر تِری یادیں

آتی ہیں دریچوں سے بھی چھن کر تری یادیں

کرنے نہیں دیتی ہیں کوئی کام کسی طور 

مفلوج مجھے رکھتی ہیں دن بھر تری یادیں 

شاداب ہی رہتا ہے سدا زخموں سے تیرے 

ہونے نہ دیں دل کو کبھی بنجر تری یادیں 

Tuesday, 18 October 2022

پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا

پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہُوا

دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا

خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم

پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا

ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر

گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا

Sunday, 13 March 2022

کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے

کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے

"اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے"

تم یاد تو آتے ہو،۔ مگر آتے نہیں ہو

یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے

ہے دُور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی

اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے