Showing posts with label شہزاد نیر. Show all posts
Showing posts with label شہزاد نیر. Show all posts

Wednesday, 1 May 2024

کبھی سورج بھی نکلے گا ابھی سورج نہیں نکلا

 کبھی سُورج بھی نکلے گا


ابھی سورج نہیں نکلا

سڑک پر گاڑیوں کے قافلے آئے نہیں

لیکن دِہاڑی دار مزدوروں کا اک سَیلِ بدن مایہ

اُمڈ کر چوک میں آیا

بدن پر میل میں لپٹی ہزاروں سلوٹیں پہنے

پھٹے پیروں میں ٹھنڈی خاک کے جُوتے

Monday, 15 April 2024

سقراط پتھر کاٹنے والے کو معلوم نہیں تھا

 سقراط

پتھر کاٹنے والے کو معلوم نہیں تھا

اپنا آپ ہی سب سے بھاری پتھر ہے

جسم کا پتھر کٹ جائے تو رستہ بہتر کٹ جاتا ہے

ڈھیروں پتھر کاٹ کاٹ کے

وہ روز و شب کاٹ رہا تھا

اُس کو یہ معلوم نہیں تھا اس کا بیٹا

Thursday, 28 March 2024

یہ بات کیا ہے کہ دل کو ذرا لگاتے ہیں

 یہ بات کیا ہے کہ دل کو ذرا لگاتے ہیں 

لگانا ہو تو پھر اچھی طرح لگاتے ہیں 

دبا کے رکھا ہے گہری گھٹن میں تو نے اسے

ادھر تو آ، ترے دل کو ہوا لگاتے ہیں

وہ بات کرتے تھے میری وفا پرستی کی

مجھے لگا کہ وہ الزام سا لگاتے ہیں 

Monday, 25 March 2024

گلوبل وارمنگ نسل آدم کہاں سو رہی ہے

 گلوبل وارمنگ (Global Warming)


گلی میں جو نکلا

تو گالوں پہ گرمی کے تھپڑ پڑے

چونک کر میں نے دیکھا

حرارت بھرے فاصلے پر بگولہ کھڑا تھا

وہ تھا باد زادہ

مگر گرد کے ایک چکر میں تھا

Saturday, 23 March 2024

ایک ملبوس کمانے کی اجازت دے دے

 کفن چور


کچھ نہیں گھر میں مِرے کچھ بھی نہیں

کوئی کپڑا کہ حرارت کو بدن میں رکھتا

لقمۂ نانِ جوِیں، خون کو دھکا دیتا

من کو گرماتا سکوں، تن سے لپٹتا بستر

کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں

رات کو جسم سے چپکاتی ہوئی سرد ہوا

Wednesday, 20 March 2024

کوئی رت بھی نہیں دنیا میں سہانی دل سے

 کوئی رُت بھی نہیں دنیا میں سُہانی دل سے

کتنی بے کیف رہی نقل مکانی دل سے

تم نے جو درد کا بادل سا اُمڈتے دیکھا

یہ تو نِکلی ہے مِری رنج بیانی دل سے 

کتنے چہرے ہیں نئے، آنکھ میں آتے جاتے

ہائے، جاتی ہی نہیں شکل پرانی دل سے

Tuesday, 8 August 2023

موجۂ درد کو اتنا تو اچھالا جائے

موجۂ درد کو اتنا تو اُچھالا جائے

جس طرف ابر چلے، میرا حوالہ جائے

دل کے صحرا میں تہی چشم کھڑا سوچتا ھوں

کس طرح اتنی تمناؤں کو پالا جائے

میرا تو سات زمانوں میں کہیں ذکر نہیں

کِن زمینوں میں مجھے ڈھونڈنے والا جائے

Friday, 17 March 2023

میرے چوگرد بکھرے ہوئے لوگ ہیں

الجھے بکھرے لوگ


میرے چوگرد بکھرے ہوئے لوگ ہیں

خود یہاں ہیں مگر

سوچ پنچھی کہیں دور صحراؤں میں

اپنی بے پر اڑانوں میں کھویا ہوا

بال چڑیا کا اجڑا ہوا گھونسلا

اور خیالات چمگادڑوں کی طرح ہیں

Saturday, 18 February 2023

یہ بات کیا ہے کہ دل کو ذرا لگاتے ہیں

یہ بات کیا ہے کہ دل کو ذرا لگاتے ہیں

لگانا ہو تو پھر اچھی طرح لگاتے ہیں

دبا کے رکھا ہے گہری گھٹن میں تو نے اسے

ادھر تو آ، تِرے دل کو ہوا لگاتے ہیں

وہ بات کرتے تھے میری وفا پرستی کی

مجھے لگا کہ وہ الزام سا لگاتے ہیں

Monday, 21 November 2022

اب کوئی نیند کی سولی سے اتارے تم کو

 اب کوئی نیند کی سُولی سے اتارے تم کو

مار ڈالیں نہ کہیں خواب تمہارے تم کو

جس سہولت سے ہمیں ہار دیا ہے تم نے

اس سہولت سے کبھی کوئی نہ ہارے تم کو 

ایک جگنو کو ہتھیلی سے اُڑانے والے

مل نہ پائیں گے کبھی چاند ستارے تم کو

Saturday, 1 October 2022

محبت ڈھونڈنے والی حسیں لڑکی حقیقت تلخ ہوتی ہے

 محبت اور دکھ


محبت ڈھونڈنے والی

حقائق دیکھتی دنیا میں سپنے دیکھنے والی

حسیں لڑکی! حقیقت تلخ ہوتی ہے

تجھے معلوم کیسے ہو

محبت وہ پرندہ ہے

جو اپنا آشیاں ہر بار کانٹوں پر بناتا ہے

Monday, 29 August 2022

پانی پانی کے اک شور میں کتنی چیخیں ڈوب گئیں

 پانی پانی کے اک شور میں کتنی چیخیں ڈُوب گئیں

پہلے کچھ آوازیں ابھریں، آخر سانسیں ڈوب گئیں

کون سدھائے بپھرا پانی،۔ کون اُسارے مٹی کو

دریاؤں پر پُشتے باندھنے والی بانہیں ڈوب گئیں

پانی کا عفریت اُچھل کر شہ رگ تک آ پہنچا تھا

بچے جس پر بیٹھے تھے اس پیڑ کی شاخیں ڈوب گئیں

Sunday, 3 July 2022

کنار چشم سے دیکھا ہے خوف کھاتے ہوئے

 کنارِ چشم سے دیکھا ہے خوف کھاتے ہوئے

لرزتی ڈولتی دنیا کو ڈوب جاتے ہوئے

کسی نے ہم سے نہ پوچھا ہمارے خواب کا رنگ

یہ رنگ رنگ کے پرچم ہمیں تھماتے ہوئے

ہے شور خانۂ دنیا،۔ گلی کے نکڑ پر

میں کان بند ہی رکھتا ہوں آتے جاتے ہوئے

Monday, 27 June 2022

ان تیز رابطوں میں کہیں کھو گیا تو پھر

 ان تیز رابطوں میں کہیں کھو گیا تو پھر

یہ آشنا بھی ہو گیا نا آشنا تو پھر

اتنا نہ شش جہات کے پنجرے پہ ناز کر

میں ساتویں طرف کو اگر چل دیا تو پھر

اِس بار میرے ذہن کا خدشہ تو دیکھیۓ

اُس کو بلا کے خود نہ وہاں جا سکا تو پھر

Friday, 24 June 2022

ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے

 ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے

میں چل رہا تھا زمانے شمار کرتے ہوئے

یہی کُھلا کہ مسافر نے خود کو پار کیا

تِری تلاش کے صحرا کو پار کرتے ہوئے

میں رشکِ ریشۂ گل تھا، بدل کے سنگ ہوا

بدن کو تیرے بدن کا حصار کرتے ہوئے

Tuesday, 25 January 2022

ہراس اک گلی سے دوسری گلی کو چل پڑا

 وبا


ہراس اک گلی سے دوسری گلی کو چل پڑا

سیاہ رنگ خوف تارکول کی طرح

زمیں کی ہر سڑک پہ پھر گیا

جہاں صدا کے پنچھیوں کی بے خطر اڑان تھی

وہاں پہ اب خموشیوں کے جال ہیں

Sunday, 19 September 2021

خاک رہ نفع سہی ہجر کمائی ہی سہی

 خاکِ رہ نفع سہی ہجر کمائی ہی سہی

منزلِ وصل نہیں، آبلہ پائی ہی سہی

ضعف تسلیم، مگر جمِ اسیرانِ جفا

کوئی چارہ تو کرو، شورِ دُہائی ہی سہی

رُخ سے پردہ تو ہٹے، محشرِِ دیدار تو ہو

چشمِ خنداں نہ سہی، چشم نمائی ہی سہی

Friday, 11 June 2021

پیاس بجھا سکتے ہو بھوک مٹا سکتے ہو

 پیاس بجھا سکتے ہو، بھوک مٹا سکتے ہو

آنسو پی کر اگلا دھوکہ کھا سکتے ہو

دل کو جانے والا رستہ بند پڑا ہے

آنا ہے تو بس آنکھوں تک آ سکتے ہو

میں اک سمت ہوں اور بھی سمتیں ہیں دنیا میں

تم جس سمت بھی جانا چاہو، جا سکتے ہو

Tuesday, 25 May 2021

مائیں مر کر بھی جاگتی ہیں

 افق کے پار جانے والے آنسو


سفید آنچل کے ایک کونے میں

میرے آنسو سنبھال کر اس طرح وہ بولی

نہ ایسے رونا

اے میرے بچے

یہ زندگی، نام ہے دُکھوں کا

Friday, 4 December 2020

مارگلہ اور تم اور میں

 مارگلہ اور تم اور میں


کوئی پھولوں بھرا جنگل تھا

بھاری خوشبوؤں والا

کسی وادی میں ٹھنڈی سبز رنگت گر رہی تھی

دل بھی گہرائی میں گرتا تھا

گھنے پتوں کے گھیرے دار گہرے سبز بادل تھے

جہاں تنہا کرن نے خود کو ہی رستہ بنایا