اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی
جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
لہجے کی تیز دھار سے زخمی کیا اسے
پیوست دل میں لفظ کی سنگین ہم نے کی
لائے بروئے کار نہ حسن و جمال کو
موقع تھا پھر بھی رات نہ رنگین ہم نے کی
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی
جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
لہجے کی تیز دھار سے زخمی کیا اسے
پیوست دل میں لفظ کی سنگین ہم نے کی
لائے بروئے کار نہ حسن و جمال کو
موقع تھا پھر بھی رات نہ رنگین ہم نے کی
خدا نے جس کو چاہا اس نے بچے کی طرح ضد کی
خدا بخشش کرے گا اس لیے اقبال ساجد کی
گواہی دے گا اک دن خود مِرا منصف مِرے حق میں
دھری رہ جائیں گی ساری دلیلیں مِرے حاسد کی
وہی جو پہلے آیا تھا وہ سب کے بعد بھی آیا
اسی پیکر نے تو پہچان کروائی ہے مؤجد کی
پھینک یوں پتھر کہ سطح آب بھی بوجھل نہ ہو
نقش بھی بن جائے اور دریا میں بھی ہلچل نہ ہو
کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے
آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو
ہے سفر درپیش تو پرچھائیں کی انگلی پکڑ
راہ میں تنہائی کے احساس سے پاگل نہ ہو
حاصل کرو مِرے لیے نفرت کرائے پر
لے آؤ سارے شہر کی خلقت کرائے پر
جسموں کی منڈیوں میں سبھی کچھ ملے گا دوست
تنہائی، قرب، لمس و حرارت کرائے پر
کچھ برف برف لوگ پگھلنے کے واسطے
سورج سے چاہتے ہیں تمازت کرائے پر
سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیادہ
تھک جائے گا بھاگے گا اگر حد سے زیادہ
ممکن ہے ترے ہاتھ سے مٹ جائیں لکیریں
امید نہ رکھ گوہر مقصد سے زیادہ
لگ جائے نہ تجھ پر ہی ترے قتل کا الزام
بدنام تو ہوتا ہے برا بد سے زیادہ
مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں
بھرو نہ حد سے زیادہ ہوا غبارے میں
تماشا ختم ہوا دھوپ کے مداری کا
سنہری سانپ چھپے شام کے پٹارے میں
جسے میں دیکھ چکا اس کو لوگ کیوں دیکھیں
نہ چھوڑی کوئی بھی باقی کشش نظارے میں
سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں
میں کہ پتھریلی زمیں میں پھول بو سکتا نہیں
لگ چکے ہیں دامنوں پر جتنے رسوائی کے داغ
ان کو آنسو کیا سمندر تک بھی دھو سکتا نہیں
ایک دو دکھ ہوں تو پھر ان سے کروں جی بھر کے پیار
سب کو سینے سے لگا لوں یہ تو ہو سکتا نہیں
اس آئینے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی
اک روز مجھ پہ اس کی طبیعت بھی آئے گی
قدغن لگا نہ اشکوں پہ یادوں کے شہر میں
ہو گا اگر تماشا، تو خلقت بھی آئے گی
میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا
اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی
بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہو کیوں
دوستو! میرے دکھوں کو مشتہر کرتے ہو کیوں
کوئی دروازہ نہ کھولے گا صدائے درد پر
بستیوں میں شور و غل شام و سحر کرتے ہو کیوں
مجھ سے غربت مول لے کر کون گھر لے جائے گا
تم مجھے رسوا سر بازارِ زر کرتے ہو کیوں
کٹتے ہی سنگ لفظ گرانی نکل پڑے
شیشہ اٹھا کہ جوئے معانی نکل پڑے
پیاسو! رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر
مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے
مجھ کو ہے موج موج گرہ باندھنے کا شوق
پھر شہر کی طرف نہ روانی نکل پڑے
عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی
کسی نے سنگ سے تصویر کو رہائی دی
سنہرے حرف بھی مٹی کے بھاؤ بیچ دیے
تجھے تو میں نے نئے ذہن کی کمائی دی
بچا سکی نہ مجھے بھیڑ چپ کے قاتل سے
ہزار شور مچایا،۔ بہت دہائی دی
وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا
لہو پہن کے مجھے سرخرو بھی ہونا تھا
سنہری ہاتھ میں تازہ لہو کی فصل نہ دی
کہ اپنے حق کے لیے جنگجو بھی ہونا تھا
بگولہ بن کے سمندر میں خاک اڑانا تھی
کہ لہر لہر مجھے تند خو بھی ہونا تھا
جب ہوئی رائے شماری سبھی صادق ٹھہرے
ایک ہم تھے کہ جو بستی میں منافق ٹھہرے
شہر کے باغ میں ہو جائے ملاقات تو پھر
کون گلیوں میں رکے کون پسِ چِق ٹھہرے
آج کے دن بھی مِرا رزق نہ مجھ پر اترا
آج کے دن بھی پڑوسی مِرے رازِق ٹھہرے
پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا
کروٹ بدل رہا تھا برابر پڑا ہوا
باہر سے دیکھیے تو بدن ہیں ہرے بھرے
لیکن لہو کا کال ہے اندر پڑا ہوا
دیوار تو ہے راہ میں سالم کھڑی ہوئی
سایہ ہے درمیان سے کٹ کر پڑا ہوا
دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا
اور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا
غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھی
کیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ نہیں کیا
چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دئیے
روزی رساں سے ہم نے گِلہ کچھ نہیں کیا