غم سے گھبرا کے قیامت کا طلبگار نہ بن
اتنا مایوسِ کرم اے دلِ بیمار نہ بن
خواہش دید ہے تو تابِ نظر پیدا کر
ورنہ بہتر ہے یہی طالبِ دیدار نہ بن
مجھے منظور ہے یہ برق گرا دے مجھ پر
مجھ سے بیگانہ مگر اے نگہِ یار نہ بن
غم سے گھبرا کے قیامت کا طلبگار نہ بن
اتنا مایوسِ کرم اے دلِ بیمار نہ بن
خواہش دید ہے تو تابِ نظر پیدا کر
ورنہ بہتر ہے یہی طالبِ دیدار نہ بن
مجھے منظور ہے یہ برق گرا دے مجھ پر
مجھ سے بیگانہ مگر اے نگہِ یار نہ بن
موسمِ گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا؟
پھول دیکھے جس نے کانٹوں میں وہ دیوانہ چلا
ایک ہی منزل پہ ہر راہی کو جانا تھا مگر
زعم باطل میں چلا جو بھی جداگانہ چلا
اس کے ہر اک گام پر تھی کامرانی ساتھ ساتھ
کارگاہِ دہر میں جو سرفروشانہ چلا
جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں
زمانہ ہنستا ہے ہم پر وہ مسکراتے ہیں
مِری نگاہ سے جب وہ نظر ملاتے ہیں
دلِ غریب کی دنیا اجاڑ جاتے ہیں
ہماری آنکھوں نے ہر انقلاب دیکھا ہے
زمانہ والے ہمیں کس لیے ڈراتے ہیں
چٹک کے غنچے سناتے ہیں کس کا افسانہ
یہ کون آ گیا گلشن میں بے حجابانہ
ہمارا حوصلۂ دل اگر سلامت ہے
بدل ہی دیں گے کسی دن نظام میخانہ
نہ ہوش آئے گا اس کو تِرے کرم کے بغیر
تِری تلاش میں جو ہو گیا ہے دیوانہ
میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بتخانے میں
رند ہوں مجھ کو پڑا رہنے دو مے خانے میں
اس کو سمجھی ہے نہ سمجھے گی مجازی دنیا
ہے حقیقت ہی حقیقت مِرے افسانے میں
لیے پھرتی ہے مجھے منزلِ جاناں کی تلاش
چین حاصل ہے گلستاں میں نہ ویرانے میں