Showing posts with label یوسف حسن. Show all posts
Showing posts with label یوسف حسن. Show all posts

Friday, 24 July 2020

اک بے انت سمندر میری منزل اے دریا

اک بے انت سمندر میری منزل اے دریا
لیکن خاک اڑائیں تیرے ساحل اے دریا
ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں
ہم بھی تیرے کنبے میں ہیں شامل اے دریا
سینوں اور زمینوں کو نہ اگر سیراب کریں
تیرا میرا ہونا ہے لاحاصل اے دریا

تیرے آفاق بھی ہیں حیرت میں

تیرے آفاق بھی ہیں حیرت میں
رمز کیا ہے مِری حقیقت میں
تُو کہاں سے پکارتا ہے مجھے
میں تجھے ڈھونڈتا ہوں خلقت میں
ہم نہ اپنے دِیے🪔 بجھائیں گے
کچھ بھی ہو رات کی مشیت میں

Wednesday, 16 November 2016

ہر گام شکست جان و تن ہے

ہر گام شکستِ جان و تن ہے
گلیوں میں غبار موجزن ہے
آسودۂ خواب ہو نہ جاؤں
نس نس اک مدھ بھری تھکن ہے
میرے شب و روز کون دیکھے
دنیا تِرے دھیان میں مگن ہے

اک شان جنوں سے ہے پذیرائی ہماری

اک شانِ جنوں سے ہے پذیرائی ہماری
اب ترکِ محبت میں ہے رسوائی ہماری
مِل اپنی تمنا کی تب و تاب میں ہم سے
دیکھ اپنے خد و خال میں رعنائی ہماری
ہر صبح کسی رخ کے بلاوے پہ گئے ہم
ہر شام کو مقتل سے خبر آئی ہماری

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے
گرد میں گم خواب کی تعبیر ہونا ہے مجھے
جسکی تابندہ تڑپ صدیوں میں بھی سینوں میں بھی
ایک ایسے لمحے کی تفسیر ہونا ہے مجھے
خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و در سے کیا کہوں
کیسے خِشت و خاک سے تعمیر ہونا مجھے

Tuesday, 5 May 2015

شجر کی چھاؤں نہ دی سایہ غبار دیا

شجر کی چھاؤں نہ دی، سایۂ غبار دیا
مجھے تو دشت میں اپنی طلب نے مار دیا
میں تیری رو میں گھڑی دو گھڑی کو آیا تھا
اور اِک زمانہ تِرے دھیان میں گزار دیا
تِرا جمال نہ آفاق بھی سمیٹ سکیں
مِری نگاہ سے دامن کہاں پسار دیا

دل بھرے دیوار و در میں بے نوا کیوں کر ہوا

دل بھرے دیوار و در میں بے نوا کیوں کر ہوا
شہر میں حرفِ وفا رزقِ ہوا، کیوں کر ہوا
تُو میری بانہوں میں تھا اور میں تیری راہوں میں تھا
تیرے میرے درمیاں پھر فاصلہ کیوں کر ہوا
جو میری خاطر نہیں، کیسے اُسے اپنا کہوں
میں نہیں جس میں وہ میرا آئینہ کیوں کر ہوا

اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا

اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا
یہ دل کا درد مگر زادِ رہگزر بھی تھا
اسی پہ شہر کی ساری ہوائیں برہم تھیں
کہ اِک دِیا مِرے گھر کی منڈیر پر بھی تھا
یہ جسم و جان تیری ہی عطا سہی، لیکن
تِرے جہان میں جینا مِرا ہُنر بھی تھا

کس تکلف سے ہمیں زیرِ اماں رکھا گیا

کس تکلف سے ہمیں زیرِ اماں رکھا گیا
آہنی پنجرے میں اپنا آشیاں رکھا گیا
ایک ہی زنجیر تھی، اِس پار سے اُس پار تک
کَج روی کا کوئی وقفہ ہی کہاں رکھا گیا
اب تو ہم آپس میں بھی مِلتے نہیں، کھُلتے نہیں
کس بَلا کا خوف اپنے درمیاں رکھا گیا

دریا تو بل دکھائے گا اپنے بہاؤ کا

دریا تو بَل دکھائے گا اپنے بہاؤ کا
سہنا ہے اِک جہان کو صدمہ کٹاؤ کا
دنیا سے ڈر کے آئے تھے جس کی پناہ میں
چارہ نہیں اب اس کی ہوس سے بچاؤ کا
ہر لَو کو چاٹتی ہوئی بارش کی رات میں
روشن ہے اِک چراغ ابھی دل کے گھاؤ کا

نہیں کہ صرف پرندے اڑا دیے اس نے

نہیں کہ صرف پرندے اڑا دیے اس نے
سدا بہار شجر بھی جلا دیے اس نے
جو کوہِ زرد سے اترا بڑا سخی بن کر
ہمارے ہاتھ میں کاسے تھما دیے اس نے
یہ حکم ہے کہ انہیں خلعتیں کہا جائے
جو چیتھڑے سے بنامِ خدا دیے اس نے

ہم ایک تیری نظر میں بحال ہونے لگے

ہم ایک تیری نظر میں بحال ہونے لگے
تو کتنے آئینہ خانے سوال ہونے لگے
تُو ساتھ تھا تو گھنے سائے بھی سلامت تھے
جدا ہوا تو شجر بھی نڈھال ہونے لگے
کبھی جو تیرے تصور پہ آنچ بھی آئی
دھواں دھواں سے مِرے خدوخال ہونے لگے