مجھ کو مشکل نہیں اک پل میں کنارہ کر لوں
اور چاہوں تو محبت میں گزارا کر لوں
پیار، الفت، ہو کہ عشق و فراق و وصال
سب بلائیں ہیں، بلاؤں کا اتارا کر لوں
مشقِ گِریہ کی ریاضت کا ثمر پایا ہے
خونِ دل، زخمِ جگر، اشک فشانی، ماتم
کر چکا ہوں جو کہو تم تو دوبارہ کر لوں
میری منزل، مِرا رستہ، یہ مِرے خواب، یہ گھر
اب تلک میرا ہے جو اس کو ہمارا کر لوں
لُعبتِ حسن کہ پھول اپنی قبائیں کتریں
گر اجازت ہو اسدؔ میں بھی نظارہ کر لوں
اسد لکھنوی
No comments:
Post a Comment