Showing posts with label اسریٰ رضوی. Show all posts
Showing posts with label اسریٰ رضوی. Show all posts

Tuesday, 26 April 2022

زندگی الجھی ہے بکھرے ہوئے گیسو کی طرح

 زندگی الجھی ہے بکھرے ہوئے گیسو کی طرح

غم پیۓ جاتے ہیں امڈے ہوئے آنسو کی طرح

آج وحشت کا یہ عالم ہے کہ ہر انساں ہے

دشت< تجرید کے بھاگے ہوئے آہو کی طرح

ظلم کا آگ اُگلتا ہوا ســورج سر پر

تپش درد سے ہر سانس ہے اب لو کی طرح

Saturday, 26 March 2022

آؤ چلیں اس کھنڈر میں جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیا

 آؤ چلیں اس کھنڈر میں


جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیا

کچھ یادیں ان میں باقی ہیں

فریادیں بھی کچھ باقی ہیں

شہنائی کا ہے کوئی مدھم سر

ان دیواروں میں گونج رہا

Sunday, 13 March 2022

میں ترے شہر میں پھرتی رہی ماری ماری

 میں تِرے شہر میں پھرتی رہی ماری ماری 

کبھی گلشن کبھی صحرا کبھی وادی وادی 

راہ پر پینچ تھی تنہائی تھی اندھیارا تھا 

بے بسی کہتی رہی دشت میں ہادی ہادی 

الجھنیں اور کسک ہو گئی تقدیر مِری 

خانقاہوں میں بھی جھانک آئے ہیں جالی جالی 

Sunday, 27 February 2022

رت جو بدلی بدل گیا سب

 بچھڑ گئے تم بدل گئے تم 

یہ رت جو بدلی بدل گیا سب 

وفا کی باتیں ملن کی راتیں 

وہی ہوا نا کہ جس کا ڈر تھا 

اداسی آنکھوں میں بس گئی ہے 

رنگ سارے پڑے ہیں پھیکے 

Thursday, 24 February 2022

اداس آنکھیں غزال آنکھیں

 اداس آنکھیں غزال آنکھیں 

جواب آنکھیں سوال آنکھیں

وہ صبح کا وقت نیند کچی 

خمار سے بے مثال آنکھیں 

ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی 

محبتوں سے نہال آنکھیں

Wednesday, 23 February 2022

یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے

 یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے 

بجھ جائے جو اک بار جلائے نہ جلے ہے  

ٹوٹا جو بھرم رشتوں میں احساس و وفا کا

سو طرح نبھاؤ تو نبھائے نہ نبھے ہے

کوشش تو بہت کی ہے کہ دھل جائے ہر اک عکس

اک شکل ہے ایسی کہ بہائے نہ بہے ہے

Tuesday, 22 February 2022

میں سچ تو کہہ دوں پر اس کو کہیں برا نہ لگے

 میں سچ تو کہہ دوں پر اس کو کہیں برا نہ لگے

مِرے خیال کی یا رب اسے ہوا نہ لگے

عجیب طرز سے اب کے نبھایا الفت کو

وفا جو کی ہے تو اس طرح کہ وفا نہ لگے

درونِ ذات بسا ہے جہان یادوں کا

وہ دور رہ کے بھی مجھ کو کبھی جدا نہ لگے

Monday, 21 February 2022

بڑی پاگل سی لڑکی تھی بہت ہی شوخ چنچل سی

 وہ اک چنچل سی لڑکی تھی


وہ اک چنچل سی لڑکی تھی

یہیں اک گھر میں رہتی تھی

میں اکثر شام کو اس رہگزر سے جب نکلتا تھا

وہ اس کے قہقہے اور

بے تحاشہ بولتے جانا