کبھی سُورج بھی نکلے گا
ابھی سورج نہیں نکلا
سڑک پر گاڑیوں کے قافلے آئے نہیں
لیکن دِہاڑی دار مزدوروں کا اک سَیلِ بدن مایہ
اُمڈ کر چوک میں آیا
بدن پر میل میں لپٹی ہزاروں سلوٹیں پہنے
پھٹے پیروں میں ٹھنڈی خاک کے جُوتے
کبھی سُورج بھی نکلے گا
ابھی سورج نہیں نکلا
سڑک پر گاڑیوں کے قافلے آئے نہیں
لیکن دِہاڑی دار مزدوروں کا اک سَیلِ بدن مایہ
اُمڈ کر چوک میں آیا
بدن پر میل میں لپٹی ہزاروں سلوٹیں پہنے
پھٹے پیروں میں ٹھنڈی خاک کے جُوتے
سقراط
پتھر کاٹنے والے کو معلوم نہیں تھا
اپنا آپ ہی سب سے بھاری پتھر ہے
جسم کا پتھر کٹ جائے تو رستہ بہتر کٹ جاتا ہے
ڈھیروں پتھر کاٹ کاٹ کے
وہ روز و شب کاٹ رہا تھا
اُس کو یہ معلوم نہیں تھا اس کا بیٹا
یہ بات کیا ہے کہ دل کو ذرا لگاتے ہیں
لگانا ہو تو پھر اچھی طرح لگاتے ہیں
دبا کے رکھا ہے گہری گھٹن میں تو نے اسے
ادھر تو آ، ترے دل کو ہوا لگاتے ہیں
وہ بات کرتے تھے میری وفا پرستی کی
مجھے لگا کہ وہ الزام سا لگاتے ہیں
گلوبل وارمنگ (Global Warming)
گلی میں جو نکلا
تو گالوں پہ گرمی کے تھپڑ پڑے
چونک کر میں نے دیکھا
حرارت بھرے فاصلے پر بگولہ کھڑا تھا
وہ تھا باد زادہ
مگر گرد کے ایک چکر میں تھا
کفن چور
کچھ نہیں گھر میں مِرے کچھ بھی نہیں
کوئی کپڑا کہ حرارت کو بدن میں رکھتا
لقمۂ نانِ جوِیں، خون کو دھکا دیتا
من کو گرماتا سکوں، تن سے لپٹتا بستر
کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں
رات کو جسم سے چپکاتی ہوئی سرد ہوا
کوئی رُت بھی نہیں دنیا میں سُہانی دل سے
کتنی بے کیف رہی نقل مکانی دل سے
تم نے جو درد کا بادل سا اُمڈتے دیکھا
یہ تو نِکلی ہے مِری رنج بیانی دل سے
کتنے چہرے ہیں نئے، آنکھ میں آتے جاتے
ہائے، جاتی ہی نہیں شکل پرانی دل سے
موجۂ درد کو اتنا تو اُچھالا جائے
جس طرف ابر چلے، میرا حوالہ جائے
دل کے صحرا میں تہی چشم کھڑا سوچتا ھوں
کس طرح اتنی تمناؤں کو پالا جائے
میرا تو سات زمانوں میں کہیں ذکر نہیں
کِن زمینوں میں مجھے ڈھونڈنے والا جائے
الجھے بکھرے لوگ
میرے چوگرد بکھرے ہوئے لوگ ہیں
خود یہاں ہیں مگر
سوچ پنچھی کہیں دور صحراؤں میں
اپنی بے پر اڑانوں میں کھویا ہوا
بال چڑیا کا اجڑا ہوا گھونسلا
اور خیالات چمگادڑوں کی طرح ہیں
یہ بات کیا ہے کہ دل کو ذرا لگاتے ہیں
لگانا ہو تو پھر اچھی طرح لگاتے ہیں
دبا کے رکھا ہے گہری گھٹن میں تو نے اسے
ادھر تو آ، تِرے دل کو ہوا لگاتے ہیں
وہ بات کرتے تھے میری وفا پرستی کی
مجھے لگا کہ وہ الزام سا لگاتے ہیں
اب کوئی نیند کی سُولی سے اتارے تم کو
مار ڈالیں نہ کہیں خواب تمہارے تم کو
جس سہولت سے ہمیں ہار دیا ہے تم نے
اس سہولت سے کبھی کوئی نہ ہارے تم کو
ایک جگنو کو ہتھیلی سے اُڑانے والے
مل نہ پائیں گے کبھی چاند ستارے تم کو
محبت اور دکھ
محبت ڈھونڈنے والی
حقائق دیکھتی دنیا میں سپنے دیکھنے والی
حسیں لڑکی! حقیقت تلخ ہوتی ہے
تجھے معلوم کیسے ہو
محبت وہ پرندہ ہے
جو اپنا آشیاں ہر بار کانٹوں پر بناتا ہے
پانی پانی کے اک شور میں کتنی چیخیں ڈُوب گئیں
پہلے کچھ آوازیں ابھریں، آخر سانسیں ڈوب گئیں
کون سدھائے بپھرا پانی،۔ کون اُسارے مٹی کو
دریاؤں پر پُشتے باندھنے والی بانہیں ڈوب گئیں
پانی کا عفریت اُچھل کر شہ رگ تک آ پہنچا تھا
بچے جس پر بیٹھے تھے اس پیڑ کی شاخیں ڈوب گئیں
کنارِ چشم سے دیکھا ہے خوف کھاتے ہوئے
لرزتی ڈولتی دنیا کو ڈوب جاتے ہوئے
کسی نے ہم سے نہ پوچھا ہمارے خواب کا رنگ
یہ رنگ رنگ کے پرچم ہمیں تھماتے ہوئے
ہے شور خانۂ دنیا،۔ گلی کے نکڑ پر
میں کان بند ہی رکھتا ہوں آتے جاتے ہوئے
ان تیز رابطوں میں کہیں کھو گیا تو پھر
یہ آشنا بھی ہو گیا نا آشنا تو پھر
اتنا نہ شش جہات کے پنجرے پہ ناز کر
میں ساتویں طرف کو اگر چل دیا تو پھر
اِس بار میرے ذہن کا خدشہ تو دیکھیۓ
اُس کو بلا کے خود نہ وہاں جا سکا تو پھر
ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے
میں چل رہا تھا زمانے شمار کرتے ہوئے
یہی کُھلا کہ مسافر نے خود کو پار کیا
تِری تلاش کے صحرا کو پار کرتے ہوئے
میں رشکِ ریشۂ گل تھا، بدل کے سنگ ہوا
بدن کو تیرے بدن کا حصار کرتے ہوئے
وبا
ہراس اک گلی سے دوسری گلی کو چل پڑا
سیاہ رنگ خوف تارکول کی طرح
زمیں کی ہر سڑک پہ پھر گیا
جہاں صدا کے پنچھیوں کی بے خطر اڑان تھی
وہاں پہ اب خموشیوں کے جال ہیں
خاکِ رہ نفع سہی ہجر کمائی ہی سہی
منزلِ وصل نہیں، آبلہ پائی ہی سہی
ضعف تسلیم، مگر جمِ اسیرانِ جفا
کوئی چارہ تو کرو، شورِ دُہائی ہی سہی
رُخ سے پردہ تو ہٹے، محشرِِ دیدار تو ہو
چشمِ خنداں نہ سہی، چشم نمائی ہی سہی
پیاس بجھا سکتے ہو، بھوک مٹا سکتے ہو
آنسو پی کر اگلا دھوکہ کھا سکتے ہو
دل کو جانے والا رستہ بند پڑا ہے
آنا ہے تو بس آنکھوں تک آ سکتے ہو
میں اک سمت ہوں اور بھی سمتیں ہیں دنیا میں
تم جس سمت بھی جانا چاہو، جا سکتے ہو
افق کے پار جانے والے آنسو
سفید آنچل کے ایک کونے میں
میرے آنسو سنبھال کر اس طرح وہ بولی
نہ ایسے رونا
اے میرے بچے
یہ زندگی، نام ہے دُکھوں کا
مارگلہ اور تم اور میں
کوئی پھولوں بھرا جنگل تھا
بھاری خوشبوؤں والا
کسی وادی میں ٹھنڈی سبز رنگت گر رہی تھی
دل بھی گہرائی میں گرتا تھا
گھنے پتوں کے گھیرے دار گہرے سبز بادل تھے
جہاں تنہا کرن نے خود کو ہی رستہ بنایا