زندگی الجھی ہے بکھرے ہوئے گیسو کی طرح
غم پیۓ جاتے ہیں امڈے ہوئے آنسو کی طرح
آج وحشت کا یہ عالم ہے کہ ہر انساں ہے
دشت< تجرید کے بھاگے ہوئے آہو کی طرح
ظلم کا آگ اُگلتا ہوا ســورج سر پر
تپش درد سے ہر سانس ہے اب لو کی طرح
زندگی الجھی ہے بکھرے ہوئے گیسو کی طرح
غم پیۓ جاتے ہیں امڈے ہوئے آنسو کی طرح
آج وحشت کا یہ عالم ہے کہ ہر انساں ہے
دشت< تجرید کے بھاگے ہوئے آہو کی طرح
ظلم کا آگ اُگلتا ہوا ســورج سر پر
تپش درد سے ہر سانس ہے اب لو کی طرح
آؤ چلیں اس کھنڈر میں
جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیا
کچھ یادیں ان میں باقی ہیں
فریادیں بھی کچھ باقی ہیں
شہنائی کا ہے کوئی مدھم سر
ان دیواروں میں گونج رہا
میں تِرے شہر میں پھرتی رہی ماری ماری
کبھی گلشن کبھی صحرا کبھی وادی وادی
راہ پر پینچ تھی تنہائی تھی اندھیارا تھا
بے بسی کہتی رہی دشت میں ہادی ہادی
الجھنیں اور کسک ہو گئی تقدیر مِری
خانقاہوں میں بھی جھانک آئے ہیں جالی جالی
بچھڑ گئے تم بدل گئے تم
یہ رت جو بدلی بدل گیا سب
وفا کی باتیں ملن کی راتیں
وہی ہوا نا کہ جس کا ڈر تھا
اداسی آنکھوں میں بس گئی ہے
رنگ سارے پڑے ہیں پھیکے
اداس آنکھیں غزال آنکھیں
جواب آنکھیں سوال آنکھیں
وہ صبح کا وقت نیند کچی
خمار سے بے مثال آنکھیں
ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی
محبتوں سے نہال آنکھیں
یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے
بجھ جائے جو اک بار جلائے نہ جلے ہے
ٹوٹا جو بھرم رشتوں میں احساس و وفا کا
سو طرح نبھاؤ تو نبھائے نہ نبھے ہے
کوشش تو بہت کی ہے کہ دھل جائے ہر اک عکس
اک شکل ہے ایسی کہ بہائے نہ بہے ہے
میں سچ تو کہہ دوں پر اس کو کہیں برا نہ لگے
مِرے خیال کی یا رب اسے ہوا نہ لگے
عجیب طرز سے اب کے نبھایا الفت کو
وفا جو کی ہے تو اس طرح کہ وفا نہ لگے
درونِ ذات بسا ہے جہان یادوں کا
وہ دور رہ کے بھی مجھ کو کبھی جدا نہ لگے
وہ اک چنچل سی لڑکی تھی
وہ اک چنچل سی لڑکی تھی
یہیں اک گھر میں رہتی تھی
میں اکثر شام کو اس رہگزر سے جب نکلتا تھا
وہ اس کے قہقہے اور
بے تحاشہ بولتے جانا