Showing posts with label فہمی بدایونی. Show all posts
Showing posts with label فہمی بدایونی. Show all posts

Thursday, 16 May 2024

دل جب خالی ہو جاتا ہے

 دل جب خالی ہو جاتا ہے

اور بھی بھاری ہو جاتا ہے

جب تو ساقی ہو جاتا ہے

عشق شرابی ہو جاتا ہے

میں جب تک کچھ طے کرتا ہوں

سب کچھ ماضی ہو جاتا ہے

Saturday, 19 September 2020

دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا

 دستِ ضروریات میں بٹتا چلا گیا

میں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا

پیچھے ہٹا میں راستہ دینے کے واسطے

پھر یوں ہوا کہ راہ سے ہٹتا چلا گیا

عجلت تھی اس قدر کہ میں کچھ بھی پڑھے بغیر

اوراق زندگی کے پلٹتا چلا گیا

Tuesday, 11 August 2020

آج کی رات دل پہ بھاری ہے

ایک مہماں کا ہجر طاری ہے
میزبانی کی مشق جاری ہے
صرف ہلکی سی بے قراری ہے
آج کی رات دل پہ بھاری ہے
کوئی پنچھی کوئی شکاری ہے
زندہ رہنے کی جنگ جاری ہے

نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہے

نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہے
کہ جیسے شہر میں کرفیو لگا ہے
مِرے سائے میں اس کا نقش پا ہے
بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے
کوئی برباد ہو کر جا چکا ہے 
کوئی برباد ہونا چاہتا ہے

Monday, 10 August 2020

بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا

ذرا محتاط ہونا چاہیے تھا
بغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھا
اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں
بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا
مِری وعدہ خلافی پر وہ چپ ہے
اسے ناراض ہونا چاہیے تھا

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں
ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں
سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے
کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں
ہماری پیاس کو "رانی" بنا لیں
کئی "دریا" یہ کوشش کر رہے ہیں

سہارے جانے پہچانے بنا لوں

سہارے جانے پہچانے بنا لوں
ستونوں پر تِرے شانے بنا لوں
اجازت ہو تو اپنی شاعری سے
تِرے دو چار دیوانے بنا لوں
تِرا سایہ پڑا تھا جس جگہ پر
میں اس کے نیچے تہہ خانے بنا لوں

Sunday, 9 August 2020

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مِرا
کتنا آسان تھا علاج مرا
چارہ گر کی نظر بتاتی ہے
حال اچھا نہیں ہے آج مرا
میں تو رہتا ہوں دشت میں مصروف
قیس کرتا ہے کام کاج مرا

جاہلوں کو سلام کرنا ہے

جاہلوں کو سلام کرنا ہے
اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے
کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
پوچھتی ہے صدائے بال و پر
کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے؟

Saturday, 1 August 2020

تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں

تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں
کیسے ملتا، کہیں پہ تھا ہی نہیں
گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں
زلزلے کا "اثر" گیا ہی نہیں
مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا
میں تِری راہ سے ہٹا ہی نہیں

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح
پھرتا رہتا ہوں میں دعا کی طرح
غم تعاقب میں ہیں سزا کی طرح
تُو چھپا لے مجھے خطا کی طرح
ہے مریضوں میں تذکرہ میرا
آزمائی ہوئی 'دوا' کی طرح

Sunday, 8 December 2019

خواب میں اک حسیں دکھائی دیا

خواب میں اک حسیں دکھائی دیا
وہ بھی پردہ نشیں دکھائی دیا
وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا
میں جہاں تھا وہیں دکھائی دیا
جب تلک تُو نہیں دکھائی دیا
گھر کہیں کا کہیں دکھائی دیا

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے
ہم بھی شمعیں بجھا کے بیٹھ گئے
وقت آیا جو تیر کھانے کا
مشورے دور جا کے بیٹھ گئے
عید کے روز ہم پھٹی چادر
پچھلی صف میں بچھا کے بیٹھ گئے