دل جب خالی ہو جاتا ہے
اور بھی بھاری ہو جاتا ہے
جب تو ساقی ہو جاتا ہے
عشق شرابی ہو جاتا ہے
میں جب تک کچھ طے کرتا ہوں
سب کچھ ماضی ہو جاتا ہے
دل جب خالی ہو جاتا ہے
اور بھی بھاری ہو جاتا ہے
جب تو ساقی ہو جاتا ہے
عشق شرابی ہو جاتا ہے
میں جب تک کچھ طے کرتا ہوں
سب کچھ ماضی ہو جاتا ہے
دستِ ضروریات میں بٹتا چلا گیا
میں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا
پیچھے ہٹا میں راستہ دینے کے واسطے
پھر یوں ہوا کہ راہ سے ہٹتا چلا گیا
عجلت تھی اس قدر کہ میں کچھ بھی پڑھے بغیر
اوراق زندگی کے پلٹتا چلا گیا