Showing posts with label اقبال ساجد. Show all posts
Showing posts with label اقبال ساجد. Show all posts

Saturday, 7 January 2023

اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی

 اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی

جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی

لہجے کی تیز دھار سے زخمی کیا اسے

پیوست دل میں لفظ کی سنگین ہم نے کی

لائے بروئے کار نہ حسن و جمال کو

موقع تھا پھر بھی رات نہ رنگین ہم نے کی

Tuesday, 19 April 2022

خدا نے جس کو چاہا اس نے بچے کی طرح ضد کی

خدا نے جس کو چاہا اس نے بچے کی طرح ضد کی

خدا بخشش کرے گا اس لیے اقبال ساجد کی

گواہی دے گا اک دن خود مِرا منصف مِرے حق میں

دھری رہ جائیں گی ساری دلیلیں مِرے حاسد کی

وہی جو پہلے آیا تھا وہ سب کے بعد بھی آیا

اسی پیکر نے تو پہچان کروائی ہے مؤجد کی

Friday, 25 March 2022

پھینک یوں پتھر کہ سطح آب بھی بوجھل نہ ہو

 پھینک یوں پتھر کہ سطح آب بھی بوجھل نہ ہو 

نقش بھی بن جائے اور دریا میں بھی ہلچل نہ ہو 

کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے 

آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو 

ہے سفر درپیش تو پرچھائیں کی انگلی پکڑ 

راہ میں تنہائی کے احساس سے پاگل نہ ہو 

Thursday, 11 March 2021

حاصل کرو مرے لیے نفرت کرائے پر

 حاصل کرو مِرے لیے نفرت کرائے پر

لے آؤ سارے شہر کی خلقت کرائے پر

جسموں کی منڈیوں میں سبھی کچھ ملے گا دوست

تنہائی، قرب، لمس و حرارت کرائے پر

کچھ برف برف لوگ پگھلنے کے واسطے

سورج سے چاہتے ہیں تمازت کرائے پر

Wednesday, 14 October 2020

سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیاد

 سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیادہ

تھک جائے گا بھاگے گا اگر حد سے زیادہ

ممکن ہے ترے ہاتھ سے مٹ جائیں لکیریں

امید نہ رکھ گوہر مقصد سے زیادہ

لگ جائے نہ تجھ پر ہی ترے قتل کا الزام

بدنام تو ہوتا ہے برا بد سے زیادہ

Tuesday, 13 October 2020

مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں

 مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں

بھرو نہ حد سے زیادہ ہوا غبارے میں

تماشا ختم ہوا دھوپ کے مداری کا

سنہری سانپ چھپے شام کے پٹارے میں

جسے میں دیکھ چکا اس کو لوگ کیوں دیکھیں

نہ چھوڑی کوئی بھی باقی کشش نظارے میں

Monday, 12 October 2020

سنگدل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

 سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

میں کہ پتھریلی زمیں میں پھول بو سکتا نہیں

لگ چکے ہیں دامنوں پر جتنے رسوائی کے داغ

ان کو آنسو کیا سمندر تک بھی دھو سکتا نہیں

ایک دو دکھ ہوں تو پھر ان سے کروں جی بھر کے پیار

سب کو سینے سے لگا لوں یہ تو ہو سکتا نہیں

Sunday, 11 October 2020

اس آئینے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی

 اس آئینے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی

اک روز مجھ پہ اس کی طبیعت بھی آئے گی

قدغن لگا نہ اشکوں پہ یادوں کے شہر میں

ہو گا اگر تماشا، تو خلقت بھی آئے گی

میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا

اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

Saturday, 10 October 2020

بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہو کیوں

 بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہو کیوں

دوستو! میرے دکھوں کو مشتہر کرتے ہو کیوں

کوئی دروازہ نہ کھولے گا صدائے درد پر

بستیوں میں شور و غل شام و سحر کرتے ہو کیوں

مجھ سے غربت مول لے کر کون گھر لے جائے گا

تم مجھے رسوا سر بازارِ زر کرتے ہو کیوں

Friday, 9 October 2020

کٹتے ہی سنگ لفظ گرانی نکل پڑے

 کٹتے ہی سنگ لفظ گرانی نکل پڑے

شیشہ اٹھا کہ جوئے معانی نکل پڑے

پیاسو! رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر

مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے

مجھ کو ہے موج موج گرہ باندھنے کا شوق

پھر شہر کی طرف نہ روانی نکل پڑے

عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی

 عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی

کسی نے سنگ سے تصویر کو رہائی دی

سنہرے حرف بھی مٹی کے بھاؤ بیچ دیے

تجھے تو میں نے نئے ذہن کی کمائی دی

بچا سکی نہ مجھے بھیڑ چپ کے قاتل سے

ہزار شور مچایا،۔ بہت دہائی دی

Monday, 3 August 2020

وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا

 وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا

لہو پہن کے مجھے سرخرو بھی ہونا تھا

سنہری ہاتھ میں تازہ لہو کی فصل نہ دی

کہ اپنے حق کے لیے جنگجو بھی ہونا تھا

بگولہ بن کے سمندر میں خاک اڑانا تھی

کہ لہر لہر مجھے تند خو بھی ہونا تھا

جب ہوئی رائے شماری سبھی صادق ٹھہرے

 جب ہوئی رائے شماری سبھی صادق ٹھہرے

ایک ہم تھے کہ جو بستی میں منافق ٹھہرے

شہر کے باغ میں ہو جائے ملاقات تو پھر

کون گلیوں میں رکے کون پسِ چِق ٹھہرے

آج کے دن بھی مِرا رزق نہ مجھ پر اترا

آج کے دن بھی پڑوسی مِرے رازِق ٹھہرے

Tuesday, 28 July 2020

پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا

 پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا

کروٹ بدل رہا تھا برابر پڑا ہوا

باہر سے دیکھیے تو بدن ہیں ہرے بھرے

لیکن لہو کا کال ہے اندر پڑا ہوا

دیوار تو ہے راہ میں سالم کھڑی ہوئی

سایہ ہے درمیان سے کٹ کر پڑا ہوا

دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

 دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

اور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا

غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھی

کیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ نہیں کیا

چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دئیے

روزی رساں سے ہم نے گِلہ کچھ نہیں کیا

Friday, 20 November 2015

بھوک پہنوں میں بھوک اوڑھوں میں بھوک دیکھوں میں پیاس لکھوں

بھوک پہنوں میں بھوک اوڑھوں، میں بھوک دیکھوں، میں پیاس لکھوں
برہنہ جسموں کے واسطے میں خیال کاتوں، کپاس لکھوں
سسک سسک کر جو مر رہے ہیں، میں ان میں شامل ہوں اور پھر بھی
کسی کے دل میں امید بوؤں، کسی کی آنکھوں میں آس لکھوں
لہو کے قطرے بدن کے طائر، ہر ایک خواہش ہے شاخ میری
کسی زباں میں مہک اگاؤں، کسی کے لب پر مٹھاس لکھوں

غار سے سنگ ہٹایا تو وہ خالی نکلا

غار سے سنگ ہٹایا تو وہ خالی نکلا
کسی قیدی کا نہ کردار مثالی نکلا
چڑھتے سورج نے ہر اک ہاتھ میں کشکول دیا
صبح ہوتے ہی ہر اک گھر سے سوالی نکلا
سب کی شکلوں میں تِری شکل نظر آئی مجھے
قرعۂ فال مِرے نام پہ گالی نکلا

Wednesday, 7 October 2015

دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا

دہر کے اندھے کنویں میں کَس کے آوازہ لگا
کوئی پتھر پھینک کر پانی کا اندازہ لگا
ذِہن میں سوچوں کا سُورج برف کی صُورت نہ رکھ
کُہر کے دیوار و در پر دُھوپ کا غازہ لگا
رات بھی اب جا رہی ہے اپنی منزل کی طرف
کس کی دُھن میں جاگتا ہے، گھر کا دروازہ لگا

خوف دل میں نہ ترے در کے گدا نے رکھا

خوف دل میں نہ تِرے در کے گدا نے رکھا
دن کو کشکول بھرا، شب کو سرہانے رکھا
فکرِ معیارِ سخن باعثِ آزار ہوئی
تنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا
رات فٹ پاتھ پہ دن بھر کی تھکن کام آئی
اس کا بستر بھی کِیا، سر پہ بھی تانے رکھا

ختم راتوں رات اس گل کی کہانی ہو گئی

ختم راتوں رات اس گل کی کہانی ہو گئی
رنگ بوسیدہ ہوئے، خوشبو پرانی ہو گئی
جس سے روشن تھا مقدر وہ ستارہ کھو گیا
ظلمتوں کی نذر آخر زندگانی ہو گئی
کل اجالوں کے نگر میں حادثہ ایسا ہوا
چڑھتےسورج پر دِیے کی حکمرانی ہو گئی