Wednesday, 9 November 2016

مجھ کو مشکل نہیں اک پل میں کنارہ کر لوں

مجھ کو مشکل نہیں اک پل میں کنارہ کر لوں
اور چاہوں تو محبت میں گزارا کر لوں
پیار، الفت، ہو کہ عشق و فراق و وصال
سب بلائیں ہیں، بلاؤں کا اتارا کر لوں
مشقِ گِریہ کی ریاضت کا ثمر پایا ہے
آنکھ سے بہتے ہوئے اشک سِتارہ کرلوں
خونِ دل، زخمِ جگر، اشک فشانی، ماتم
کر چکا ہوں جو کہو تم تو دوبارہ کر لوں
میری منزل، مِرا رستہ، یہ مِرے خواب، یہ گھر
اب تلک میرا ہے جو اس کو ہمارا کر لوں
لُعبتِ حسن کہ پھول اپنی قبائیں کتریں
گر اجازت ہو اسدؔ میں بھی نظارہ کر لوں

اسد لکھنوی

No comments:

Post a Comment