Monday, 12 October 2020

سنگدل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

 سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

میں کہ پتھریلی زمیں میں پھول بو سکتا نہیں

لگ چکے ہیں دامنوں پر جتنے رسوائی کے داغ

ان کو آنسو کیا سمندر تک بھی دھو سکتا نہیں

ایک دو دکھ ہوں تو پھر ان سے کروں جی بھر کے پیار

سب کو سینے سے لگا لوں یہ تو ہو سکتا نہیں

تیری بربادی پہ اب آنسو بہاؤں کس لیے

میں تو خود اپنی تباہی پر بھی رو سکتا نہیں

جس نے سمجھا ہو ہمیشہ دوستی کو کاروبار

دوستو وہ تو کسی کا دوست ہو سکتا نہیں

خواہشوں کی نذر کر دوں کس لیے انمول اشک

کچے دھاگوں میں کوئی موتی پرو سکتا نہیں

میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر

آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

مجھ کو اتنا بھی نہیں ہے سرخرو ہونے کا شوق

بے سبب تازہ لہو کی فصل بو سکتا نہیں

یاد کے شعلوں پہ جلتا ہے اگر میرا بدن

اوڑھ کر پھولوں کی چادر تو بھی سو سکتا نہیں

ہاتھ جس سے کچھ نہ آئے اس کی خواہش کیوں کروں

دودھ کی مانند میں پانی بلو سکتا نہیں


اقبال ساجد

No comments:

Post a Comment