Showing posts with label اسد لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label اسد لکھنوی. Show all posts

Tuesday, 3 January 2017

شب وصال سے آگے ترے خیال سے آگے

شبِ وصال سے آگے، تِرے خیال سے آگے
مِری حیات کا قصہ ہے ماہ و سال سے آگے
کہیں پہ سانس ہے ساکن، کہیں پہ درد ہے پیہم 
ملے ہیں زخم جو ہم کو، ہیں اندمال سے آگے
یہ آبلے یہ رسوائی، یہ چشمِ تر یہ تنہائی
یہ خستگی ہنر میرا، ہنر کمال سے آگے

کچھ سوچ مرے یار خدا دیکھ رہا ہے

کچھ سوچ مِرے یار، خدا دیکھ رہا ہے
اس طرح نہ کر وار، خدا دیکھ رہا ہے
یہ مولوی واعظ سے تو کافر ہی بھلے ہم
یوں دین کا پرچار، خدا دیکھ رہا ہے
کب کم ہیں کسی سے یہ فراعینِ زمانہ
یہ طرز، یہ گفتار، خدا دیکھ رہا ہے

Monday, 2 January 2017

رات تو پرائی ہے اس کو صبح جانا ہے

رات تو پرائی ہے، اس کو صبح جانا ہے
اور دن ہے آوارہ،۔ کیا پتا ٹھکانہ ہے
سانس سانس جڑتی ہے دل کا تانا بانا ہے
ٹیم ٹام برسوں کا پل میں لوٹ جانا ہے
نیند کے درختوں پر خواب پھیکے لگتے ہیں
مفلسی کی جیبوں میں خواب کا خزانہ ہے

Wednesday, 28 December 2016

کاش ہوتا مزاج پانی کا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

کاش ہوتا مزاج پانی کا
ہم پہ ہوتا نہ راج پانی کا
پیاس ہی پیاس کربلا اور تم
خون تھا بس خراج پانی کا
سوچا تھا آنکھ بند کر کے حسین
ہو گیا امتزاج پانی کا

خواب تعبیر ہونے والے ہیں

خواب تعبیر ہونے والے ہیں
ہم بھی تحریر ہونے والے ہیں
یہ جو سچ کا الاپ ہیں کرتے
یہ بھی تصویر ہونے والے ہیں
اب دکھاتا ہوں تم کو میں جادو
لفظ شمشیر ہونے والے ہیں

ٹوٹے دل کا ملال کر لوں کیا

ٹوٹے دل کا ملال کر لوں کیا
ربط پھر سے بحال کر لوں کیا
یار مجھ کو اگر اجازت دے
میں بھی تھوڑی دھمال کر لوں کیا
کھو کہ خود کو میں ذات میں تیری
عشق اپنا کمال کر لوں کیا

Wednesday, 9 November 2016

بر صلیب آرزو رات تنہائی دیا

بر صلیبِ آرزو، رات، تنہائی، دِیا
کر رہے تھے گفتگو، رات، تنہائی، دیا
درد کو فرصت نہ تھی، دیکھتے ہی رہ گئے
آنکھ سے بہتا لہو،۔ رات، تنہائی، دیا
کام تھا مشکل مگر عمر بھر کرتے رہے
اک خراشِ دل رفو، رات، تنہائی، دیا

منزلیں کچھ اور ہیں اور رہگزر کچھ اور ہے

منزلیں کچھ اور ہیں اور رہگزر کچھ اور ہے 
آبلے کچھ اور ہیں، لطفِ سفر کچھ اور ہے
تیری نظروں میں ہے سورج میری نظروں میں شرر 
مجھ پہ ظاہر اور ہے،۔ تیری نظر کچھ اور ہے
آپ پر قربان ہوں بزمِ طرب کی رونقیں
میرا حاصل اور ہے مجھ کو ثمر کچھ اور ہے

مجھ کو مشکل نہیں اک پل میں کنارہ کر لوں

مجھ کو مشکل نہیں اک پل میں کنارہ کر لوں
اور چاہوں تو محبت میں گزارا کر لوں
پیار، الفت، ہو کہ عشق و فراق و وصال
سب بلائیں ہیں، بلاؤں کا اتارا کر لوں
مشقِ گِریہ کی ریاضت کا ثمر پایا ہے
آنکھ سے بہتے ہوئے اشک سِتارہ کرلوں