شجر کی چھاؤں نہ دی، سایۂ غبار دیا
مجھے تو دشت میں اپنی طلب نے مار دیا
میں تیری رو میں گھڑی دو گھڑی کو آیا تھا
اور اِک زمانہ تِرے دھیان میں گزار دیا
تِرا جمال نہ آفاق بھی سمیٹ سکیں
مِری نگاہ سے دامن کہاں پسار دیا
دل بھرے دیوار و در میں بے نوا کیوں کر ہوا
شہر میں حرفِ وفا رزقِ ہوا، کیوں کر ہوا
تُو میری بانہوں میں تھا اور میں تیری راہوں میں تھا
تیرے میرے درمیاں پھر فاصلہ کیوں کر ہوا
جو میری خاطر نہیں، کیسے اُسے اپنا کہوں
میں نہیں جس میں وہ میرا آئینہ کیوں کر ہوا
اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا
یہ دل کا درد مگر زادِ رہگزر بھی تھا
اسی پہ شہر کی ساری ہوائیں برہم تھیں
کہ اِک دِیا مِرے گھر کی منڈیر پر بھی تھا
یہ جسم و جان تیری ہی عطا سہی، لیکن
تِرے جہان میں جینا مِرا ہُنر بھی تھا
کس تکلف سے ہمیں زیرِ اماں رکھا گیا
آہنی پنجرے میں اپنا آشیاں رکھا گیا
ایک ہی زنجیر تھی، اِس پار سے اُس پار تک
کَج روی کا کوئی وقفہ ہی کہاں رکھا گیا
اب تو ہم آپس میں بھی مِلتے نہیں، کھُلتے نہیں
کس بَلا کا خوف اپنے درمیاں رکھا گیا
دریا تو بَل دکھائے گا اپنے بہاؤ کا
سہنا ہے اِک جہان کو صدمہ کٹاؤ کا
دنیا سے ڈر کے آئے تھے جس کی پناہ میں
چارہ نہیں اب اس کی ہوس سے بچاؤ کا
ہر لَو کو چاٹتی ہوئی بارش کی رات میں
روشن ہے اِک چراغ ابھی دل کے گھاؤ کا
نہیں کہ صرف پرندے اڑا دیے اس نے
سدا بہار شجر بھی جلا دیے اس نے
جو کوہِ زرد سے اترا بڑا سخی بن کر
ہمارے ہاتھ میں کاسے تھما دیے اس نے
یہ حکم ہے کہ انہیں خلعتیں کہا جائے
جو چیتھڑے سے بنامِ خدا دیے اس نے
ہم ایک تیری نظر میں بحال ہونے لگے
تو کتنے آئینہ خانے سوال ہونے لگے
تُو ساتھ تھا تو گھنے سائے بھی سلامت تھے
جدا ہوا تو شجر بھی نڈھال ہونے لگے
کبھی جو تیرے تصور پہ آنچ بھی آئی
دھواں دھواں سے مِرے خدوخال ہونے لگے