Showing posts with label کشفی لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label کشفی لکھنوی. Show all posts

Wednesday, 17 November 2021

غم سے گھبرا کے قیامت کا طلبگار نہ بن

 غم سے گھبرا کے قیامت کا طلبگار نہ بن

اتنا مایوسِ کرم اے دلِ بیمار نہ بن

خواہش دید ہے تو تابِ نظر پیدا کر

ورنہ بہتر ہے یہی طالبِ دیدار نہ بن

مجھے منظور ہے یہ برق گرا دے مجھ پر

مجھ سے بیگانہ مگر اے نگہِ یار نہ بن

Friday, 12 November 2021

موسم گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا

 موسمِ گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا؟

پھول دیکھے جس نے کانٹوں میں وہ دیوانہ چلا

ایک ہی منزل پہ ہر راہی کو جانا تھا مگر

زعم باطل میں چلا جو بھی جداگانہ چلا

اس کے ہر اک گام پر تھی کامرانی ساتھ ساتھ

کارگاہِ دہر میں جو سرفروشانہ چلا

Wednesday, 3 November 2021

جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں

 جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں

زمانہ ہنستا ہے ہم پر وہ مسکراتے ہیں

مِری نگاہ سے جب وہ نظر ملاتے ہیں

دلِ غریب کی دنیا اجاڑ جاتے ہیں

ہماری آنکھوں نے ہر انقلاب دیکھا ہے

زمانہ والے ہمیں کس لیے ڈراتے ہیں

Saturday, 30 October 2021

چٹک کے غنچے سناتے ہیں کس کا افسانہ

 چٹک کے غنچے سناتے ہیں کس کا افسانہ

یہ کون آ گیا گلشن میں بے حجابانہ

ہمارا حوصلۂ دل اگر سلامت ہے

بدل ہی دیں گے کسی دن نظام میخانہ

نہ ہوش آئے گا اس کو تِرے کرم کے بغیر

تِری تلاش میں جو ہو گیا ہے دیوانہ

Monday, 9 August 2021

میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں

 میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بتخانے میں

رند ہوں مجھ کو پڑا رہنے دو مے خانے میں

اس کو سمجھی ہے نہ سمجھے گی مجازی دنیا

ہے حقیقت ہی حقیقت مِرے افسانے میں

لیے پھرتی ہے مجھے منزلِ جاناں کی تلاش

چین حاصل ہے گلستاں میں نہ ویرانے میں